مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال نے دنیا بھر میں مختلف شعبوں سے وابستہ ماہرین میں اپنی ملازمتوں کے مستقبل کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا انسانوں کی نوکریاں ہمیشہ کے لیے ختم ہونے والی ہیں؟ بل گیٹس نے AI کے خطرے سے خبردار کردیا
گرافک ڈیزائننگ سے لے کر کانٹینٹ رائٹنگ، کسٹمر سروس اور میڈیا تک کئی صنعتوں میں پیشہ ور افراد کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ کمپنیاں انسانی مہارت کے بجائے سستے اور فوری اے آئی ٹولز کو ترجیح دے رہی ہیں۔
اسی تناظر میں برطانیہ میں ایک گرافک ڈیزائنر کا کہنا ہے کہ وہ اے آئی کی وجہ سے اپنا کام کھو رہے ہیں کیونکہ چھوٹی کمپنیاں اپنا مواد خود اے آئی سے بنوا رہی ہیں۔
ایسٹ یارکشائر سے تعلق رکھنے والے ڈینی ولیمز نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مشکل معاشی حالات میں کمپنیاں اے آئی کا راستہ کیوں اختیار کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروباروں کے پاس گرافک ڈیزائن یا بڑے میڈیا پیکس کے لیے فنڈنگ نہیں ہوتی۔
ڈینی ولیمز کے مطابق جب انہوں نے 15 سال پہلے کام شروع کیا تھا تو گرافک ڈیزائنرز کی بہت مانگ تھی لیکن اب صورتحال بدل گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سچ کہوں تو اب مجھے کم کام مل رہا ہے۔
ولیمز نے تسلیم کیا کہ اے آئی زیادہ سے زیادہ قابل رسائی ہوتی جا رہی ہے اور گرافک ڈیزائن کے شعبے کو خود کو بدلنے کی ضرورت ہے لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ جدید طریقوں سے بنائے گئے پوسٹرز میں جدت ختم ہوتی جا رہی ہے اور وہ ایک جیسے لگنے لگے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ انہیں دیکھ کر تنگ آ چکے ہیں کیوں کہ سستا ہمیشہ بہترین نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آخر میں یہ آپ کے کاروبار کا چہرہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ سلسلہ پھر واپس آئے گا کیونکہ لوگ لفظی طور پر اے آئی کو دیکھ کر تنگ آ چکے ہیں اور وہ اے آئی پر بھروسہ نہیں کرتے۔
دوسری جانب ایسٹ یارکشائر کے پولنگٹن میں دی کنگز ہیڈ پب کی مالکن کلیئر ہاولیٹ نے کہا کہ وہ اپنی سوشل میڈیا مارکیٹنگ کا زیادہ تر مواد اے آئی سے بناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اب تک اپنی تمام تشہیر خود کی ہے اور شاید مستقبل میں اگر کاروبار بڑا ہو گیا تو میں گرافک ڈیزائنر کی خدمات لوں لیکن اس وقت ہمارے لیے دستیاب اے آئی ٹولز ہمارے مقصد کے لیے بالکل ٹھیک ہیں۔
مزید پڑھیے: وکلا اور اکاؤنٹنٹس کی ملازمتیں شدید خطرے میں: مائیکروسافٹ اے آئی کے سربراہ کا انتباہ
کلیئر ہاولیٹ نے کہا کہ جہاں تک میرا تعلق ہے میں بہترین، سستا اور سب سے آسان آپشن چاہتی ہوں جو اس وقت اے آئی ہے۔
ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن کے سی ای او اسٹیفن ووڈفورڈ نے کہا کہ صنعت اے آئی کو اپنانے کے ذریعے تیز رفتار تبدیلی دیکھ رہی ہے لیکن سخت قوانین پر عمل کرنا ضروری ہے۔
ووڈفورڈ نے کہا کہ ایسوسی ایشن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ برطانیہ کی ایڈورٹائزنگ انڈسٹری اے آئی کی افادیت سے فائدہ اٹھائے جبکہ اعلیٰ تخلیقی معیار، عوامی اعتماد اور اخلاقی تحفظات کو برقرار رکھے۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی بہت زیادہ قابل ہے لیکن کچھ چیزیں ہیں جو یہ نہیں کر سکتا۔
ووڈفورڈ نے کہا کہ اشتہارات ایک بہت زیادہ ریگولیٹڈ انڈسٹری ہے جس میں شائع ہونے والا مواد مہذب، ایماندار اور سچا ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: کوڈنگ کرنے والے نیا کیریئر ڈھونڈ لیں‘، اے آئی انقلاب کے بعد وارننگ جاری
ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کسی برانڈ یا کاروبار کی جانب سے عوامی سطح پر کچھ پیش کر رہے ہیں تو آپ کو بالکل یقین ہونا چاہیے کہ وہ اس کاروبار کی ایمانداری اور سالمیت کے ساتھ نمائندگی کر رہا ہے اور قوانین کے مطابق ہے۔














