پاکستان کی معاشی کارکردگی کے ششماہی جائزے کے لیے آئی ایم ایف مشن 23 ستمبر کو پاکستان پہنچے گا 

جمعرات 10 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایک وفد 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی مدت کے لیے پاکستان کی معاشی کارکردگی، 7 ارب ڈالر کے توسیع شدہ فنڈ سہولت اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فنڈ کے ششماہی جائزے کے لیے 23 ستمبر کو پاکستان کا دورہ کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کی کڑی شرط، پیٹرول، ڈیزل سستا ہوگا یا نہیں؟ وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز نے حقیقت بتا دی

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 37 ماہ کے طویل 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت کام کر رہا ہے جس کا مقصد مالیاتی ڈسپلن، ساختاتی اصلاحات اور دیرپا معاشی نمو کے ذریعے ملکی معیشت کو مستحکم بنانا ہے۔

دورے کی تفصیلات اور ملاقاتوں کا شیڈول

آئی ایم ایف اسٹاف مشن کی قیادت آئیوا پیٹرووا کریں گی۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک جاری رہنے والے اس تقریباً 2ہفتے طویل دورے کے دوران توسیع شدہ فنڈ سہولت کے چوتھے اور ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فنڈ کے تیسرے جائزے مکمل کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیے: آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بجلی سبسڈی کی اجازت دے دی

وفد اپنے دورے کا آغاز اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ ٹیکنیکل مذاکرات سے کرے گا جس کے بعد وفاقی وزیر مالیات محمد اورنگزیب سے روایتی افتتاحی ملاقات اور مختلف سرکاری شعبہ جات کی ٹیموں سے اجلاس ہوں گے۔

اہم جائزہ اور چیلنجز

مذاکرات میں نئے مالی سال کے آغاز پر پالیسیوں پر عمل درآمد، خاص طور پر ایف بی آر کی محصولات کی وصولی کی صلاحیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ ایف بی آر کی سالانہ ہدف میں بار بار کی ناکامیوں کے پیشِ نظر اس بار پہلی 6 ماہی کا سٹرکچرل بینچ مارک پورا کرنے کی تیاریوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

اسی طرح صوبائی حکومتوں کی جانب سے قومی مالیاتی کمیشن یعنی ایف ایف سی کے حصے سے قومی سلامتی اور آبی وسائل کے لیے 1.035 کھرب روپے سے زائد رقم مرکز کو سرینڈر کرنے اور آئی ایم ایف کے دباؤ پر 1.8 کھرب روپے کے کیش سرپلس کے وعدے کے بعد یہ پہلا باضابطہ جائزہ ہوگا۔

کارکردگی اور خامیاں

رپورٹ کے مطابق 30 جون 2026 تک مالیاتی اور مانیٹری اہداف بنیادی طور پر درست سمت میں رہے ہیں تاہم ٹیکس امدنی کی کمی اور اجناس کی مارکیٹ (خاص طور پر گندم اور چینی) میں حکومت کی مداخلت جیسے خدشات قائم ہیں، جو کہ آئی ایم ایف کی شرط کے منافی ہیں۔

اس کے علاوہ گڈ گورننس کی اصلاحات میں پیشرفت سست روی کا شکار رہی ہے۔ جنوری سے جون 2026 کے دوران معاشی گورننس کی بہتری کے لیے طے کردہ تین درجن سے زائد اہداف میں سے صرف چند ہی حاصل کیے جا سکے ہیں۔ سرکاری اداروں میں بلا مقابلہ کنٹریکٹس دینے کے عمل کا خاتمہ ابھی پوری طرح ممکن نہیں ہو سکا۔

اگر یہ جائزہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو نومبر کے آخر یا دسمبر کے اوائل تک پاکستان کو توسیع شدہ فنڈ سہولت کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر جبکہ اور ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فنڈ (آر ایس ایف) کے تحت مزید 200 ملین ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا، 1.2 ارب ڈالر ملیں گے

قبل ازیں جولائی میں آئی ایم ایف کے نمائندے ماہر بنچی نے سنہ 2024 کے پروگرام کے تحت پاکستان کے معاشی اصلاحاتی اقدامات کی تعریف کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp