اسلام آباد میں منعقدہ قومی مباحثے میں سیاسی و صحافتی رہنماؤں نے موجودہ نظام کو مکمل ناکام قرار دیتے ہوئے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر قرار دے دیا ہے۔
مقررین نے متنبہ کیا ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور بہتر گورننس کے لیے چھوٹے صوبے نہ بنائے گئے تو ملک میں انارکی پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔
وفاقی دارالحکومت کے نیشنل پریس کلب میں ہزارہ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے ‘چھوٹے صوبے و انتظامی یونٹس’ کے موضوع پر ایک اہم قومی مباحثہ منعقد ہوا۔
اس تقریب میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، اراکینِ پارلیمنٹ اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض ایسوسی ایشن کے صدر لقمان شاہ اور جنرل سیکرٹری نوید الرحمان نے ادا کیے۔
نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اور چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پورے ملک سے چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ نئے صوبوں کا قیام اشد ضرورت بن چکا ہے جس پر اب پارلیمنٹ میں باضابطہ بحث ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ملک میں ڈویژن بن سکتے ہیں تو صوبے کیوں نہیں، نئے صوبے بنانے کا مطلب کوئی علیحدہ ملک بنانا ہرگز نہیں ہے۔
قراردادیں نظر انداز کرنے پر انارکی کا خدشہ
سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے موجودہ صورتحال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صرف ایک پہیے پر چل رہی ہے اور عوام کا اس نظام میں کوئی عمل دخل نہیں۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ صوبائی اسمبلیوں سے متفقہ قراردادیں منظور ہونے کے باوجود نئے صوبے نہ بنانا ملک کو انارکی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک بار منظور ہونے والی قراردادیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔
چترال اور مالاکنڈ کو الگ صوبہ بنانے کی تجویز
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ وہ 2010 سے صوبہ ہزارہ کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔
انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے 400 ارب روپے کی نچلی سطح پر 100 ارب روپے کی بھی عدم منتقلی پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ خیبر پختونخوا سے ہٹ کر چترال اور پورے مالاکنڈ پر مشتمل الگ صوبہ بنایا جائے۔
بہتر گورننس اور عالمی ماڈلز کی پیروی
پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے شہزادہ گشتاسپ خان نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کی تحریک نفرت کی بنیاد پر نہیں بلکہ بہتر گورننس کا ایک انتظامی تقاضا ہے۔
استحکام پاکستان پارٹی کے ایم این اے گل اصغر خان نے عالمی ماڈلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ 60 ریاستوں، چین 32 ریاستوں اور بھارت 28 انتظامی یونٹس میں تقسیم ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ انتظامی یونٹس بننے سے ملک کو کوئی نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہوتا ہے۔
موجودہ نظام کولیپس کر چکا ہے، عمار مسعود
سینیئر صحافی عمار مسعود نے ملکی نظام کی ابتر صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ صحت اور ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل تباہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ موجودہ نظام کولیپس کر چکا ہے، لہٰذا شہریوں کی سہولت کے لیے نئے انتظامی یونٹس بنانا اور بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
شرکا اور صحافیوں کی کثیر تعداد میں شرکت
اس مباحثے میں ایم پی اے سونیا شاہ، ایم کیو ایم کے صفیان چیمہ ایڈووکیٹ، پروفیسر سجاد قمر، جنید قاسم، اور سردار یاسر کڑلال نے بھی خطاب کیا۔
علاوہ ازیں ہزارہ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداران محمد پرویز، ملک مرتضیٰ، ارشد خان تنولی، راحیل سواتی، عادل خان، محبوب الرحمان تنولی، سبوخ سید، شکیل پسوال، ابرار ولی، یاسر نذر، عبد الرشید خان، بلال فرید سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔













