سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے ’اسٹیٹس کو‘ کوئی آپشن نہیں ہے اور عوام کو نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی اب ناگزیر ہوچکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، اراکین پارلیمنٹ کیا کہتے ہیں؟
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ صرف نئے یا چھوٹے صوبوں کا قیام نہیں بلکہ عوام کو اقتدار، وسائل اور فیصلہ سازی میں حقیقی شراکت دینا ہے۔
ان کے مطابق ملک کا موجودہ نظام ایک ایسے قبضے کا شکار ہے جس میں حکمران طبقہ خود کو مکمل بااختیار سمجھتا ہے جبکہ عوام کا اقتدار میں عملی حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
محمد علی درانی نے کہا کہ عوام موجودہ صورت حال میں اپنا وجود محفوظ نہیں سمجھتے اور وہ تبدیلی چاہتے ہیں جبکہ حکمران طبقہ موجودہ نظام برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ان کے بقول پاکستان کا پورا نظام ایک پہیے کی گاڑی بن چکا ہے جس میں حکمران تو شامل ہیں لیکن عوام اس کا مؤثر حصہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں حکومت کا تصور عوام کی شراکت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ ان ممالک میں بھی جہاں جمہوری نظام پاکستان سے مختلف ہے، مقامی حکومتوں کا ایسا نظام موجود ہے جس کے ذریعے عوام اپنے روزمرہ معاملات کے فیصلوں میں شریک ہوتے ہیں۔ بڑے ممالک میں پالیسی سازی بھی عوامی شمولیت کے بغیر نہیں ہوتی۔ انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 60 فیصد سے زیادہ بجٹ مقامی اداروں کے ذریعے خرچ ہوتا ہے جبکہ جرمنی اور فرانس میں بھی مقامی سطح پر وسائل کی منتقلی کا مؤثر نظام موجود ہے۔
78 برس بعد بھی بنیادی سہولتیں عوام تک نہیں پہنچ سکیں
محمد علی درانی نے کہا کہ پاکستان کو قائم ہوئے تقریباً 78 برس گزرنے کے باوجود ملک میں بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔ سڑکیں، اسپتال اور معیاری تعلیمی نظام مطلوبہ سطح پر موجود نہیں، تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی نکاسیٔ آب کا مناسب نظام اور مؤثر عوامی نقل و حمل دستیاب نہیں۔
مزید پڑھیے: ملکی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبے بنانا ناگزیر ہے، چین میں موجود پاکستانیوں کی رائے
انہوں نے کہا کہ عوامی فلاح کے منصوبوں کی کمی کی بنیادی وجہ اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک عدم منتقلی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں مقامی حکومتوں کا مؤثر نظام طویل عرصے سے موجود نہیں اور آئین میں بھی اسے ایسی مضبوط ضمانت حاصل نہیں جو اسے صوبائی حکومتوں کے برابر تحفظ دے سکے۔
اشرافیہ کا قبضہ، بیوروکریسی اور دیگر طاقتور حلقے نظام کا حصہ
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں اشرافیہ کا ایک ایسا قبضہ قائم ہوچکا ہے جس میں وہ طبقہ شامل ہے جسے برطانوی دور سے وراثت میں اختیارات ملے، بیوروکریسی بھی اس کا حصہ ہے، طاقتور ادارے بھی اس نظام کا جزو ہیں اور عدلیہ کو بھی ضرورت کے مطابق اس میں شامل کرلیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق یہ ایک ایسا مکمل اختیار رکھنے والا گروہ بن چکا ہے جو خود کو ہر لحاظ سے بااختیار محسوس کرتا ہے اور اسے عوام کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے نتائج کو بھی مختلف ادوار میں اپنی مرضی کے مطابق بنانے اور انتخابات کو منظم کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں، جس کے نتیجے میں عوام اور ریاستی نظام کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے اور عوام کی محکومی میں اضافہ ہوا۔
بہاولپور صوبے کی تحریک کی تاریخی بنیاد تھی
محمد علی درانی نے بتایا کہ انہوں نے سنہ 1982 سے سنہ 1989 کے دوران پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث، بالخصوص بہاولپور صوبے کے قیام کے لیے کام کیا۔ ان کے مطابق بہاولپور کی تحریک کی تاریخی بنیاد بھی موجود تھی، کیونکہ پاکستان کے قیام کے وقت بہاولپور اور خیرپور کو صوبائی حیثیت حاصل تھی اور حکومت پاکستان نے ان ریاستوں سے آئین بننے کے بعد صوبائی حیثیت دینے کا وعدہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سنہ 1954 کے آئینی عمل میں بہاولپور کو صوبائی حیثیت دی گئی، لیکن ون یونٹ کے قیام کے وقت اسے ختم کردیا گیا۔ بعد میں سنہ 1970 کے آئینی بندوبست میں بھی بہاولپور کو پنجاب اور خیرپور کو سندھ میں ضم کردیا گیا۔
ان کے مطابق بہاولپور میں اس فیصلے کے خلاف تحریک چلی، جلوس نکلے اور سنہ 1970 اور سنہ 1971 کے انتخابات میں صوبے کے حامی امیدوار کامیاب ہوئے۔
مزید پڑھیں: وی ایکسکلوسیو: سندھ کے علاوہ جہاں بھی ضرورت ہو نئے صوبے بننے چاہییں، قمر زمان کائرہ
انہوں نے کہا کہ 3 سال تک چلنے والی اس تحریک کے نتیجے میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو اس کے سامنے اپنی پوزیشن تبدیل کرنا پڑی۔ ان کے مطابق یہ تحریک کسی پس پردہ طاقت یا ادارے کی حمایت کے بغیر زمین سے اٹھی اور سیاسی جماعتوں نے بعد میں اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔
بلدیاتی ادارہ وہ ہے جسے وزیراعلیٰ ختم نہ کرسکے
محمد علی درانی نے واضح کیا کہ صوبے بنانے کی بحث سے پہلے مضبوط بلدیاتی اداروں کا قیام ضروری ہے۔ ان کے مطابق حقیقی بلدیاتی ادارہ وہ ہے جسے وزیراعلیٰ ختم نہ کرسکے اور جس کے مالی وسائل کی تقسیم قانون کے ذریعے محفوظ ہو۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے 18ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا اور پارلیمان میں وہ واحد رکن تھے جنہوں نے ایسا کیا۔ ان کے مطابق ان کا اعتراض یہ تھا کہ ترمیم کے ذریعے صوبوں کا مالی حصہ تو بڑھایا جارہا ہے لیکن انہیں پابند نہیں کیا جارہا کہ وہ یہ وسائل عوام تک منتقل کریں۔
مشرف دور کا بلدیاتی نظام بھی سیاسی تبدیلی کے بعد ختم ہوگیا
محمد علی درانی نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں سنہ 2001 میں نیا بلدیاتی نظام بنایا گیا اور سنہ 2002 کے انتخابات کے بعد اس پر عمل شروع ہوا، تاہم سیاسی حکومتوں کی واپسی کے ساتھ یہ نظام کمزور ہوتا گیا۔ ان کے مطابق پنجاب نے سب سے پہلے پولیس آرڈیننس ختم کیا اور 2008-09 کے بعد بلدیاتی نظام تقریباً مکمل طور پر ختم ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ آج جو بلدیاتی ادارے موجود ہیں وہ محض نام کے ادارے ہیں، ان کے پاس حقیقی اختیار نہیں۔ دنیا بھر میں مقامی حکومتوں کو وہی آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے جو صوبائی حکومتوں کو حاصل ہے، حتیٰ کہ بھارت میں بھی وزیراعلیٰ کسی بلدیاتی ادارے کو اپنی مرضی سے ختم نہیں کرسکتا۔
وسائل عوام تک نہ پہنچنے سے ملکی معیشت بھی متاثر ہورہی ہے
محمد علی درانی نے کہا کہ عوام کو وسائل اور اختیارات دینے کا تعلق صرف سیاسی شراکت سے نہیں بلکہ ملکی معیشت سے بھی ہے۔ جب وسائل نچلی سطح تک پہنچتے ہیں تو ملک میں معاشی ترقی پیدا ہوتی ہے لیکن پاکستان میں یہ عمل نہ ہونے کے باعث معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
بہاولپور کو آبادی کے تناسب سے اربوں روپے کا حصہ مل سکتا تھا
محمد علی درانی نے بہاولپور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سنہ 2008 یا سنہ 2009 میں انہوں نے قومی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈ میں آبادی کے تناسب سے بہاولپور کے حصے کا حساب لگایا تو یہ رقم تقریباً 43 سے 45 ارب روپے بنتی تھی، جبکہ اس علاقے کے لیے حکومت کی جانب سے مختص رقم ایک ارب روپے سے بھی کم تھی۔
یہ بھی پڑھیے: نئے صوبے عوام کی مرضی سے بننے چاہییں، تحفظات دور ہونے تک ن لیگ کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے، بلاول بھٹو
انہوں نے کہا کہ بہاولپور کی آبادی تقریباً ساڑھے 14 فیصد ہے لیکن اعلیٰ صوبائی خدمات میں اس علاقے کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ صوبائی محکموں میں بھی بڑی تعداد میں ایسے افراد موجود ہیں جن کا تعلق لاہور کے گردونواح سے ہے۔
سیاسی جماعتیں اختیار چھوڑنے کے لیے تیار نہیں
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے اختیار نچلی سطح تک منتقل کرنا آسان نہیں کیونکہ ان کے ارکان اسمبلی کا سیاسی کردار اکثر چھوٹے ترقیاتی منصوبوں، سڑکوں، نلکوں، کالجوں اور ٹیوب ویلوں کے افتتاح تک محدود کردیا گیا ہے۔
ان کے مطابق جب ایک رکن اسمبلی اپنی سیاسی اہمیت کو انہی اختیارات سے جوڑتا ہو تو وہ یہ اختیار چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے اس تبدیلی کی توقع مشکل ہے کیونکہ اختیار پر قابض گروہ اپنا ایک انچ بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
سیاسی جماعتوں کے ذریعے آئینی راستہ اختیار کرنے کی گنجائش موجود ہے
محمد علی درانی نے کہا کہ اگرچہ بڑی سیاسی جماعتیں اس معاملے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، تاہم انہیں مکمل طور پر نظر انداز کیے بغیر آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے راستہ نکالا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہاولپور اور ہزارہ جیسے علاقوں کو صوبائی حیثیت دینے کا مطالبہ آئینی تقاضوں کے اعتبار سے آگے بڑھایا گیا، لیکن اس کے باوجود یہ صوبے قائم نہیں ہوسکے۔ ان کے مطابق بعض حکام نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ سابق اسمبلیوں کی منظور کردہ قراردادیں ختم ہوچکی ہیں، حالانکہ کسی اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد محض اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے لازماً بے معنی نہیں ہوجاتی۔
ان کے مطابق اصل رکاوٹ یہ خوف ہے کہ اگر ایک نیا صوبہ بن گیا تو نئے صوبوں کے مطالبات کے لیے راستہ کھل جائے گا۔
بہاولپور اور ہزارہ کو تجرباتی ماڈل بنایا جاسکتا ہے
محمد علی درانی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے ذریعے بھی اس مسئلے پر پیشرفت ممکن ہے۔ ان کے مطابق بہاولپور اور ہزارہ کو نئے صوبوں کے طور پر قائم کرکے انہیں ایک نمونہ بنایا جاسکتا ہے کیونکہ دونوں علاقوں میں متوسط طبقہ اور تعلیم یافتہ آبادی موجود ہے۔ اگر یہ دونوں صوبے کامیاب ماڈل قائم کردیں تو دوسرے علاقوں کے لیے بھی راستہ کھل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑی سیاسی جماعتیں کسی بھی ممکنہ چیلنج کو ابتدا ہی میں دبانے کی کوشش کرتی ہیں۔ بہاولپور کی تحریک کے دوران بھی پہلے سیاسی جماعتوں نے اس کے حق میں قراردادیں منظور کیں لیکن جب انتخابات میں اس کے حامی کامیاب ہوئے تو اسمبلی میں معاملہ مؤخر کردیا گیا۔
سال2024 کے انتخابات نے بھی سیاسی نظام کے لیے نئی صورت حال پیدا کردی
محمد علی درانی نے سال 2024 کے انتخابات کو موجودہ سیاسی صورت حال کا ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران جماعتیں فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آنے کے تاثر کے باوجود یہ نہیں دیکھ رہیں کہ ان کے پاس مستقبل کے حقیقی سیاسی مقابلے کے لیے مضبوط ووٹ بینک موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان جماعتوں کے پاس اپنے اتحادیوں اور منتخب افراد کو دباؤ میں رکھنے کے لیے بھی وہ عوامی حمایت موجود نہیں جو حقیقی انتخابات میں درکار ہوتی ہے۔ اگر مستقبل میں ان کے پاس فارم 47 جیسا سہارا بھی نہ ہو تو ان کی سیاسی قوت مزید محدود ہوسکتی ہے۔
عوام کو اختیار ملنے کا مطلب فوری طور پر دودھ اور شہد کی نہریں نہیں
محمد علی درانی نے کہا کہ عوام کو اختیار منتقل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ملک میں فوری طور پر دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہوجائیں گی۔ اختیار کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے اور عوامی اداروں کو بھی اپنے فیصلوں کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں کون سے نئے صوبے بننے چاہییں؟ اراکین پارلیمنٹ کی رائے
انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عوامی طاقت سے آنے کے باوجود مقامی سطح پر اختیارات کی تقسیم کے بعد بعض ایسی خرابیاں پیدا ہوئیں جنہوں نے نظام کو متاثر کیا۔
سنہ 1977 کے انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس وقت انتخابی ٹکٹوں کا معاملہ بھی بیوروکریسی کے اثر و رسوخ سے جڑا ہوا تھا۔
وسائل کی تقسیم سے پسماندہ علاقوں میں معاشی سرگرمی بڑھے گی
محمد علی درانی نے کہا کہ اگر دولت کی تقسیم اور قومی مالیاتی کمیشن کے فارمولے کے تحت وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں تو پسماندہ اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں وسائل کا ایک بڑا بہاؤ شروع ہوسکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس عمل کے نتیجے میں بدعنوانی بھی ہوسکتی ہے اور وسائل کے غلط استعمال کے الزامات بھی سامنے آسکتے ہیں لیکن مجموعی طور پر معاشی سرگرمی علاقائی سطح پر منتقل ہوگی۔ ان کے مطابق دنیا کے کئی ممالک کی تاریخ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وسائل کی علاقائی تقسیم سے ترقی کا عمل مضبوط ہوتا ہے، اگرچہ یہ تبدیلی بتدریج آتی ہے۔
2 تہائی اکثریت کے سوال پر سیاسی حکمت عملی ضروری ہے
نئے صوبے کے قیام کے لیے آئینی طریقہ کار کے حوالے سے محمد علی درانی نے کہا کہ وہ اسے محض طاقت یا غیر آئینی اقدامات کے ذریعے حل کرنے کے بجائے سیاسی حکمت عملی سے آگے بڑھانے کے حامی ہیں۔
ان کے مطابق اگر عوام کو یہ یقین دلایا جائے کہ نئے صوبے کے نتیجے میں ان کے علاقے کو زیادہ وسائل، بہتر انتظام اور ترقی کے مواقع ملیں گے تو عوام خود سیاسی عمل میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم کے ذریعے بھی راستہ نکالا جاسکتا ہے، تاہم عوامی شمولیت کے بغیر کسی تبدیلی کی کوشش مؤثر نہیں ہوگی۔
مزید پڑھیے: 6 ماہ کے اندر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ، کیا نئی آئینی ترمیم آرہی ہے؟
محمد علی درانی کا کہنا ہے کہ ہر معاملے کو غیر آئینی راستے یا طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش مسئلے کو مزید پیچیدہ کرسکتی ہے۔













