9/11  کے 25 سال: امریکا نے کیا سیکھا اور کون سی غلطیاں اب بھی دہرائی جا رہی ہیں؟

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کو 25 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ القاعدہ کے حملہ آوروں نے 4 مسافر طیارے اغوا کیے، جن میں سے 2 نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور ایک واشنگٹن کے قریب پینٹاگون سے ٹکرائے، جبکہ چوتھا طیارہ پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوا۔ حملوں میں قریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے اور اس واقعے نے عالمی سیاست کا رخ تبدیل کردیا۔

مزید پڑھیں:9/11 کے بعد فضائی آلودگی: نیویارک میں 170 ہزار صفحات پر مشتمل ریکارڈ منظرعام پر

9/11 کے بعد امریکا نے دہشتگردی کے خلاف طویل جنگ کا آغاز کیا، پہلے افغانستان میں کارروائی کی گئی جہاں القاعدہ کی قیادت موجود تھی، پھر 2003 میں عراق پر حملہ کیا گیا۔ عراق پر حملے کی بڑی وجہ مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی تھی، لیکن بعد میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔

ان جنگوں نے امریکا کو بھاری مالی، سیاسی اور انسانی قیمت چکانے پر مجبور کیا۔ افغانستان میں قریباً 2 دہائیوں کی جنگ کے بعد امریکی فوج واپس چلی گئی، جبکہ عراق میں بھی طویل فوجی مداخلت کے باوجود خطے میں مستقل استحکام حاصل نہ ہوسکا۔ 9/11 کے بعد شروع ہونے والی یہ جنگیں امریکی خارجہ پالیسی اور دنیا میں اس کے کردار پر آج بھی اثرانداز ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ میں موجودہ امریکی ایران جنگ کے تناظر میں بھی ماضی سے سبق سیکھنے پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طویل جنگوں کے سیاسی نقصانات، مضبوط حریف کے خلاف غیر واضح حکمت عملی اور جنگ کے اختتام کا واضح منصوبہ نہ ہونا وہ اہم اسباق ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف موجودہ امریکی کارروائی افغانستان اور عراق سے مختلف ضرور ہے، کیونکہ امریکا زیادہ تر فضائی اور بحری طاقت استعمال کررہا ہے، تاہم 6 ماہ سے جاری جنگ کے باوجود تنازع ختم ہونے کے واضح آثار نظر نہیں آرہے۔

تجزیہ کار خبردار کررہے ہیں کہ یہ جنگ بھی طویل کشمکش میں تبدیل ہوسکتی ہے اور اس کے معاشی و سیاسی اثرات امریکی عوام اور عالمی سطح پر محسوس کیے جاسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:نیویارک: ڈرونز سے جڑواں ٹاورز کی شبیہ بنا کر نائن 11 حملوں میں نشانہ بننے والوں کو خراج عقیدت

9/11 کی 25ویں برسی ایک بار پھر یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ سے دنیا نے کیا سیکھا؟

بی بی سی کے مطابق سب سے اہم سبق یہ ہے کہ فوجی طاقت کے استعمال کے ساتھ جنگ کے واضح مقاصد، سیاسی حکمت عملی، اختتامی منصوبے اور طویل المدت نتائج کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے، ورنہ ایک بحران ختم کرنے کی کوشش ایک نئی اور طویل جنگ کا آغاز بن سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp