11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کو 25 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ القاعدہ کے حملہ آوروں نے 4 مسافر طیارے اغوا کیے، جن میں سے 2 نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور ایک واشنگٹن کے قریب پینٹاگون سے ٹکرائے، جبکہ چوتھا طیارہ پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوا۔ حملوں میں قریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے اور اس واقعے نے عالمی سیاست کا رخ تبدیل کردیا۔
مزید پڑھیں:9/11 کے بعد فضائی آلودگی: نیویارک میں 170 ہزار صفحات پر مشتمل ریکارڈ منظرعام پر
9/11 کے بعد امریکا نے دہشتگردی کے خلاف طویل جنگ کا آغاز کیا، پہلے افغانستان میں کارروائی کی گئی جہاں القاعدہ کی قیادت موجود تھی، پھر 2003 میں عراق پر حملہ کیا گیا۔ عراق پر حملے کی بڑی وجہ مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی تھی، لیکن بعد میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔
Ahead of the 25th anniversary of the 9/11 attacks, 2,977 drones lit up the sky over New York Harbor, each representing a life lost on that tragic day.
This breathtaking tribute stands as a solemn reminder of America’s resilience and the extraordinary courage of the heroes and… pic.twitter.com/PYVIkTmlaX
— Secretary Sean Duffy (@SecDuffy) September 11, 2026
ان جنگوں نے امریکا کو بھاری مالی، سیاسی اور انسانی قیمت چکانے پر مجبور کیا۔ افغانستان میں قریباً 2 دہائیوں کی جنگ کے بعد امریکی فوج واپس چلی گئی، جبکہ عراق میں بھی طویل فوجی مداخلت کے باوجود خطے میں مستقل استحکام حاصل نہ ہوسکا۔ 9/11 کے بعد شروع ہونے والی یہ جنگیں امریکی خارجہ پالیسی اور دنیا میں اس کے کردار پر آج بھی اثرانداز ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ میں موجودہ امریکی ایران جنگ کے تناظر میں بھی ماضی سے سبق سیکھنے پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طویل جنگوں کے سیاسی نقصانات، مضبوط حریف کے خلاف غیر واضح حکمت عملی اور جنگ کے اختتام کا واضح منصوبہ نہ ہونا وہ اہم اسباق ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف موجودہ امریکی کارروائی افغانستان اور عراق سے مختلف ضرور ہے، کیونکہ امریکا زیادہ تر فضائی اور بحری طاقت استعمال کررہا ہے، تاہم 6 ماہ سے جاری جنگ کے باوجود تنازع ختم ہونے کے واضح آثار نظر نہیں آرہے۔
For those who are 26 years old or younger, this clip is NOT Ai.
It’s when Islamists hijacked passenger aircraft, killed crew members and crashed the planes into the twin towers.
You may be supporting Hamas and “the resistance” but September 11, 2001 is when it started. pic.twitter.com/l6oA34qDaW
— RealPatriot DT (@RealPatriotDT26) September 11, 2026
تجزیہ کار خبردار کررہے ہیں کہ یہ جنگ بھی طویل کشمکش میں تبدیل ہوسکتی ہے اور اس کے معاشی و سیاسی اثرات امریکی عوام اور عالمی سطح پر محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نیویارک: ڈرونز سے جڑواں ٹاورز کی شبیہ بنا کر نائن 11 حملوں میں نشانہ بننے والوں کو خراج عقیدت
9/11 کی 25ویں برسی ایک بار پھر یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ سے دنیا نے کیا سیکھا؟
بی بی سی کے مطابق سب سے اہم سبق یہ ہے کہ فوجی طاقت کے استعمال کے ساتھ جنگ کے واضح مقاصد، سیاسی حکمت عملی، اختتامی منصوبے اور طویل المدت نتائج کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے، ورنہ ایک بحران ختم کرنے کی کوشش ایک نئی اور طویل جنگ کا آغاز بن سکتی ہے۔














