مشرق کے لیے بوجھ بنتا انڈیا

جمعرات 10 ستمبر 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پچھلے چند سالوں سے سال کی آخری ششماہی میں گلوبل ساؤتھ  کے 3 بڑے ایونٹس منعقد ہوتے آرہے ہیں۔ ان ایونٹس کا گہرا عالمی اثر یہ ہے کہ یہ ان ممالک کے ایونٹس ہیں جو ابھرتے مشرق کی چال ترتیب بھی دے رہے ہیں اور اس چال سے خود کو ہم آہنگ رکھنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

ان ایونٹس میں سے پہلا تو ایس سی او سمٹ ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس ایونٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ تقریبا مکمل طور پر ایشیائی فورم ہے۔ اور ایشیا میں بھی یہ خاص طور پر ان ممالک پر مشتمل ہے جو جنوبی ایشین اور سینٹرل ایشین ممالک کہلاتے ہیں۔ اس خاص جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر اس فورم کو ابھرتے مشرق کا قلب بھی کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ یہ ممالک مشرق کے 2 طاقتور ترین ممالک چین اور روس کی بریکٹ میں پائے جاتے ہیں۔

اس فورم کا سربراہی اجلاس عام طور پر 31 اگست سے یکم ستمبر تک ہوتا ہے۔ اس کے دو روز بعد روس کے شہر ویلادی واسٹوک میں ہر سال ایسٹرن اکنامک فورم منعقد ہوتا ہے۔ اس رشین ایونٹ کے مہمان مشرق بعید کے ممالک ہوتے ہیں مگر اب اس میں افریقی ممالک بھی بطور خاص بلائے جاتے ہیں۔  اور یہ ایونٹ انہی 2 خطوں کے ممالک کے لیے منعقد ہوتا ہے۔ یوں ایس سی او اور ایسٹرن اکنامک فورم گویا پورے مشرق کا احاطہ کر لیتے ہیں۔

گلوبل ساؤتھ کا تیسرا ایونٹ برکس سمٹ ہوتا ہے۔ برکس کے ذریعے چین اور روس مشرق کے اثر کو علاقائی سے عالمی بنانے کی کوشش میں ہیں۔ چنانچہ اس فورم میں ہمیں ساؤتھ افریقہ، برازیل اور یو اے ای وغیرہ بھی نظر آتے ہیں۔ برکس کا حصہ بننے کی خواہش رکھنے والے ممالک کی تعداد وسیع ہے مگر اس فورم کا دائرہ بہت محتاط انداز سے بتدریج پھیلایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز

شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کا انڈیا بھی ممبر ہے۔ بلکہ برکس کا تو وہ بانی ممبر بھی ہے۔ وہی انڈیا جو ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے قبل دنیا کے مختلف فورمز پر ٹانگیں پھیلا کر بیٹھتا اور کسی نو دولتیے کی طرح کہتا ’اپن بھی دنیا کی ایک بڑی طاقت ہے‘ حتیٰ کہ جب کوئی ملک انڈیا اور پاکستان کا ایک سانس میں ذکر کردیتا تو موذی جی اور ان کے وزیر خارجہ بدک کر کہتے  ہیں کہ ’ہمیں پاکستان کے تناظر میں دیکھنا بند کرو، ہم بڑی طاقت ہیں اور پاکستان سیاسی تنہائی کا شکار ایک چھوٹا سا ملک‘۔

اگر آپ کو یاد ہو تو ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے موذی جی نے انتخابی مہم بھی چلائی تھی، جس کے ذریعے امریکا میں مقیم انڈینز کے ووٹ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یقینی بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا تو موذی جی لمحہ ضائع کیے بغیر واشنگٹن پہنچ گئے۔ تاکہ دنیا جان سکے کہ ایک بڑی طاقت دوسری بڑی طاقت سے ملنے آئی ہے۔ واپس آکر موذی جی نے اپنی طاقت کے مظاہرے کی بھی ٹھان لی۔ پہلے پہلگام کا ڈرامہ اور اس کی بنیاد پر آپریشن سندور کی بالی ووڈ فلم آئی۔ مگر نتائج اتنے ہوشربا نکلے کہ موذی جی گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔جس ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے انتخابی مہم چلائی تھی وہی اب ہر دوسرے دن موذی جی کو ٹرول کر رہے تھے۔ مگر معاملہ ٹرولنگ تک کہاں رہا؟ ٹرمپ نے پاکستان کو ثالث کی پوزیشن دے کر موذی جی کے زخموں پر آیوڈین ملا نمک بھی چھڑک دیا۔

اگر آپ یاد کیجیے تو آپریشن سندور کے نتائج عالمی برادری کے لیے اس قدر ناقابل یقین تھے کہ ایک ماہ تک تو دنیا کے اہم ترین دارالحکومت  اس کی تصدیق اور مکرر تصدیق میں ہی لگے رہے تھے۔ تصدیق کا یہ عمل مکمل ہوا تو غیرملکی وفود کی ہی اسلام آباد میں قطاریں نہ لگیں بلکہ دنیا کے ہر اہم فورم نے پاکستان کے لیے باہیں پھیلا دیں۔ حتیٰ کہ ٹرمپ مخالف لبرل امریکی میڈیا نے بھی پاکستان کے گن گانے شروع کر دیئے۔ نیشنل جیوگرافک جیسے چینل نے پاکستان آکر یہاں کی فوڈ سٹریٹس تک پر ڈاکومنٹری بنا  لی۔اور دنیا بھر میں پھیلے اپنے ناظرین کو گویا بتایا ’انڈین تھالی پاکستانی پلیٹ کے آگے کچھ نہیں‘۔

اس صورتحال کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ موذی جی پر انڈین اپوزیشن کا ہی نہیں بلکہ نان گودی میڈیا کی جانب سے شدید دباؤ آنا شروع ہوا کہ موذی جی بھگوان کا واسطہ کچھ کرو، اور انڈیا کی ناک بچاؤ۔ کچھ کرو سے ان کی مراد کوئی جنگی اقدام نہ تھا۔ یہ بات تو اب انڈیا کے بچے بچے کو سمجھ آگئی ہے کہ ملٹری والی آپشن  اب لگ بھگ خارج ہی ہوچکی۔ سو انڈین انٹیلی جنشیا سفارتی محاذ استعمال کرنے پر زور دے رہا تھا۔

اس محاذ پر سندور کے فورا بعد انڈیا کے ساتھ جو ہوا تھا، وہ تو آپ جانتے ہی ہیں۔ لیکن خجالت کے اس سفر میں گزشتہ ہفتے کی ایس سی او سمٹ بھی ایک بہت شارپ قسم کا پہاڑی موڑ بن کر سامنے آئی۔ اس سمٹ میں خود موذی جی نے بنفس نفیس اتنا بڑا بلنڈر کیا کہ  وہ عالمی تجزیہ کار بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے جو انڈیا کے لیے واضح طور پر نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اپنی تقریر کے دوران موذی جی بالکل غیر متوقع طور پر ’امن کے سفیر‘ بن کر بولے کہ یوکرین کی جنگ کو اب ختم ہونا چاہئے۔ موذی جی بس اتنا ہی کہہ کر آگے بڑھ جاتے تو عالمی سطح پر انڈیا کی مٹی اس سطح پر جاکر پلید نہ ہوتی جس سطح پر پچھلے ایک ہفتے سے ہو رہی ہے۔ حد یہ ہوئی کہ موذی جی نے اپنے موقف کی ایک بڑی ہی مضحکہ خیز وجہ بھی بتائی۔ اور وہی وجہ انڈیا  کے لیے عالمی سبکی کا باعث بن گئی ہے۔ موذی جی نے وجہ بتاتے ہوئے کہا

’انڈیا گاندھی اور مہاتما بدھ کی دھرتی ہے، اور ان دونوں کا دنیا کے لیے ایک ہی پیغام ہے، امن کا راستہ‘۔

وہ تو سربراہ کانفرنس تھی ورنہ ہال قہقہوں سے گونج اٹھتا۔ یہ قہقہہ کتنا یقینی تھا اس کا اندازہ آپ اسی سے لگا لیجیے کہ موذی جی کے یہ الفاظ سنتے ہی روسی صدر ویلادیمیر پیوٹن کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ صدر پیوٹن کی مسکراہٹ کی اصل وجہ تو خود انہی کو معلوم ہوگی، بطور تجزیہ کار ہم صرف اندازہ لگا سکتے ہیں۔  ہوسکتا ہے پیوٹن کے ذہن میں یہ سوال کھڑا ہوگیا ہو کہ اچھا تو گاندھی جی کو اپنے ہی ہاتھ سے قتل کرنے والی قوم بھی اب امن کے راستے کی بات کرنے لگی؟ یا پھر یہ سوال کہ اکھنڈ بھارت کیا چیز ہے؟  اور یا پھر شاید یہ سوال کہ 7 سے 10 مئی 2025 تک مہاتما بدھ اور گاندھی جی کہاں تھے؟

مزید پڑھیے: فری اسپیچ کا لولی پاپ

یہ محض ہمارے سوالات نہیں ہیں۔ مغرب کے مقابلے میں گلوبل ساؤتھ کی حمایت کرنے والے آزاد مغربی تجزیہ کار بھی گزشتہ ایک ہفتے سے اسی طرح کے سوالات اٹھا رہے ہیں۔ اور وہ ایک قدم آگے بڑھ کر  یہ سوال بھی کھڑا کرتے ہیں کہ موذی جی نے پیوٹن کی کمر میں چھرا گھونپنے کی یہ کوشش کیوں کی؟ اور پھر خود ہی جواب بھی سب یہی دیتے ہیں کہ یہ ٹرمپ کو خوش کرنے کی ایک گھٹیا کوشش تھی۔

عالمی تجزیہ کاروں کی اس گفتگو کی پاکستان کے نقطہ نظر سے خاص اہمیت یہ ہے کہ لگ بھگ ہر تجزیہ کار ہی 2 سوالات لازما اٹھا رہا ہے۔ پہلا یہ کہ اگر موذی جی اتنے ہی امن پسند ہیں تو غزہ میں قتل عام کرنے والے نیتن یاہو کو وہ 25 فروی 2026 کو جپھیاں کس خوشی میں ڈال رہے تھے؟ اور دوسرا یہ کہ آپریشن سندور کے وقت مہاتما بدھ اور گاندھی جی کیوں یاد نہ آئے؟

یہ تجزیہ کار صرف سندور پر ہی نہیں رکتے بلکہ اگلے مرحلے میں انڈیا کا پاکستان سے تقابل بھی کرنے لگتے ہیں۔ یعنی وہی حرکت جس سے موذی جی بدکتے آئے ہیں۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ جب ٹرمپ نے انڈیا کو روس سے تیل کی خریداری پر ٹیرف کی دھمکی دی تو انڈیا نے خریداری روک دی۔ لیکن جب اسی ٹرمپ کے وزیر خزانہ سکاڑ بیسنٹ نے نام لیے بغیر پاکستان کو دھمکی دی کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کو سیکنڈری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا تو پاکستان نے وقت ضائع کئے بغیر صاف صاف جواب دیا کہ ہم ایران سے تجارت کسی صورت ختم نہیں کریں گے۔

ایس سی او سمٹ میں موذی جی کے بلنڈر کے اثرات اب اگلے ہفتے دہلی میں منعقد ہونے والی برکس سمٹ پر بھی شکوک و شبہات کے بادلوں کی صورت ظاہر ہو رہے ہیں۔ پاپے ایسکوبار جیسا انڈیا کا حامی تجزیہ کار بھی یہ کہتا نظر آرہا ہے کہ دہلی کی برکس سمٹ سے کوئی اچھی توقع وابستہ نہیں کرنی چاہئے۔ انڈیا میں یہ جرات ہی نہیں کہ کوئی ایسا قدم اٹھا سکے جو امریکی مفادات کے خلاف جاتا ہو۔  بعض عالمی تجزیہ کار تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ انڈیا کے مقابلے میں پاکستان برکس کے لیے زیادہ اہم رکن ثابت ہوگا۔ کیونکہ اسے تینوں عالمی طاقتوں سے بیک وقت ڈیل کرنے کا فن آتا ہے۔ اور یہ کہ پاکستان پہلے ہی مشرق وسطی میں وہ رخ اختیار کرچکا ہے جو چین اور روس دونوں کے مستقبل کے منصوبوں سے ہم آہنگ ہے۔

مزید پڑھیں: تجھے کون بچائے گا کالیا؟

ایسے میں اگلے ہفتے کی دہلی برکس سمٹ میں یہ دیکھنا  بھی اہم ہوگا پاکستان کی ممبرشپ کے سوال پر موذی جی کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں؟ پاکستان کا نام چین کی جانب سے پیش کیے جانے کی توقع ہے، اور ظاہر ہے روس کی بھی اسے حمایت حاصل ہوگی۔ سو اگر موذی جی اس کے خلاف گئے تو یہ اقدام کنفرم کردے گا کہ انڈیا برکس اور ایس سی او دونوں کے لیے ایک ایسا بوجھ بن چکا ہے جو مشرقی اتحادوں میں مغرب کے سہولت کار کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp