اٹلی: متنازع ’انسدادِ یہود دشمنی بل‘ کے خلاف اہلِ روم سڑکوں پر نکل آئے

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اٹلی میں یہود دشمنی کے انسداد کے لیے مجوزہ قانون متعارف کرائے جانے کے خلاف دارالحکومت روم میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوگیا ہے جس میں حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ’انسداد یہود دشمنی بل‘ کے ذریعے اسرائیل پر تنقید کرنے والوں کو خاموش کرانا چاہتی ہے۔

روم میں سینکڑوں مظاہرین نے مجوزہ قانون کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے خبردار کیا ہے کہ قانون سازی آزادیٔ اظہار کو محدود کرسکتی ہے۔ ناقدین کے مطابق بل میں یہود دشمنی کی ایک متنازع تعریف کو قانون کا حصہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

روم کے مونتے چیتوریو اسکوائر میں سیکڑوں افراد نے اٹلی کے مجوزہ انسدادِ یہود دشمنی بل کے خلاف احتجاج کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اٹلی کی جانب سے مظاہرین میں تقسیم کیے گئے سیاہ اور پیلے رنگ کے پوسٹروں پر درج تھا کہ ’صیہونیت کی مخالفت یہود دشمنی نہیں‘۔

احتجاج ایسے وقت ہوا جب پارلیمنٹ کی آئینی امور کی کمیٹی سینیٹ سے 4 مارچ کو بھاری اکثریت سے منظور ہونے والے بل کا جائزہ لے رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیے ہولو کاسٹ، سانحہ مشرقی پاکستان اور مقدس بیانیے

تنازع کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بل میں عالمی ہولوکاسٹ یادگاری اتحاد (آئی ایچ آر اے) کی یہود دشمنی سے متعلق تعریف کو ملکی قانون کا حصہ بنانے کی تجویز ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس تعریف کے تحت اسرائیل پر بعض اقسام کی سیاسی تنقید کو بھی ’یہود دشمنی‘ قرار دیا جاسکتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اٹلی کا کہنا ہے کہ قانون اسکولوں، جامعات، سماجی پلیٹ فارمز اور ثقافتی تنظیموں پر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے، جبکہ کارکنوں کے مطابق موجودہ قوانین پہلے ہی نفرت انگیز جرائم سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطینی علاقوں فرانسسکا البانیز نے خبردار کیا کہ کسی ریاست پر تنقید کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر یہود دشمنی سے جوڑنے والی قانون سازی آزادیٔ اظہار کے لیے خطرناک ہوسکتی ہے۔

ان کے مطابق اس سے اسرائیل کی پالیسیوں کا تجزیہ، دستاویز بندی اور تنقید محدود ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے فلسطینیوں کے حق میں تقریر پر ہولوکاسٹ سروائیور یہودی پروفیسر گرفتار

فلسطین کے حامی کارکن ٹونی لا پچیریلا نے بھی الزام عائد کیا کہ مجوزہ قانون ذرائع ابلاغ، آن لائن پلیٹ فارمز اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تنقید دبانے کے لیے قانونی ذریعہ بن سکتا ہے۔

بل نے حکومت اور اپوزیشن دونوں کے اندر اختلافات بھی نمایاں کردیے ہیں۔ سینیٹ کے بعد اب ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی میں اس پر غور جاری ہے، تاہم حالیہ اجلاس بغیر ووٹنگ کے ختم ہوگیا۔ پارلیمنٹ میں حتمی ووٹنگ 2 اکتوبر کو متوقع ہے، جبکہ کمیٹی کی کارروائی آئندہ ہفتے دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp