سپریم کورٹ میں پولیس پر فائرنگ، دودھ میں ملاوٹ اور قتل کے مقدمات میں ضمانت اور اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے پولیس پر فائرنگ کے ملزم ارشاد کی ضمانت منظور جبکہ دودھ میں ملاوٹ کے ملزم غلام نبی کی ضمانت اور قتل کے ملزم پولیس اہلکار پریال کی عمر قید کے خلاف اپیل مسترد کردی۔ سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل اور دیگر ججز نے اہم ریمارکس بھی دیے۔
پولیس پر فائرنگ کے ملزم کی ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے راولپنڈی میں پولیس پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار ملزم ارشاد کی ضمانت منظور کرلی۔
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل مطیع اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ ملزم کی گرفتاری کے بعد بنایا گیا ہے۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ ملزم کے خلاف پہلے بھی 16 سے زائد مقدمات درج ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ ساتھی کی فائرنگ سے صرف ٹانگ پر گولی لگی۔ انہوں نے کہا کہ خوش قسمت ہیں کہ یہ ملزم ساتھی کی فائرنگ سے مرا نہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ اگر ملزم کے خلاف اتنے مقدمات ہیں تو پھر بہتر ہے کہ وہ جیل میں رہے، ہوسکتا ہے ملزم باہر آکر ساتھیوں کی فائرنگ سے مر جائے۔
ملزم کے وکیل نے کہا کہ ملزم کو ’ہاف فرائی‘ کیا گیا ہے، ’فل فرائی‘ نہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ’ہاف فرائی، فل فرائی کیا ہوتا ہے؟‘ وکیل نے بتایا کہ ہاف فرائی میں ٹانگ پر گولی ماری جاتی ہے جبکہ فل فرائی میں جان سے مار دیا جاتا ہے۔
اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’کیا یہ لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے؟‘ انہوں نے کہا کہ کہتے ہیں تو ضمانت دے دیتے ہیں، ورنہ ملزم جیل میں محفوظ ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل کے مطابق ملزم کی حفاظت سرکاری خرچ پر کی جارہی ہے۔ عدالت نے بعد ازاں ارشاد کی ضمانت منظور کرلی۔
دودھ میں ملاوٹ کے ملزم کی ضمانت مسترد
دوسرے مقدمے میں سپریم کورٹ نے دودھ میں ملاوٹ اور کار سرکار میں مداخلت کے ملزم غلام نبی کی ضمانت مسترد کردی۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے بتایا کہ ملزم نے ساتھی ملزمان کے ساتھ مل کر فوڈ اتھارٹی کے ملازمین پر حملہ کیا جبکہ ملزمان کے قبضے سے پستول بھی برآمد ہوا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا فوڈ اتھارٹی بغیر وارنٹ کسی کی حدود میں داخل ہوسکتی ہے اور کسی کی حدود میں داخل ہونے کے لیے فوڈ اتھارٹی کو کیا اختیار حاصل ہے؟
سرکاری وکیل نے کہا کہ حکام کے پاس جعلی دودھ کی موجودگی سے متعلق پکی اطلاع تھی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا اطلاع ملنے کے بعد کسی کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت مل جاتی ہے؟
ملزم کے وکیل نے تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ 8 ملزمان کی ضمانت ہوچکی ہے، ملزم کا دودھ کا کاروبار ہے اور وہ گزشتہ 6 ماہ سے جیل میں ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ معاشرہ اتنا خراب ہوچکا ہے کہ ہم بھی پریشان ہیں، کیا کریں۔ عدالت نے ملزم غلام نبی کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔
پولیس اہلکار کی عمر قید کے خلاف اپیل مسترد
تیسرے مقدمے میں سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم پولیس اہلکار پریال کی عمر قید کے خلاف اپیل مسترد کردی۔
ملزم کے وکیل ریحان شیخ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کے خلاف واضح شواہد موجود نہیں، اس کے پاس اپنی گن بھی نہیں تھی اور وہ پولیس لائن میں گیٹ پر ڈیوٹی انجام دے رہا تھا۔
وکیل مدعی نے عدالت کو بتایا کہ وقوعہ میں استعمال ہونے والی گن دوسرے پولیس اہلکار سے لی گئی تھی۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ ایسے مقدمے میں تو سزا بڑھانے کی درخواست ہوتی تو جائزہ لیتے۔ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ دن دہاڑے یہ قتل کیا گیا۔
ملزم پولیس اہلکار پریال پر 2013 میں لین دین کے تنازع پر شہری عبدالغفار کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ مقدمے کی سماعت جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔














