وینس فلم فیسٹیول: غزہ قتل عام  میں اے آئی کے استعمال پر  بننے والی دستاویزی فلم کے لیے 25 منٹ تک تالیاں

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دو آسکر یافتہ اسرائیلی فلم سازوں کی جانب سے غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں مصنوعی ذہانت کے مبینہ استعمال پر بنائی گئی دستاویزی فلم ’نازا‘ (NAZA) کے پریمیئر کے موقع پر شائقین نے فلم سازوں کو مسلسل 25 منٹ تک داد دی۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے مبینہ استعمال پر بنائی گئی 80 منٹ دورانیے کی دستاویزی فلم ’نازا‘ کی وینس فلم فیسٹیول میں نمائش کے بعد 25 منٹ تک داد دی گئی۔

وہاں موجود ایک رپورٹر کے مطابق، اس سے قبل غزہ سے متعلق ایک فلم کو گزشتہ برس 23 منٹ تک داد ملی تھی، تاہم ’نازا‘ کو ملنے والی داد کو فیسٹیول کی تاریخ میں طویل ترین قرار دیا جا رہا ہے۔

فلم میں 24 سابق اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی گفتگو شامل کی گئی ہے، جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فلم سازوں سے بات کی۔ فلم میں ان کی آوازوں اور چہروں کو ڈیجیٹل طریقے سے تبدیل کیا گیا ہے۔

فلم ساز یووال ابراہم نے کہا، ’ہم فوجیوں اور افسران کو یہ بتانے کا موقع دے رہے ہیں کہ انہوں نے کیا کیا۔ ہمارا مقصد یہ جاننا تھا کہ غزہ میں ہلاکتوں کا نظام کس طرح کام کرتا تھا اور اسے کس انداز میں چلایا جاتا تھا۔‘

فلم میں شامل ایک شخص کے مطابق، اسے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کسی’قتل کی فیکٹری‘یا کسی جان لیوا ویڈیو گیم میں کام کر رہا ہو۔

دستاویزی فلم میں شامل افراد نے شہری گھروں کی تباہی، جنگی اور انسانی قوانین کو نظرانداز کرنے اور فلسطینیوں کے خلاف نفرت کے عمومی ماحول سے متعلق بھی گفتگو کی ہے۔

فلم کا نام ’نازا‘ اسرائیلی انٹیلی جنس میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والی ایک اصطلاح سے لیا گیا ہے، جو فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں کی تعداد ظاہر کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

فلم میں اسرائیلی انٹیلی جنس کے مبینہ اے آئی نظام ’لیونڈر‘ (Lavender) کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسے افراد کو ہلاکت کے لیے نشانہ بنانے میں استعمال کیا جاتا تھا۔ فلم کے مطابق یہ نظام غزہ میں نگرانی سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کو استعمال کرتا ہے، جہاں اسرائیل ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک کی نگرانی کے ذریعے فون کالز، نقل و حرکت اور باہمی رابطوں کی بنیاد پر اہداف کی شناخت کرتا ہے۔

فلم سازوں کا کہنا ہے کہ ’نازا‘ میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے نظام کو ایک فیکٹری کی طرح پیش کیا گیا ہے۔ فلم کی عکس بندی رات کے وقت ایک چھت پر کی گئی، جس کے پس منظر میں تل ابیب کا شہر پراسرار خاموشی میں ڈوبا دکھائی دیتا ہے۔

’نازا‘ تقریباً 3 سال کی تحقیق کے بعد تیار کی گئی ہے اور رواں سال وینس فلم فیسٹیول کے مقابلے میں شامل واحد دستاویزی فلم ہے۔

یووال ابراہم اور ریچل زور نے فلسطینی فلم سازوں باسل عدرا اور حمدان بلال کے ساتھ فلم ’نو ادر لینڈ‘ کے لیے 2025 میں آسکر ایوارڈ جیتا تھا۔

ان کی نئی فلم کی تیاری میں ’ دی زون آف انٹرسٹ‘ کے پروڈیوسر جم ولسن اور ہدایت کار جوناتھن گلیزر بھی شامل ہیں۔

فلم سازوں نے امید ظاہر کی کہ یہ دستاویزی فلم مغربی ممالک کو اسرائیل کی حمایت ترک کرنے اور پابندیوں کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی ترغیب دے گی۔

اسرائیل غزہ میں شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کرتا ہے اور حماس پر شہری آبادی میں چھپنے کا الزام عائد کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق، قابلِ اعتماد قرار دیے جانے والے غزہ کی وزارتِ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 73 ہزار 500 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 74 ہزار 500 زخمی ہو چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp