وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنی بیٹی ماہ نور کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے گزشتہ ہفتے لندن گئی تھیں اور بدھ کے روز لاہور واپس پہنچیں۔ تاہم، ان کے اس دورے میں سرکاری جیٹ کے استعمال نے اپوزیشن کو تنقید کا موقع فراہم کر دیا ہے۔
صوبائی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے مریم نواز پر نجی دورے کے لیے سرکاری طیارہ استعمال کرنے کے الزامات کو سختی سے رد کر دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری کردہ اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ’یہ الزامات بالکل بے بنیاد ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے دورہ لندن کے تمام تر اخراجات ذاتی جیب سے برادشت کیے ہیں۔‘
دوسری جانب، لندن میں قیام کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز سے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث پر سوال کیا گیا، جس پر انہوں نے محتاط انداز اپناتے ہوئے تفصیل سے گفتگو کرنے سے گریز کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ وطن واپسی کے بعد ساتھیوں سے مشاورت کے بعد ہی اس معاملے پر کوئی بیان دیں گی۔ پنجاب کو سرحدی اضلاع سے درپیش دہشتگردی کے خطرات سے متعلق اپنے سابقہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پنجاب کو اصل خطرہ نااہلی سے ہے۔
بالکل غلط،وزیر اعلی پنجاب نے اپنے لندن وزٹ کے لئے جہاز کے تمام اخراجات اپنے پاس سے ادا کئے ہیں https://t.co/IWf0UYT5PF
— Azma Zahid Bokhari (@AzmaBokhariPMLN) September 10, 2026
اس کے باوجود، اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے سرکاری طیارے کے استعمال پر وزیراعلیٰ کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما مونس الٰہی نے ‘ایکس’ پر اپنے ایک پیغام میں اس معاملے کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے جوڑتے ہوئے تنقید کی۔ واضح رہے کہ 2019 کا تیار کردہ گلف اسٹریم (Gulfstream G500) طیارہ جس کی تخمینہ قیمت تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ سے 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر (10 ارب روپے سے زائد) بتائی جاتی ہے، حکومتِ پنجاب کی جانب سے خریدے جانے کی اطلاعات کے بعد سے ہی زیرِ بحث رہا ہے۔
سنیچر کو ماہ نور کے نکاح کی تقریب
ساتھ ہی، شریف خاندان کے خاندانی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی بیٹی ماہ نور رواں ہفتے سنیچر کے روز رشتہ ازدواج میں منسلک ہو رہی ہیں۔ ان کی نکاح کی تقریب شریف خاندان کی رہائش گاہ ‘جاتی امرا’ میں منعقد کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ماہ نور کی شادی ایک معروف کاروباری شخصیت کے بیٹے سے طے پائی ہے۔ تقریب کو مکمل طور پر نجی اور خاندانی رکھا گیا ہے جس میں صرف انتہائی قریبی رشتہ دار اور خاندان کے افراد ہی شرکت کریں گے۔














