چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا 62واں اجلاس سپریم کورٹ میں منعقد ہوا، جس میں عدالتی اصلاحات، ڈیجیٹل نظام، مقدمات کے بروقت فیصلوں، انصاف تک رسائی اور ادارہ جاتی استعداد بڑھانے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں لاہور، پشاور اور سندھ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے شرکت کی۔ کمیٹی نے مؤثر نظامِ انصاف، انصاف تک رسائی بہتر بنانے اور عدالتی اداروں کی استعداد میں اضافے کے عزم کا اعادہ کیا۔
کمیٹی نے جبری گمشدگیوں کے مقدمات کے ازالے کے مجوزہ طریقہ کار اور کمیشن کے قیام پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ وزارتِ قانون و انصاف کو ہدایت کی گئی کہ معاملے کو جلد حتمی شکل دے کر آئندہ اجلاس میں جامع رپورٹ پیش کی جائے۔
اجلاس میں ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے قانون کی حکمرانی کے اشاریے سے ہم آہنگ قومی عدالتی اصلاحاتی فریم ورک پر بھی غور کیا گیا۔ مجوزہ قانون کی حکمرانی ٹریکر کے اشاریے تمام ہائیکورٹس کو تجاویز کے لیے بھجوانے جبکہ اسے 15 مارچ 2027 تک عدالتی نظام کی تمام سطحوں پر مکمل فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:2026-27 خواتین سائلین کی سہولت کا سال قرار، چیف جسٹس کا خواتین دوست عدالتی نظام کا اعلان
کمیٹی نے قومی قانون کی حکمرانی اشاریے اور عدالتی اصلاحات ٹریکر پورٹل کی تیاری میں لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی کاوشوں کو سراہا۔
کمیٹی نے انصاف کے شعبے کے لیے میڈیا اینڈ اسٹریٹجک کمیونیکیشنز سیل فوری طور پر مکمل فعال کرنے اور عدالتی ڈیٹا کی بروقت، درست اور ذمہ دارانہ ترسیل کے لیے معیاری طریقۂ کار وضع کرنے کی ہدایت کی۔ قانون کی حکمرانی کے اشاریے پر پاکستان کی کارکردگی کے غیر جانبدارانہ جائزے کے لیے بین الاقوامی شہرت کے حامل ماہر کی خدمات حاصل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں قومی یکساں ای فائلنگ اور الیکٹرانک عدالتی ریکارڈ نظام کی اصولی منظوری دی گئی۔ اس نظام کو عدالتی شعبے کی ڈیجیٹل تبدیلی، شفافیت، کارکردگی اور انصاف تک رسائی کے لیے اہم پیشرفت قرار دیا گیا۔ آزمائشی مرحلے میں بار کو ہر قدم پر اعتماد میں لینے اور منتخب مقامات پر خاندانی مقدمات سے پائلٹ منصوبہ شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔ منصوبہ فیملی کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹ، متعلقہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک مربوط ہوگا۔
قومی ای فائلنگ ٹیمپلیٹس کو حتمی شکل دینے کے لیے ہائیکورٹس اور بار کونسلز کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کو مجوزہ جوڈیشل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے لیے سائبر سکیورٹی فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔
کمیٹی نے قومی عدالتی تجزیاتی ڈیش بورڈ میں 17 ترجیحی کیٹیگریز کے کامیاب انضمام کو سراہتے ہوئے ہائی کورٹس کے رجسٹرارز کو ڈیٹا کی مکمل اور درست فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ہائیکورٹس کو مقدمات کے فیصلوں، زیرِ التوا مقدمات اور پرانے مقدمات کے بوجھ سے متعلق ماہانہ کارکردگی بریفنگ کا نظام مستقل بنانے کا بھی کہا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ یکم ستمبر 2025 سے 31 جولائی 2026 تک ضلعی عدلیہ نے 14 لاکھ 67 ہزار 675 مقررہ مدت کے مقدمات کے فیصلے کیے۔ کمیٹی نے اسے واضح مدت، قابلِ پیمائش اہداف اور مسلسل ادارہ جاتی نگرانی کی مؤثریت کا مظہر قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹس، ضلعی عدلیہ، جوڈیشل افسران اور عملے کی مشترکہ کاوشوں کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس کی ریٹائر ملازمین کو بروقت پینشنری مراعات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت
ماڈل فوجداری عدالتوں نے اس عرصے میں 91 ہزار 71 جبکہ ماڈل دیوانی عدالتوں نے 42 ہزار 386 مقدمات کے فیصلے کیے، یوں دونوں نے مجموعی طور پر ایک لاکھ 33 ہزار 457 مقدمات نمٹائے۔ ہائیکورٹس کو پرانے اور دیرینہ زیرِ التوا مقدمات میں مزید کمی پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی گئی۔
کمیٹی نے ضلعی عدلیہ کے جوڈیشل افسران اور عملے کے لیے ہیلتھ انشورنس پالیسی اپنانے کا متفقہ فیصلہ کیا۔ تمام ہائیکورٹس لاہور ہائیکورٹ کی منظور شدہ ہیلتھ انشورنس پالیسی کی طرز پر طبی سہولیات فراہم کریں گی۔
اجلاس میں عدالتی سروس کے لیے قانونی فریم ورک تشکیل دینے کا عمل شروع کرنے کا بھی متفقہ فیصلہ کیا گیا۔ ہائیکورٹس کو بلوچستان ڈسٹرکٹ جوڈیشری ایکٹ 2021 کی طرز پر عدالتی سروس کے لیے قانونی فریم ورک وضع کرنے کی اجازت دی گئی۔ ہائیکورٹس اپنی ضروریات کے مطابق مجوزہ خواتین سہولت مراکز کے ڈیزائنز پر بھی عملدرآمد کرسکیں گی۔
کمیٹی نے اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ کے لیے روٹیشن پالیسی پر پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔














