جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کی عدالت نے جامعہ کراچی کے پروفیسر عارف ساقی کو موبائل فون پر دھمکیاں دینے کے کیس میں گرفتار ملزم کونین شاہ کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے آئندہ سماعت پر پیشرفت رپورٹ بھی طلب کرلی۔
سماعت کے دوران پولیس نے گرفتار ملزم کونین شاہ کو عدالت میں پیش کیا۔ کیس کے تفتیشی افسر اور مدعی مقدمہ کے وکیل بھی عدالت میں موجود تھے۔
مدعی مقدمہ کے وکیل کے دلائل
مدعی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے مرکزی مقدمے میں عبوری ضمانت حاصل کرنے کے بعد بھی مدعی کو مسلسل دھمکیاں دیں اور اس طرح اپنی ضمانت کا غلط استعمال کیا۔ ملزم کے دیگر ساتھیوں کو گرفتار کرنا، دھمکیوں کے لیے استعمال ہونے والا موبائل فون برآمد کرنا اور مرکزی کیس میں اسلحہ تحویل میں لینا باقی ہے، لہٰذا ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جاتی ہے۔
وکیل صفائی کا مؤقف
دوسری جانب ملزم کے وکیل نے ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ان کے موکل کے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں ٹیلی گراف ایکٹ کی جو دفعات عائد کی گئی ہیں، وہ اس کیس پر لاگو ہی نہیں ہوتیں۔ ملزم ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے جامعہ کراچی کے پروفیسر عارف ساقی پر تشدد کیس: مرکزی ملزم کونین شاہ گرفتار، ہوٹل سیل
وکیل صفائی نے مزید کہا کہ مدعی مقدمہ کی جانب سے کوئی دھمکی آمیز پیغام پیش نہیں کیا گیا۔ واقعہ دن کا بتایا جارہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر رات کی ایک جعلی ویڈیو چلا کر ہائپ بنائی جارہی ہے، جس کا کوئی فرانزک جائزہ نہیں ہوا۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ یہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے، اس لیے ملزم کو مقدمے سے فوری طور پر ڈسچارج کیا جائے۔
سماعت کے دوران عدالت نے پوچھا کہ ’کسٹڈی کہاں سے لی گئی ہے؟‘ وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کو گھر سے حراست میں لیا گیا ہے اور اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی عدالت میں پیش کی گئی۔
عدالت کا تحریری حکم نامہ
دلائل سننے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر نے تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ملزم کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔
عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں قرار دیا کہ ملزم نے پولیس حراست کے دوران کسی بھی قسم کی بدسلوکی یا تشدد کی شکایت نہیں کی۔
عدالت نے کہا کہ تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور ملزم ایف آئی آر میں براہِ راست نامزد ہے۔ جرم میں استعمال ہونے والا موبائل فون، کال ڈیٹا ریکارڈ اور ملزم کی شناخت کا فرانزک جائزہ ابھی ہونا باقی ہے۔ ملزم کی جانب سے مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی درخواست قبل از وقت ہے، اس لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 63 کے تحت دائر درخواست مسترد کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے کچرا جلانے سے کیوں منع کیا؟ جامعہ کراچی کے پروفیسر تشدد کا نشانہ بن گئے
عدالت نے قرار دیا کہ جسمانی ریمانڈ ایک معمول کی کارروائی نہیں، اس لیے ملزم کی آزادی اور مؤثر پولیس تفتیش کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔
عدالت نے پولیس کی جانب سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے صرف 3 روزہ ریمانڈ منظور کیا۔ عدالت نے سخت ہدایت کی کہ پولیس حراست کے دوران ملزم پر کسی قسم کا تشدد یا غیر قانونی سلوک نہ کیا جائے اور اگلی پیشی سے قبل ملزم کا مکمل طبی معائنہ کرایا جائے۔













