نوکری گئی تو فوراً امریکا چھوڑنا پڑے گا، ٹرمپ انتظامیہ کا نیا سخت ترین ویزا قانون نافذ کرنے کا فیصلہ

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ملازمت کھونے والے ایچ۔ 1 بی ویزا ہولڈرز کے لیے 60 دن کا ’گریس پیریڈ‘ ختم کرنے کی تجویز دے دی ہے، جس کے بعد غیر ملکی ورکرز کو نوکری ختم ہوتے ہی فوراً امریکا چھوڑنا ہوگا۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کی جانب سے 10 ستمبر کو آن لائن جاری ہونے والے نئے نوٹس کے مطابق، اس اقدام کا مقصد امیگریشن قوانین کو سخت کرنا اور امریکی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کا ویزا بانڈ پالیسی کا دائرہ مزید وسیع، وینزویلا سمیت 25 نئے ممالک فہرست میں شامل

رائٹرز نیوز کے مطابق جنوری 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قانونی امیگریشن کو محدود کرنے کا یہ تازہ ترین قدم ہے۔

اس سے قبل موجودہ انتظامیہ غیر ملکی ہنرمندوں کے لیے ویزا فیس میں اضافہ اور ایک نئے تربیتی پروگرام کے نفاذ کے لیے دنیا بھر میں امریکی مشنز پر ویزا انٹرویوز کے عمل کو بھی عارضی طور پر روک چکی ہے۔

امریکی ورکرز کو ترجیح

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا مؤقف ہے کہ اس تبدیلی سے امریکی کمپنیوں کو وقتی طور پر کچھ رکاوٹوں کا سامنا تو ہو سکتا ہے، تاہم اس کا حتمی فائدہ مقامی امریکی ورکرز کو ہوگا۔

محکمے کے مطابق کمپنیاں اب مجبور ہوں گی کہ وہ یہ نوکریاں مساوی قابلیت کے حامل امریکی شہریوں کو دیں یا پھر اپنی افرادی قوت کی ضرورت کے مطابق دوبارہ آئی 129 پٹیشن کے عمل سے گزریں۔

تاہم کچھ مخصوص حالات میں غیر ملکی ورکرز دوبارہ اپلائی کر سکیں گے اگر ان کا آجر ان کے لیے درخواست دے۔

مزید پڑھیں:امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟

واضح رہے کہ 2017 سے نافذ العمل قانون کے تحت ایچ۔ 1 بی اور دیگر عارضی ویزا ہولڈرز کو نوکری ختم ہونے کے بعد نیا اسپانسر تلاش کرنے یا اپنے معاملات (جیسے گھر بیچنا یا بچوں کو اسکول سے نکالنا) سمیٹنے کے لیے 60 دن کی مہلت دی جاتی تھی۔ اب مجوزہ قانون کے تحت یہ مہلت ختم ہو جائے گی۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں پر گہرا اثر

امریکی کانگریس نے 1990 میں ایچ۔1 بی ویزا پروگرام متعارف کرایا تھا، جو بالخصوص بھارت اور چین سے تعلق رکھنے والے ٹاپ ٹیلنٹ کو امریکا لانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اس قانون کی تبدیلی کو امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جو مقامی سطح پر ہنرمندوں کی کمی پوری کرنے کے لیے غیر ملکیوں پر بھاری انحصار کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا میں گرین کارڈ کا غیر معمولی بیک لاگ: بھارتی پیشہ ور افراد کو 179 سال طویل انتظار کا سامنا

اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے یو سی ڈیوس اسکول آف لا کے پروفیسر گیبریل چن کا کہنا تھا کہ ’بہت سے ایچ۔ 1 بی ورکرز برسوں سے یہاں مقیم ہیں اور انہوں نے اپنے خاندانوں کے ساتھ امریکی کمیونٹیز میں اپنی جگہ بنائی ہے۔

میں نہیں سمجھتا کہ محض نوکری تبدیل کرنے کی بنیاد پر انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز بنتا ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp