چین کے دارالحکومت بیجنگ میں جاری 13ویں چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ اِن سروسز میں 2 درجن سے زائد پاکستانی کمپنیاں اور بڑی تعداد میں پاکستانی ماہرین شرکت کررہے ہیں۔
9 سے 11 ستمبر تک جاری رہنے والی نمائش میں پاکستانی شرکت چین کے بڑھتے ہوئے خدمات کے شعبے کے ساتھ پاکستان کے روابط اور کاروباری تعاون کے نئے مواقع کو اجاگر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا دورہ چین، ٹیکنالوجی کے میدان میں صوبہ پنجاب کیا کرنے جارہا ہے؟
چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کے مطابق 11 ستمبر کو ہونے والی کانفرنس میں پاکستان اور چین کی 75 سے زائد کمپنیاں شرکت کریں گی، جہاں کاروباری شراکت داری، مشترکہ منصوبوں اور تجارت کے نئے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔
خلیل ہاشمی نے کہا کہ پاکستان پویلین دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان روابط میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور پاکستان کاروبار کے لیے کھلا ہے۔
عالمی سطح پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں نمائش کو ٹیکنالوجی کی عملی منتقلی کے لیے اہم پلیٹ فارم قرار دیا جارہا ہے۔ چینی سطح پر مصنوعی ذہانت، ماحول دوست نقل و حمل اور جدید تجارتی سہولیات کے استعمال سے پاکستانی صنعتوں کو اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے کے نئے راستے مل سکتے ہیں۔
وزارت صنعت و پیداوار کے تحت کام کرنے والی ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اتھارٹی کے سرمایہ کاری فروغ شعبے کے صنعتی ماہرین کے سہولت کار دائم داراب صدیقی نے کہا کہ یہ نمائش پاکستانی صنعت کاروں کے لیے خدمات کو بہتر بنانے کے طریقوں کو سمجھنے کا غیرمعمولی موقع ہے۔
ان کے مطابق چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ اِن سروسز پاکستان اور چین کی حکومتوں کے درمیان بامعنی تعاون کو فروغ دیتی ہے اور پاکستانی صنعتوں کے لیے درکار جدید بنیادی ڈھانچے سے براہ راست آگاہی کا موقع فراہم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے نئے امکانات، صحت اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا: چینی سفیر
دائم داراب صدیقی نے کہا کہ اس نمائش کی اصل اہمیت عملی صنعتی سہولت کاری میں ہے۔ ان کی توجہ پاکستانی صنعت کاروں کو مستقبل کی ضروریات سے آگاہ کرنے اور ایسی ٹیکنالوجیز سے متعارف کرانے پر ہے جو انہیں عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ جدید انتظامی طریقہ کار کو سمجھنا اور کاروباری اداروں کی مستقبل کی ضروریات کا اندازہ لگانا خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے ضروری ہے۔
دائم داراب صدیقی کے مطابق مصنوعی ذہانت اب اختیاری نہیں رہی بلکہ صنعتی پیداوار اور تجارت سے متعلق خدمات دونوں شعبوں میں اہم ضرورت بن چکی ہے۔ معیار کی جانچ، جدید گوداموں کے انتظام اور برآمدی زونز میں رسد کے نظام کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام عملی طور پر ضروری ہوتے جارہے ہیں۔
انہوں نے نمائش کے انتظامات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے الگ حصے، ملکی شعبوں کے لیے مخصوص زونز اور بین الاقوامی پویلینز پر مشتمل انتظامی طریقہ کار عالمی معیار کی نمائشوں کے انعقاد کی عکاسی کرتا ہے اور پاکستان کے تجارتی اداروں کے لیے بھی اس سے سیکھنے کے مواقع موجود ہیں۔
پاکستانی نجی شعبے کے نمائندوں نے بھی چین کی صنعتی ترقی کو پاکستان کے لیے اہم تجربہ قرار دیا۔ ان کے مطابق چین نے محنت پر مبنی پیداواری نظام سے جدید ٹیکنالوجی کی قیادت تک جو سفر طے کیا ہے، وہ پاکستان کی معاشی منصوبہ بندی کے لیے قابلِ غور مثال ہے۔
پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور ٹیکس کیم کارپوریشن کے سربراہ سلیم ولی محمد نے کہا کہ پاکستانی صنعتی شعبے چینی مہارت سے نمایاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا اے آئی بلیک بورڈ: استاد کی آواز اور لکھائی سمجھ کر سبق کو تھری ڈی ماڈل میں تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی
انہوں نے چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ اِن سروسز کو جدید تجارتی خدمات، کیمیائی اشیا کی ترسیل اور جدید مواد کی ترسیل و انتظام کے شعبوں میں چینی تجربات کو سمجھنے کے لیے اہم پلیٹ فارم قرار دیا، جس سے روایتی صنعتی شعبوں کو عالمی قدر کے سلسلے میں بہتر مقام حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
او بی او آر ڈویلپمنٹ کمپنی کے نائب چیئرمین شاہد فیروز، جو 1978 سے باقاعدگی سے چین کا دورہ کرتے رہے ہیں، نے پاک چین اقتصادی تعاون کو طویل المدتی معاشی ترقی کے تناظر میں بیان کیا۔
شاہد فیروز نے کہا کہ چین کی مسلسل پالیسی توجہ کے نتیجے میں مصنوعی ذہانت، نئی توانائی کی گاڑیوں اور ذہین صنعتی پیداوار کے شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے چین کے جدید ٹیکنالوجی کے نظام کے ساتھ دوطرفہ خدمات کے ذریعے تجارتی روابط قائم کرنا صنعتی ترقی کو تیز کرنے، درآمدی انحصار کم کرنے اور پائیدار تجارتی توازن کے حصول کی ایک عملی حکمت عملی ہے۔














