سندھ میں نئے صوبوں کی مخالفت اور انتظامی اختیارات کی بحث کے ساتھ صوبے کے تعلیمی بحران نے بھی سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں، جہاں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 39 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ بعض دیہی اضلاع میں یہ شرح 50 فیصد سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔
عالمی اور قومی اداروں کی حالیہ تعلیمی رپورٹس اور سروے کے مطابق سندھ میں ہر 10 میں سے تقریباً 4 بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ یونیسف پاکستان کی پاکستان ایجوکیشن اسٹیٹسٹکس رپورٹ کے مطابق صوبے میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 74 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو اس عمر کے بچوں کی مجموعی تعداد کا تقریباً 44 فیصد بنتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی نے 18 سالوں میں سندھ تباہ کردیا، نئے صوبے ناگزیر ہوچکے ہیں، فوزیہ حمید
دیہی سندھ میں صورتحال مزید تشویشناک ہے، جہاں اسکول سے باہر بچوں کی شرح کئی اضلاع میں 50 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے اور بچیوں کی تعلیم اس بحران سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔
یونیسف کے مطابق سندھ میں ابتدائی تعلیم کی بنیادیں بھی کمزور ہیں۔ 3 سے 4 سال کی عمر کے نصف سے بھی کم بچے تعلیمی اعتبار سے مطلوبہ سطح پر ہیں، جبکہ چوتھی جماعت تک پہنچنے والے بچے بنیادی ریاضی کے نصف سے بھی کم سوالات درست حل کرپاتے ہیں۔
صوبے کے 1300 سے زائد اسکولوں کو بنیادی انفراسٹرکچر میں بہتری کی ضرورت ہے، جبکہ بڑی تعداد میں اسکول غیر فعال یا سیلاب اور دیگر وجوہات کے باعث زیرِ آب آچکے ہیں۔ ہزاروں اسکول پینے کے صاف پانی، واش رومز اور چار دیواری جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔

رپورٹس کے مطابق تعلیمی بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں اور دیگر غیر ترقیاتی اخراجات میں صرف ہوجاتا ہے، جبکہ اسکولوں کی بحالی، اساتذہ کی مؤثر تعیناتی اور بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں لانے کے لیے اقدامات ناکافی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مسئلے کا حل صرف تعلیمی بجٹ بڑھانے میں نہیں بلکہ فنڈز کے شفاف استعمال، باقاعدہ آڈٹ، غیر فعال اسکولوں کی بحالی اور دیہی علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر تعلیمی سہولیات کی فراہمی میں ہے، بصورت دیگر سندھ کے لاکھوں بچوں کا مستقبل متاثر ہوتا رہے گا۔














