پیپلزپارٹی نے 18 سالوں میں سندھ تباہ کردیا، نئے صوبے ناگزیر ہوچکے ہیں، فوزیہ حمید

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی رکن اسمبلی فوزیہ حمید نے کہا ہے کہ پاکستان کے 79 سالہ سفر اور خصوصاً صوبہ سندھ میں پچھلے 18 سالوں مسلسل قائم پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی ) کی حکومت کے باوجود عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

وی نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں فوزیہ حمید نے کہا کہ پاکستان کا معاشی مرکز اور اہم ترین شہر ہونے کے ناطے کراچی میں کارکردگی کا یہ فقدان اور گورننس کا بحران مزید گہرا اور تشویشناک صورتِ حال اختیار کر چکا ہے۔

سندھ میں مسلسل حکومت اور کارکردگی کا فقدان

رکن اسمبلی فوزیہ حمید کا مزید کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی میں اس وقت وہی گفتگو ہو رہی ہے جو اس وقت پورے پاکستان میں جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی کی تباہی کے ذمہ دار، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی دونوں ہیں، امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر

جب ہم اپنے طرزِ حکمرانی کو دیکھتے ہیں، تو پاکستان کو قائم ہوئے 79 سال ہو چکے ہیں اور اس عرصے میں بالخصوص صوبہ سندھ میں پچھلے 18 سالوں سے تواتر کے ساتھ ایک ہی جماعت حکومت کر رہی ہے۔

تاہم اس طویل دورانیے کے باوجود عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کوئی بہتری نظر نہیں آئی۔ اگرچہ پاکستان کے دیگر حصوں میں بھی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن سندھ کی بات اس لیے زیادہ اہم ہو جاتی ہے کیونکہ یہاں کراچی موجود ہے، جو پورے ملک کا معاشی حب ہے۔

کراچی کے دیرینہ مسائل اور عوامی محرومیاں

فوزیہ حمید کا کہنا ہے کہ کراچی جیسے عالمی نوعیت کے شہر میں آنے والوں کو نہ پینے کا صاف پانی میسر ہے، نہ ہی سیوریج اور سڑکوں کا نظام درست ہے جبکہ صحت اور تعلیم کے شعبے بھی بالکل تباہ ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور گھوسٹ اسکول آج بھی موجود ہیں۔ پورے پاکستان کے مقابلے میں ایڈز کے سب سے زیادہ کیسز سندھ میں رپورٹ ہو رہے ہیں اور بچوں کی ناقص نشوونما کی شرح بھی یہاں سب سے زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں:ایم کیو ایم کے 2 دھڑوں کے درمیان بہادر آباد کے مرکز پر تصادم کے پس پردہ حقائق کیا ہیں؟

یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ کتے کے کاٹے سے بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کیونکہ اسپتالوں میں ویکسین تک دستیاب نہیں ہوتی۔

نئے انتظامی یونٹس اور آئینی ترامیم کی ضرورت

فوزیہ حمید کا کہنا ہے کہ جب اتنے زیادہ مسائل اکٹھے ہو جائیں اور حکومت ڈیلیور نہ کر پا رہی ہو، تو ہر ذی شعور انسان جس کے دل میں ملک کا درد ہے، وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا ہمارے گورننس ماڈل میں کوئی بنیادی خرابی ہے؟

انہوں نے کہا کہ اگر اس ماڈل میں مسئلہ ہے، تو پھر ہمیں سنجیدگی سے بیٹھ کر سوچنا ہوگا کہ کیا نئے انتظامی یونٹس، نئے صوبوں اور نئے شہروں کے قیام پر بات ہونی چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں فوزیہ حمید نے کہاکہ نئے صوبوں سےمتعلق موضوع پر گفتگو ہونی چاہیے۔ سندھ اسمبلی میں نثار کھوڑو کی جانب سے پیش کی گئی تحریکِ التوا پر بحث کا آغاز بھی ہو چکا ہے اور ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر کھلم کھلا بات کرنی ہوگی۔

آئین کی لچک اور 26ویں آئینی ترمیم

فوزیہ حمید کے مطابق اگر آئینِ پاکستان بالکل کامل ہوتا تو وقت کے ساتھ اس میں ترامیم کی ضرورت پیش نہ آتی۔ وقت کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے ہی 26ویں آئینی ترمیم لائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:ملک میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی ضرورت، قومی سطح پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے، ایم کیو ایم

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ہمیشہ سے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور ایک بااختیار مقامی حکومت کے نظام پر یقین رکھتی ہے، کیونکہ یہی جمہوریت کا بنیادی ستون ہے۔

آرٹیکل 140-اے اور بلدیاتی اختیارات کا شفاف نظام

رکن سندھ اسمبلی کے مطابق 26ویں ترمیم کے وقت ہماری خواہش تھی کہ آئین کے آرٹیکل 140-اے (140A) کی مزید وضاحت کی جائے۔

اس کی تشریح سے مراد یہ ہے کہ منتخب میئر کے اختیارات کو آئین میں واضح طور پر لکھ دیا جائے تاکہ کل کو کوئی میئر یہ عذر پیش نہ کر سکے کہ اس کے پاس کام کرنے کے اختیارات نہیں تھے۔

اسی طرح صوبائی مالیاتی کمیشن کا جو فارمولا لکھا ہوا ہے، اس پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ اس کی وضاحت بھی ضروری ہے تاکہ فنڈز کی منتقلی نیچے تک ممکن ہو سکے۔ جب تک وزیراعلیٰ کے پاس فنڈز پڑے رہیں گے اور وہ نیچے منتقل نہیں ہوں گے، تب تک شہر اور صوبہ ترقی نہیں کر سکتے۔

پیپلز پارٹی کا رویہ اور 27ویں آئینی ترمیم

فوزیہ حمید کے مطابق بدقسمتی سے 26ویں ترمیم میں ہماری ان شقوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ پھر 27ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی ہماری پہلی ترجیح یہی تھی کہ آرٹیکل 140-اے کی واضح تشریح کے ذریعے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنایا جائے۔

 تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق تھیں، لیکن صرف پاکستان پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت کی۔ اس رویے سے ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا پیپلز پارٹی جمہوری نظام میں اختیارات کی منتقلی چاہتی بھی ہے یا نہیں؟

عوامی حقوق اور نئے صوبوں کا قیام

فوزیہ حمید نے کہا کہ  ہم نے 27ویں ترمیم کے وقت بھی واضح کر دیا تھا کہ اگر آج آپ ایک بااختیار مقامی حکومت کا نظام نہیں لائیں گے اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھیں گے، تو ملک سے نئی آوازیں اٹھیں گی۔

پھر نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ زور پکڑے گا اور جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی تو ایم کیو ایم سب سے آگے کھڑی ہو کر اس کی حمایت کرے گی، کیونکہ ہم عوام کے اختیارات عوام کے پاس لانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دادو میں بیٹھے ہوئے شخص کے لیے روزانہ اپنے مسائل کے حل کے لیے کراچی آنا ممکن نہیں ہے۔ کتنا اچھا ہو کہ اس کے اپنے علاقے میں ایسا نظام ہو جہاں اس کی شنواائی ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں:ایم کیو ایم نے بگڑتی صورت حال پر ’کراچی بچاؤ مہم‘ شروع کرنے کا اعلان کردیا

ہم صوبے کی تقسیم کے بجاے انتظامی یونٹس کی تشکیل کی بات کرتے ہیں تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر حقوق مل سکیں۔

میرٹ کی پامالی اور ایم این ایز ، ایم پی ایز کے ذریعے بھرتیوں کا خاتمہ

فوزیہ حمید کا کہنا ہے کہ سید مصطفیٰ کمال نے بالکل بجا فرمایا کہ سرکاری اداروں میں ممبرانِ اسمبلی کے ذریعے ہونے والی بھرتیوں کو روکنا ہو گا۔

ہماری سوسائٹی کا یہ المیہ بن چکا ہے کہ ہر شخص سفارش کے ذریعے اپنے بندے کو نوکری دلوانا چاہتا ہے۔ اس سفارشی کلچر نے میرٹ کا قتلِ عام کر دیا ہے۔

جب میرٹ ختم ہوتا ہے تو نااہل لوگ عہدوں پر بیٹھ جاتے ہیں جنہیں اپنی ذمہ داریوں اور ملازمت کی نوعیت کا علم ہی نہیں ہوتا۔ کرپشن کا بازار گرم ہے اور لوگ صرف اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

ایم کیو ایم کی ماضی کی غلطیاں اور خود احتسابی

فوزیہ حمید کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک ایم کیو ایم کے ماضی کا تعلق ہے، میں خود 2013 میں رکن قومی اسمبلی رہی ہوں اور رابطہ کمیٹی کی رکن بھی ہوں۔

میں یہ بات دعویٰ سے کہہ سکتی ہوں کہ پورے پاکستان کو ایم کیو ایم کو یہ کریڈٹ دینا چاہیے کہ یہ وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے اپنا سخت خود احتسابی کا عمل مکمل کیا۔

جہاں جہاں غلطیاں اور مسائل تھے، ہم نے انہیں تسلیم کیا اور ان کی نشاندہی کی۔ یہاں تک کہ جب پارٹی کے بانی نے ’پاکستان مردہ باد‘ کا نعرہ لگایا، تو پارٹی نے اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے انہیں بھی مسترد کر دیا۔

کراچی کی موجودہ حالتِ زار اور حکومت کی ترجیحات

انہوں نے کہا کہ ہم نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ صرف اس لیے کیا تھا کیونکہ ہم ایک بااختیار اور مؤثر بلدیاتی نظام چاہتے تھے، کوئی برائے نام یا گونگلا نظام نہیں جس میں میئر کے پاس کوئی اختیار نہ ہو۔

آج دنیا چاند پر جا رہی ہے اور کراچی جیسے شہر میں صوبائی حکومت اور میئر سائیکل ایمبولینس شروع کر کے اس کا فخر سے پرچار کر رہے ہیں۔

 یہ عوامی فنڈز کا ضیاع اور محض اپنی ذات کی تشہیر کے لیے کیے جانے والے ڈرامے ہیں۔ جب تک میرٹ کی بحالی نہیں ہوگی، اسمبلیوں میں سفارش اور پراکسی کے ذریعے آنے والے لوگ ہی بیٹھتے رہیں گے اور غیر منطقی قانون سازی ہوتی رہے گی۔

کراچی کی زبوں حالی اور عوامی حقائق

حکومتی دعوؤں کے برعکس سڑکوں کا جال بچھانے کی حقیقت سب کے سامنے ہے۔ بہادر آباد سے کراچی یونیورسٹی جانے والی روڈ کی حالت دیکھ لیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: گلبرگ ٹاؤن میں کھنڈر کو خوبصورت اسکول کی عمارت میں تبدیل کردیا گیا

کراچی یونیورسٹی جہاں ملک کے معمار تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہاں پہنچنے کے لیے طلبا کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی حال نارتھ ناظم آباد، فیڈرل بی ایریا، کیماڑی اور بلدیہ کا ہے۔

سڑکیں ہیں، نہ پینے کا پانی ہے اور نہ ہی سیوریج کا نظام فعال ہے، اسپتالوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

جمہوری و آبادیاتی توازن کا مسئلہ اور گورننس کا بحران

2013 کی مردم شماری کے مطابق سندھ کی آبادی تقریباً 55.6 ملین ہے، جس میں سے 20 ملین سے زیادہ آبادی صرف کراچی کی ہے جو کل آبادی کا 38 فیصد بنتی ہے۔ اگر ہم حیدرآباد اور سکھر جیسے شہری علاقوں کو ملا لیں تو یہ 48 فیصد بنتی ہے۔

فوزیہ حمید نے کہا کہ سسٹم میں بنیادی خرابی یہ ہے کہ یہ 48 فیصد شہری آبادی اگر پیپلز پارٹی کو ووٹ نہ بھی دے اور شدید احتجاج بھی کرے، تب بھی موجودہ الیکٹورل سسٹم کے تحت وہ پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں گرا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت عوامی مسائل سے بالکل بے نیاز ہو چکی ہے اور من مانی پر اتر آئی ہے۔

صوبائی حکومت کا عوامی احتجاج پر رویہ اور ‘جین زی’کا دور

فوزیہ حمید کا مزید کہنا تھا کہ آج اگر 10 یا 15 لوگ بھی اپنے جائز حقوق کے لیے احتجاج کرنے نکلتے ہیں تو حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ریڈ زون کو سیل کر دیتی ہے اور پورے شہر کا نظام درہم برہم کر دیتی ہے۔

آئین کے تحت احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کے مسائل سنے، نہ کہ کنٹینرز لگا کر خود کو بند کر لے۔

انہوں نے کہا کہ آج کی نوجوان نسل یعنی ’جین زی‘ اس ناکام نظام سے تنگ آ چکی ہے اور وہ اب خاموش نہیں بیٹھے گی۔ اب حکومتوں کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ عوام کے خادم ہیں نا کہ حکمران۔

قومی و صوبائی سطح پر ایڈمنسٹریٹو کمیشن کا قیام

فوزیہ حمید کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ ایک شفاف اور کارآمد میکانزم کی تشکیل ہے۔

جب بھی ہم اصلاحات کی بات کرتے ہیں تو حکمران جماعت جذباتی کارڈ کھیل کر تعصب کو ہوا دیتی ہے اور ’سندھ دھرتی‘ کا نام لے کر عوام کو گمراہ کرتی ہے۔

اگر سندھ دھرتی سے واقعی محبت ہے تو اس کی حالت زار کو بہتر کیوں نہیں بنایا جاتا؟ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی اور صوبائی سطح پر ایک بااختیار ایڈمنسٹریٹو کمیشن تشکیل دیا جائے۔

یہ کمیشن آبادی، وسائل اور تمام اعداد و شمار کا جائزہ لے کر یہ طے کرے کہ آیا نئے انتظامی یونٹس کے ذریعے عوام کو بہتر سہولیات دی جا سکتی ہیں یا پھر ایک بااختیار بلدیاتی نظام کے ذریعے۔

اب ہمیں نہ صرف اپنے شہر اور صوبے بلکہ پورے پاکستان کے مستقبل کے لیے سنجیدگی سے فیصلے کرنا ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp