حکومتِ سندھ نے سرکاری ملازمین کے لیے ایک بڑا اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری 2027 سے ریٹائر ہونے والے تمام ملازمین کو ان کی ریٹائرمنٹ کے آخری دن ہی پینشن اور دیگر بنیادی مالی واجبات ادا کر دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں اسکول سے باہر بچوں کی شرح 39 فیصد، تعلیمی نظام پر سوالات اٹھنے لگے
یہ فیصلہ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیرِ صدارت پینشن اور میڈیکل کلیمز کے جائزہ اجلاس میں کیا گیا۔
چیف سیکریٹری نے تمام صوبائی دفاتر کو ہدایت کی ہے کہ پینشن کے زیرِ التوا تمام بلز اگلے 3 ماہ کے اندر اندر کلیئر کیے جائیں تاکہ سرکاری ملازمین کو اپنے جائز حق کے لیے دفاتر کے بار بار چکر نہ لگانے پڑیں۔
انٹر ڈیپارٹمنٹل ٹاسک فورس کا قیام
شفافیت اور بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے سیکرٹری سروسز کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس قائم کر دی گئی ہے، جس میں اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ، مالیات، صحت اور جنرل ایڈمنسٹریشن کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ فورس ایک ہفتے کے اندر اپنا حتمی فریم ورک پیش کرے گی اور جہاں ضرورت ہو قواعد و ضوابط میں ترمیم کی تجویز دے گی۔
میڈیکل بلز کی ادائیگی میں آسانیاں
چیف سیکریٹری نے طبی اخراجات کی ادائیگی میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاخیر فنڈز کی کمی نہیں بلکہ انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔
کاغذی کارروائی کا خاتمہ: غیر ضروری کاغذی کارروائی، ای-ویریفکیشن اور این او سی کے مسائل کو حل کر کے پورے نظام کو سادہ، تیز اور آسان بنانے کی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیے: سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے تمام اسکول ہفتے میں چھ دن کھلیں گے
چیف سیکریٹری نے واضح کیا کہ ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے اہلخانہ کو پینشن اور میڈیکل واجبات کے حصول کے لیے بیوروکریسی کی غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔














