برطانوی بادشاہ کنگ چارلس کی سابق محبوبہ اور ایک وقت میں ان کی ’سول میٹ‘ کہلانے والی ڈیوینا شیفیلڈ 75 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی شادی پر بادشاہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کے چپکے چپکے آنسو بہانے کا عقدہ کھل گیا
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈیوینا شیفیلڈ 2 ستمبر 2026 کو مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئی تھیں۔ ان کے انتقال کی تصدیق ان کے 3 بیٹوں تھامس، ولیم اور ہینری نے کی۔ خاندان کے مطابق ان کی یاد میں ایک تقریب 2 نومبر کو منعقد کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ڈیوینا شیفیلڈ اور اس وقت کے شہزادہ چارلس کے درمیان سنہ 1976 میں تعلقات قائم ہوئے تھے۔ ان کا رومانس تیزی سے توجہ کا مرکز بن گیا تھا اور شاہی مبصرین انہیں مستقبل کی ممکنہ ملکہ کے طور پر دیکھ رہے تھے۔
اس وقت چارلس اور شیفیلڈ کو اکثر ایک ساتھ دیکھا جاتا تھا اور شاہی خاندان کے ساتھ ان کے تعلق کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوا جب انہیں ایک گھڑ سواری کی تقریب میں ملکہ الزبتھ دوم اور شہزادہ فلپ کے ساتھ بیٹھے دیکھا گیا۔
مزید برآں چارلس شیفیلڈ کو بالمورل بھی لے گئے تھے جہاں ان کی ملاقات شاہی خاندان کے افراد سے ہوئی تھی جن میں کوئین مدر بھی شامل تھیں۔
تاہم یہ رشتہ اس وقت ختم ہو گیا جب شیفیلڈ کے سابق بوائے فرینڈ پاور بوٹ ریسر جیمز بیئرڈ نے انکشاف کیا کہ وہ دونوں پہلے ایک ساتھ رہ چکے ہیں۔
مزید پڑھیے: ’31اگست میرا سب سے ناپسندیدہ دن‘ ہے، شاہ چارلس کا لیڈی ڈیانا کی 29ویں برسی پر پیغام
اس انکشاف نے اس وقت کے شہزادہ چارلس سے شادی کے ان کے امکانات ختم کر دیے کیونکہ روایتی توقعات کے تحت مستقبل کے بادشاہ سے یہ امید کی جاتی تھی کہ وہ ایسی خاتون سے شادی کرے جس کا ماضی بے داغ سمجھا جاتا ہو۔
بعد ازاں چارلس نے سنہ 1981 میں لیڈی ڈیانا اسپینسر سے شادی کی جبکہ شیفیلڈ نے 5 ماہ بعد جوناتھن مورلی سے شادی کر لی تھی۔
واضح رہے کہ ڈیوینا شیفیلڈ کا تعلق شاہی خاندان سے نہیں تھا بلکہ وہ برطانیہ کے انتہائی امیر اور بااثر اپر کلاس اشرافیہ سے تھیں۔ وہ مشہور اسکاٹش صنعتکار اور آئی سی آئی کمپنی کے چیئرمین لارڈ میک گوون کی نواسی تھیں جو 20 سال تک برطانیہ کی سب سے بڑی کیمیکل کمپنی کے سربراہ رہے۔ اسی وجہ سے انہیں اس دور میں پرنس چارلس کے لیے موزوں سمجھی جانے والی’انگلش روزِز‘ میں شمار کیا جاتا تھا۔
مزید پڑھیں: حقیقی زندگی میں طلسماتی کہانی جیسا سماں باندھتی مشہور شاہی شادیاں
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ واضح رہے کہ اس دور میں برطانوی میڈیا پرنس چارلس کی ممکنہ دلہنوں کے لیے ’انگلش روزِز‘ کی اصطلاح استعمال کرتا تھا۔ اس سے مراد ایسی لڑکیاں تھیں جو خالص انگریز اپر کلاس اور پرانے امیر خاندانوں سے تعلق رکھتی ہوں، روایتی انگریز حسن، شائستگی اور قدرتی خوبصورتی کی حامل ہوں، اور سب سے بڑھ کر کردار کے لحاظ سے بے داغ سمجھی جائیں۔
ڈیوینا شیفیلڈ انہی وجوہات کی بنا پر اس فہرست میں شامل تھیں کیونکہ وہ لارڈ میک گوون کی نواسی اور انتہائی بااثر خاندان سے تھیں لیکن سابق بوائے فرینڈ کے ساتھ رہنے کا انکشاف سامنے آنے کے بعد وہ اس وقت کے شاہی معیار پر پوری نہ اتر سکیں۔
یہ بھی پڑھیے: انگلینڈ کے پہلے بادشاہ اَیتھل اسٹین کو تاریخ نے کیوں بھلا دیا؟
تاہم ان کا خاندان صرف دولت میں ہی نہیں بلکہ سیاسی تعلقات کے لحاظ سے بھی طاقتور تھا۔ ان کی کزن سمانتھا شیفیلڈ نے بعد میں برطانیہ کے سابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے شادی کی۔ یہی وجہ تھی کہ ڈیوینا کو شاہی خاندان نے آسانی سے قبول کر لیا تھا چارلس انہیں بالمورل لے گئے تھے اور وہ ملکہ الزبتھ دوم اور پرنس فلپ کے ساتھ تقریبات میں بھی نظر آئیں۔














