آرٹیفیشل انٹیلجنس انسانی حقوق کے لیے بھی خطرہ بن گئی

پیر 14 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت انسانی حقوق کے لیے بھی خطرہ ثابت ہونے لگی۔ اے آئی سے انسانی حقوق کو لاحق خطرات کے پیش نظر برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور لارڈز نے نئے قانون کا مطالبہ کر دیا۔

برطانوی پارلیمنٹ کی جوائنٹ کمیٹی آن ہیومن رائٹس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خطرات کا مؤثر طور پر علاج کرنے کے لیے موجودہ قوانین ناکافی ہیں۔

انسانی حقوق کی کمیٹی (جے سی ایچ آر) نے رپورٹ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک نئے قانون کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان خطرات کی سنگینی اور وسعت سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے مصنوعی ذہانت کو لگام ڈالنے کے لیے امریکی کانگریس میں نئی پیشرفت

کمیٹی کے چیئرمین اور لیبر رکن پارلیمنٹ الیکس سوبل نے کہا کہ برطانیہ سمیت دنیا میں کہیں بھی مصنوعی ذہانت کے لیے موجودہ قوانین اور ضابطہ کار اس مقصد کے لیے موزوں نہیں۔

دوسری جانب حکومتی ترجمان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہی ہے، جس سے مواقع کے ساتھ ساتھ خطرات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت دنیا کے بہترین وسائل سے لیس سیکیورٹی اداروں کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی جانچ اور اسے سمجھنے کے لیے عالمی کوششوں کی قیادت کر رہی ہے۔ یہ ادارہ لوگوں کے تحفظ کے لیے ضروری معیارات اور حفاظتی اقدامات کی تیاری میں مدد دے گا۔

ادھر مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی مصنوعی ذہانت کی عالمی سطح پر نگرانی، آزادانہ مانیٹرنگ اور اس کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی تجویز دے چکے ہیں، جس سے حریف کمپنیوں کے سربراہان اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین اور ایلون مسک نے بھی اتفاق کیا ہے۔

حالیہ برسوں میں انسانی حقوق کے حوالے سے سامنے آنے والی تشویش میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو انٹرنیٹ سے جمع کیے گئے بڑے ڈیٹا بیس پر تربیت دی جائے تو وہ مخصوص گروہوں کے خلاف تعصب کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ ایسے ڈیٹا میں نسل پرستانہ، جنس پرستانہ اور دیگر ناپسندیدہ مواد بھی شامل ہو سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کو غلط معلومات تیار کرنے اور پھیلانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے اے آئی کے بے قابو ہونے کا خدشہ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

جے سی ایچ آر نے اپنی 100 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے خلاصے میں نشاندہی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی حقوق کی متعدد خلاف ورزیوں کا سبب بن رہی ہے، جن میں خواتین اور لڑکیوں کی جنسی نوعیت کی جعلی تصاویر بنانا اور لوگوں کی رضامندی کے بغیر چہروں کی اسکیننگ کرنا شامل ہے۔

کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے لیے ایک آزاد اور قانونی حیثیت رکھنے والا نگران ادارہ قائم کیا جائے، جبکہ مختلف خطرات کی بنیاد پر اے آئی نظاموں کی درجہ بندی کی جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ خطرناک اے آئی نظاموں پر سخت ذمہ داریاں عائد کی جانی چاہئیں، جبکہ ایسے استعمال جنہیں انسانی حقوق سے متصادم سمجھا جائے، انہیں مکمل طور پر ممنوع قرار دیا جائے۔

برطانوی کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے تیز رفتار پھیلاؤ کے اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہے، جبکہ موجودہ نظام اس کے ممکنہ سنگین نتائج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

17 سال بعد بھی بچوں کا ٹرسٹ خالی کیوں؟ پیرس جیکسن عدالت پہنچ گئیں

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا