وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کرغستان سے واپس پہنچتے ہی وزارت صحت کے امور اور پمز آتشزدگی واقعے کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، سیکریٹری ہیلتھ کیپٹن (ر) محمد محمود اور پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلمان شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو شعبہ صحت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، جبکہ پمز آتشزدگی واقعے کے حوالے سے جاری تحقیقات پر بھی خصوصی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ عبوری تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم کی جانب سے کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واضح کیا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعظم نے وزیر صحت اور سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ وہ متبادل دنوں میں پمز اسپتال میں اپنی ذاتی موجودگی یقینی بنائیں اور اپنی نگرانی میں اسپتال کی بہتری کے لیے اقدامات پر عملدرآمد کروائیں۔
وزیراعظم نے پمز اسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات بہتر بنانے اور تمام تر حفاظتی اقدامات کا اطلاق یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شعبہ صحت میں اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی کردی۔
مزید پڑھیں: پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پمز اسپتال میں ہونے والی آتشزدگی کے باعث 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔














