روس سے خام تیل کی خریداریاں جاری رکھنے والے ممالک پر 100 فیصد تک امریکی ٹیرف کے نئے بل نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو شدید معاشی اور سفارتی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔
اس امریکی اقدام نے جہاں نئی دہلی اور واشنگٹن کے تجارتی تعلقات کو داؤ پر لگا دیا ہے، وہیں بھارت کے اندرونی سیاسی اور معاشی توازن کو بھی بگاڑ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:روسی تیل خریدنے پر بھارت کو 100 فیصد تک ٹیرف کی امریکی دھمکی
امریکی کانگریس کے اس نئے بل میں روس سے خام تیل کے بڑے خریداروں بالخصوص بھارت اور چین کی مصنوعات پر 100 فیصد تک برآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس پر بھارت نے غیر معمولی سخت ردعمل دیتے ہوئے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ یہ فیصلہ دوطرفہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچائے گا اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں بگاڑ کا سبب بنے گا۔
نئی دہلی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی 1.4 ارب آبادی کی توانائی کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے متنوع ذرائع سے ایندھن کی خریداری جاری رکھیں گے۔
تجارتی مذاکرات اور دوطرفہ تعلقات پر اثرات
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی ٹیرف کے تنازعات کی وجہ سے کشیدہ رہے ہیں۔ واشنگٹن کے اٹلانٹک کونسل سے منسلک ماہر مائیکل کوگل مین کے مطابق دونوں پارٹیز کی حمایت سے پیش کیا جانے والا یہ بل بھارتی تجارتی مذاکرات کے لیے اب تک کا سب سے بڑا دھچکا ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:امریکی ٹیرف کے اثرات، بھارتی کرنسی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی
تاہم بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ مودی سرکار دسمبر 2026 میں جی 20 اجلاس کے موقع پر مودی اور ٹرمپ کی متوقع ملاقات کے ذریعے حتمی تجارتی معاہدے کی امید رکھتی ہے، لیکن امریکی اقدام نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فاصلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مودی کے لیے داخلی اور سیاسی چیلنجز
اگر مودی حکومت امریکی دباؤ میں آ کر روسی تیل کی خرید کم کرتی ہے تو ملک میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ جائیں گی، جس سے اتر پردیش، پنجاب اور مودی کی ہوم اسٹیٹ گجرات میں ہونے والے آئندہ اہم علاقائی انتخابات میں ان کی پارٹی کو بڑا سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب اگر بھارت سستا روسی تیل خریدنا جاری رکھتا ہے تو امریکا کو کی جانے والی بھارتی برآمدات پر 100 فیصد ٹیرف لگ سکتے ہیں، جو بھارتی معیشت کے لیے انتہائی تباہ کن ہوں گے۔
سال 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد بھارت نے رعایتی قیمت پر روسی خام تیل کی خریداری میں ریکارڈ اضافہ کیا، جو اب اس کی کل تیل کی درامدات کا 40 فیصد سے زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں:امریکا کینیڈا تجارتی مذاکرات ناکام، ٹرمپ کی ٹیرف بڑھانے کی دھمکی
اگست 2025 میں صدر ٹرمپ نے بھارت پر 50 فیصد تک کے بھاری ٹیرف عائد کیے تھے، جنہیں فروری میں اس وعدے پر واپس لیا گیا تھا کہ بھارت روسی تیل کی خرید روک دے گا۔
تاہم ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والے عالمی سپلائی کے شدید بحران کے باعث بھارت نے 2026 کے اوائل میں روسی تیل کی خرید میں دوبارہ نمایاں اضافہ کر دیا، جس نے واشنگٹن کو سخت قانون سازی پر مجبور کر دیا ہے۔














