برطانیہ میں بچوں کے جرائم پر والدین کو بھی سزا دینے کی تجویز

ہفتہ 19 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انگلینڈ اور ویلز میں بچوں کے جرائم پر والدین کے خلاف بھی کارروائی کی تجویز سامنے آئی ہے، والدین کو جرمانے کے ساتھ سرکاری مراعات سے محروم کرنے اور انتہائی سنگین صورت میں جیل بھیجنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یوتھ جسٹس منسٹر جیک رچرڈز نے کہا ہے کہ نوجوانوں کے جرائم سے نمٹنے کے لیے والدین کو بھی متناسب انداز میں جواب دہ ہونا چاہیے اور انہیں معاشرے کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ: شام 6 بجے کے بعد 15 سال سے کم عمر بچوں کے بس سفر پر پابندی، کس کو کس سے خطرہ؟

جیک رچرڈز کے مطابق حکومت نے مئی میں والدین کے لیے جاری کیے جانے والے احکامات کو مزید مؤثر اور وسیع کرنے کے منصوبے پیش کیے تھے، جن کے تحت والدین یا سرپرستوں کو اپنے بچے کے رویے میں بہتری کے لیے مشاورتی نشستوں میں شرکت کرنا ہوگی، جن میں رہائشی تربیتی کورسز بھی شامل ہوسکتے ہیں، بصورت دیگر ایک ہزار پاؤنڈ تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

یوتھ جسٹس منسٹر نے واضح کیا کہ والدین کو جیل بھیجنے کی کارروائی صرف انتہائی سنگین صورتوں میں ہوگی اور سزا کا فیصلہ جج کی صوابدید پر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ اصلاحات میں والدین کے لیے ترغیب اور سزا دونوں کا طریقہ اپنایا جائے گا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Newstalk (@newstalkfm)

تاہم فوجداری انصاف کے شعبے سے وابستہ متعدد ماہرین نے ان تجاویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ والدین کے لیے ایسے احکامات مؤثر ثابت نہیں ہوئے اور ان کا بوجھ غریب طبقے پر زیادہ پڑسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں ذہنی صحت کے بحران کے شکار 75 ہزار سے زائد بچے اسپتال پہنچ گئے

ڈرہم یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر نکی رٹر نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ والدین کے لیے جاری کیے جانے والے احکامات کے مؤثر نہ ہونے کے شواہد بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ والدین کے ساتھ رضاکارانہ بنیادوں پر کام کرنا اعتماد قائم کرنے اور معاونت فراہم کرنے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے، جبکہ جرمانوں میں اضافہ معاشرے پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

موجودہ قوانین کے تحت عدالتوں کو 16 سال سے کم عمر بچے کے جرم ثابت ہونے کی صورت میں والدین کے لیے حکم جاری کرنے پر غور کرنا ہوتا ہے، جبکہ 16 اور 17 سال کی عمر کے بچوں کے معاملے میں بھی ایسا حکم جاری کیا جاسکتا ہے اگر عدالت سمجھے کہ اس سے مزید جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی۔

ایسے حکم کی مدت بارہ ماہ سے زیادہ نہیں ہوسکتی اور اس کی خلاف ورزی جرم تصور ہوتی ہے، جس پر ایک ہزار پاؤنڈ تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کی جنسی بلیک میلنگ روکنے کے لیے برطانیہ کا سخت قانون متعارف کرانے کا اعلان

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق والدین کے لیے ایسے احکامات کے استعمال میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں کمی آئی ہے اور 2009، 2010 میں ایک ہزار سے زائد احکامات کے مقابلے میں 2022، 2023 میں صرف 33 احکامات جاری کیے گئے۔

جیک رچرڈز نے بچوں کی مجرمانہ ذمہ داری کی عمر 10 سال سے بڑھانے کے مطالبے کو بھی مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے نظام انصاف پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور یہ معاملہ حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں۔

اقوام متحدہ اس سے قبل برطانیہ میں مجرمانہ ذمہ داری کی عمر کو دنیا کی کم ترین عمروں میں شمار کرتے ہوئے اسے کم از کم چودہ سال کرنے کی سفارش کرچکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp