ٹرمپ کا میڈیا پر ایک اور وار؟ سی این این سمیت 3 اداروں کا وائٹ ہاؤس میں داخلہ بند

ہفتہ 19 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی عائد کردی اور مزید میڈیا اداروں کے خلاف بھی ایسی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ تینوں اداروں پر پابندی فوری طور پر نافذ ہوگی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ میڈیا ادارے ان کی انتظامیہ سے متعلق مسلسل ’جعلی خبریں‘ نشر اور شائع کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران بھی میڈیا اداروں پر تنقید کی اور کہا کہ وہ ان خبروں سے تنگ آچکے ہیں جنہیں وہ غلط سمجھتے ہیں۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ آنے والے دنوں میں مزید میڈیا اداروں کو بھی وائٹ ہاؤس سے دور رکھا جاسکتا ہے۔

ٹرمپ نے سی این این اور ایم ایس ناؤ کے ساتھ پولیٹیکو کا نام لیتے ہوئے ان اداروں کی کوریج کو اپنی انتظامیہ کے خلاف قرار دیا۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ سی این این اور ایم ایس ناو ’جعلی خبریں‘ نشر کرتے ہیں، جبکہ انہوں نے مزید میڈیا اداروں پر پابندی عائد کیے جانے کا بھی عندیہ دیا۔

رائٹرز کے مطابق اس اقدام کے بعد میڈیا اداروں کو وائٹ ہاؤس تک رسائی اور صحافتی سرگرمیوں کے حوالے سے ممکنہ قانونی چیلنج کا سامنا ہوسکتا ہے۔ آزادیٔ صحافت سے متعلق تنظیموں اور میڈیا اداروں نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ قانونی ماہرین نے بھی امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تناظر میں اس اقدام کے قانونی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:’سی این این  کی خاتون رپورٹر کے سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ سیخ پا، وائٹ ہاؤس بھی آگ بگولا

اے پی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اور میڈیا کے درمیان کشیدگی پہلے بھی سامنے آتی رہی ہے اور وائٹ ہاؤس نے ماضی میں بعض دیگر بڑے میڈیا اداروں کے ساتھ بھی رسائی کے معاملات پر تنازعات کا سامنا کیا ہے۔

ٹرمپ نے اسی دوران ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے بھی کہا کہ جنگ جلد ختم ہوجائے گی، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp