بچوں کی جنسی بلیک میلنگ روکنے کے لیے برطانیہ کا سخت قانون متعارف کرانے کا اعلان

بدھ 9 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی حکومت نے بچوں کو آن لائن جنسی استحصال اور بلیک میلنگ سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت جلد ایسا قانون متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت بچوں کے زیر استعمال موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات سے عریاں تصاویر بنانے اور شیئر کرنے کی صلاحیت کو محدود کیا جائے گا۔

برطانیہ میں زیادہ تر اسمارٹ فونز کے آپریٹنگ سسٹم تیار کرنے والی کمپنیوں ایپل اور گوگل کو جون میں 3 ماہ کی مہلت دی گئی تھی کہ وہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے زیر استعمال آلات پر عریاں تصاویر تک رسائی روکنے کے مؤثر اقدامات کریں۔

یہ بھی پڑھیں: ایک سال میں 20 ملین بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار، یونیسیف کی ہوشربا رپورٹ جاری

تاہم برطانوی وزیرِ ثقافت لیزا نینڈی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ دونوں کمپنیوں کی جانب سے کیے گئے اہم وعدوں کے باوجود موجودہ اقدامات مسئلے کی سنگینی سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

حکومت کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت نہ صرف موبائل فونز بلکہ بچوں کے زیر استعمال ایپس میں بھی عریاں تصاویر کو بلاک کرنے کے لیے حفاظتی نظام متعارف کرانا ہوگا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد آن لائن ماحول میں بچوں کو جنسی استحصال، گرومنگ اور بلیک میلنگ سے بچانا ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنیاں پہلے ہی اس حوالے سے کچھ اقدامات کرچکی ہیں، ایپل نے 2021 میں ’کمیونیکیشن سیفٹی‘ فیچر متعارف کرایا تھا، جو بچوں کو عریاں تصاویر دیکھنے یا شیئر کرنے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس نظام کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔ گوگل نے بھی بچوں کے تحفظ اور بغیر رضامندی کے نجی تصاویر کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے اپنی کوششوں کا دفاع کیا ہے۔

بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم این ایس پی سی سی نے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے موبائل فونز سے بنائی جانے والی تصاویر بعض اوقات آن لائن گرومنگ، جنسی بلیک میلنگ اور دیگر جرائم کا آغاز بن سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: برطانیہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال کو جرم قرار دینے والا پہلا ملک بننے کو تیار

برطانوی پولیس حکام بھی ماضی میں خبردار کرچکے ہیں کہ بچوں کے آلات سے عریاں تصاویر بنانے یا شیئر کرنے کی صلاحیت محدود کرنا ’سیکسٹورشن‘ کے خلاف ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔

اس جرم میں بچوں کو پہلے ایسی تصاویر شیئر کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے اور بعد ازاں انہیں انہی تصاویر کی بنیاد پر بلیک میل کیا جاتا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون بالغ افراد کو عریاں تصاویر تک رسائی سے نہیں روکے گا، تاہم بچوں کے لیے پابندی نافذ کرنے کی خاطر صارف کی عمر کی تصدیق کا نظام درکار ہوسکتا ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس عمل سے پرائیویسی متاثر ہوسکتی ہے، تاہم حکومت نے نگرانی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنیادی مقصد بچوں کا تحفظ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سوشل میڈیا کریئیٹرز پر ٹیکس کا نیا طریقہ متعارف: یوٹیوب کے ایک ہزار ویوز پر 195 روپے آمدن شمار ہوگی

خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی ضرورت پڑی تو ضرور لگے گی: فیصل کریم کنڈی

سعودی عرب میں پاک افواج دہائیوں سے متعدد شعبوں میں موجود ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کا سی این این کو انٹرویو

پیٹرول مہنگا، ڈیزل سستا، 8 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

سرکاری اور پرائیویٹ حج اسکیم میں بکنگ جاری، 65 ہزار سے زیادہ عازمین نے واجبات جمع کرا دیے

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان ایک پیج پر؟ حکومت کی مذاکرات کی آفر ایک ٹریپ

’پانی اور واش روم کی سہولت نہیں، مٹی پر سوتے ہیں‘، لانگ مارچ میں شامل پی ٹی آئی کارکنان رات کیسے گزارتے ہیں؟

متنی کے عوام پانی، صحت اور تعلیم کو ترس گئے، مگر خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیحات جلسے، جلوس اور لانگ مارچ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف! رک جاؤ

سات سالہ حبیبہ کے اسکول سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر

37 گیندیں، جب آفریدی افسانہ بنا