نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار 81ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہوگئے، جہاں وہ 21 سے 25 ستمبر تک وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ہمراہ مختلف اہم اجلاسوں اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں شریک ہوں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کا دورہ مختلف اہم سفارتی سرگرمیوں پر مشتمل ہوگا، جس کے دوران وہ جموں و کشمیر کے بارے میں او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کریں گے۔
اسحاق ڈار اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پر او آئی سی کے متعدد وزارتی اجلاسوں میں بھی شریک ہوں گے، جن میں او آئی سی وزرائے خارجہ کا سالانہ رابطہ اجلاس اور دیگر رابطہ گروپ کے اجلاس شامل ہیں۔
🔊PR No.2️⃣4️⃣9️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Curtain Raiser: Visit of the Deputy Prime Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 to New York to Attend the 81st Session of the United Nations General Assembly, 21-25 September 2026
🔗⬇️ pic.twitter.com/YbPPYiFSU5
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 20, 2026
فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کی حمایت کے اظہار کے طور پر نائب وزیراعظم مختلف اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کریں گے، جن میں 8 عرب و اسلامی ممالک کے گروپ کا اجلاس اور 2 ریاستی حل کے نفاذ کے لیے عالمی اتحاد کا اعلیٰ سطحی وزارتی اجلاس بھی شامل ہے۔
نائب وزیراعظم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مصنوعی ذہانت کے موضوع پر اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان کا بیان بھی دیں گے، جبکہ وبائی امراض کی روک تھام، تیاری اور ردعمل سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔
اسحاق ڈار اقتصادی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی صدارت بھی کریں گے۔ دورے کے دوران وہ مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ بھی اہم دوطرفہ ملاقاتوں اور اعلیٰ سطحی روابط میں شریک ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ، توانائی کی بلاتعطل فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر زور
دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اپنی ملاقاتوں اور دیگر سفارتی سرگرمیوں کے دوران علاقائی و عالمی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں کو اجاگر کریں گے اور اہم علاقائی و عالمی چیلنجز پر تبادلہ خیال کریں گے۔













