حکومت بجلی کی خریداری سے عملی طور پر باہر ہو رہی ہے، اویس لغاری

اتوار 20 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے بجلی کی خریداری کے موجودہ مرکزی نظام سے نکلنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کی پہلی بجلی وہیلنگ نیلامی کے لیے درخواستیں طلب کرلیں۔

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آج سے عملی طور پر بجلی کی خریداری کے نظام سے نکل رہی ہے، جس کے بعد بجلی پیدا کرنے والے اور صارفین براہ راست لین دین کرسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے بجلی ویلنگ آکشن کی منظوری دے دی، یہ نظام ہے کیا؟

انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی پیش کی جارہی ہے جبکہ آئندہ 5 سال کے دوران مجموعی طور پر 800 میگاواٹ بجلی کی نیلامی کا منصوبہ ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق نئے نظام کے تحت کاروباری ادارے اور صنعتیں مسابقتی بنیادوں پر پاور پلانٹس سے براہ راست بجلی خرید سکیں گی۔ ابتدائی مرحلے میں یہ نظام صنعتی اور دیگر بڑے صارفین کے لیے ہوگا، جبکہ ایک میگاواٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین پہلے مرحلے میں اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

اویس لغاری نے کہا کہ اب کسی کو حکومت کو بجلی فروخت کرنے کا حق نہیں ہوگا اور نہ ہی حکومت بجلی خرید سکے گی۔ ان کے مطابق آنے والے برسوں میں بجلی کی مارکیٹ مزید ترقی کرے گی اور مستقبل میں عام صارفین بھی اپنی پسند کے مطابق بجلی خرید سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی کے شعبے میں 4.8 کھرب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف، آڈٹ رپورٹ نے پول کھول دیا

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اب بجلی خرید کر اپنی مقرر کردہ قیمتوں پر عوام کو فروخت نہیں کرسکے گی۔ سستی بجلی سے پاکستانی صنعتوں کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانے اور برآمدات میں اضافے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت حکومت مرکزی نظام کے تحت بجلی خرید کر صارفین کو فراہم کرتی ہے اور طویل عرصے سے بجلی کی خریداری کی شرائط اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز یعنی آئی پی پیز کا نام آج بدنام ہوچکا ہے۔

وفاقی وزیر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے گزشتہ حکومتوں کی جانب سے کئی دہائیوں پہلے کیے گئے وعدے کو عملی طور پر نافذ کردیا ہے۔ ان کے مطابق اب بجلی کے سپلائرز اور صارفین ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست لین دین کرسکیں گے اور حکومت کی جانب سے بجلی کی خریداری کا نظام ختم ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران جنگ کے باعث توانائی بحران، مہنگی گیس سے بجلی پیدا کی تو فی یونٹ مزید مہنگی ہوگی، وزیر توانائی

یہ پیشرفت نیپرا کی جانب سے اوپن ایکسس بلک بجلی صارفین کے لیے یکساں یوز آف سسٹم چارجز کی منظوری کے چند روز بعد سامنے آئی ہے، جس کے تحت اہل صارفین کو اپنی بجلی فراہم کرنے والی کمپنی منتخب کرنے کی اجازت ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp