خدیجہ پیر جان اور صفیہ عبد الخالق نے کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے وابستگی، بھرتی کے طریقہ کار اور اس راستے کو مسترد کرنے کی وجوہات بیان کردیں، خاندانی تعلقات، جذباتی اثر و رسوخ اور ذہنی استحصال کے ذریعے نوجوان خواتین کو دہشتگردی کی طرف راغب کیے جانے کا انکشاف
بلوچستان میں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے نوجوانوں، خصوصاً خواتین کو بھرتی کرنے کے طریقہ کار سے متعلق 2 خواتین خدیجہ پیر جان اور صفیہ عبد الخالق کے بیانات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران اپنی وابستگی، بھرتی کے مراحل اور اس راستے سے علیحدگی کے فیصلے کے بارے میں گفتگو کی۔
کئی ماہ تک خدیجہ پیر جان اور صفیہ عبد الخالق کے نام لاپتا افراد کے بیانیے میں پیش کیے جاتے رہے، تاہم کوئٹہ میں اپنے بیانات کے دوران دونوں خواتین نے کالعدم تنظیموں سے تعلق اور اس راستے کو چھوڑنے کے فیصلے سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔
ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام گھرانوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان خواتین کو خاندانی رشتوں، اعتماد، جذباتی اثر و رسوخ اور ذہنی استحصال کے ذریعے دہشتگرد نیٹ ورکس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
خدیجہ پیر جان: نرسنگ کی طالبہ سے دہشتگرد سرگرمیوں تک
تربت کے علاقے تمپ سے تعلق رکھنے والی نرسنگ کی طالبہ خدیجہ پیر جان نے بتایا کہ اس کا شوہر کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) سے وابستہ تھا۔
اس کے مطابق شوہر نے پہلے اس کے بھائی کو متاثر کیا اور بعد ازاں اسے بھی تنظیم کے نیٹ ورک میں شامل کرلیا۔
خدیجہ کے بیان کے مطابق وہ ریاست مخالف سرگرمیوں کی طرف راغب ہوئی اور بعد میں نوشکی کے علاقے نوکنڈی میں ہونے والے دھماکے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔
اس نے اپنے کیے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دیگر بلوچ نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ایسی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں۔
نرسنگ جیسے شعبے سے وابستہ ایک نوجوان خاتون، جس کی تعلیم کا مقصد انسانی جانیں بچانے کے پیشے سے جڑنا تھا، دہشتگردی کی جانب کیسے دھکیلی گئی، خدیجہ کا بیان اس پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔
صفیہ عبد الخالق: خودکش حملے کی تیاری تک پہنچنے والی بھرتی
دوسری خاتون صفیہ عبد الخالق نے بتایا کہ اس کا ایک کزن، جو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے وابستہ تھا، نے اسے تنظیم سے متعارف کرایا۔
صفیہ کے مطابق بی ایل اے کے ایک کمانڈر نے اسے نیا موبائل فون فراہم کیا اور گاڑی چلانا سیکھنے کی ہدایت کی، تاکہ اسے گاڑی کے ذریعے خودکش حملے کے لیے تیار کیا جا سکے۔
اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھرتی کا عمل ابتدائی تعارف سے آگے بڑھ کر ایک نوجوان خاتون کو دہشتگرد کارروائی کے لیے عملی طور پر تیار کرنے تک پہنچ گیا تھا۔
خواتین کو دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جانے پر سوالات
ان واقعات کا ایک تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ نوجوان خواتین کو خودکش حملوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے، جبکہ ایسے منصوبے بنانے والے کمانڈر پس پردہ رہتے ہیں۔
دہشتگرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے والے افراد خود دھماکے کے مقام پر جانے کے بجائے دوسروں کو اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
خواتین کو خودکش حملہ آوروں کے طور پر بھرتی کرنا اور ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ دہشتگرد تنظیموں کی قیادت اپنے مقاصد کے حصول کے لیے عام خاندانوں کی بیٹیوں اور بیٹوں کو قربانی کا ذریعہ کیوں بناتی ہے۔
خودکش حملہ آوروں کی تیاری معاشرے کے لیے تباہ کن رجحان
خودکش حملہ آوروں کی تعریف، ان کی بھرتی یا انہیں تشدد کے لیے استعمال کرنا معاشرے پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ نوجوان خواتین، حتیٰ کہ کم عمر بچیوں کو بھی موت کے آلے میں تبدیل کرنا ان کی انسانی صلاحیتوں، تعلیم، مستقبل اور خاندانی زندگی کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔
ایسی کارروائیوں کے اثرات صرف دہشتگردی کے معصوم متاثرین تک محدود نہیں رہتے بلکہ حملہ آوروں کے خاندان بھی اس کے نتیجے میں شدید نقصان اٹھاتے ہیں۔
خواتین اور کم عمر بچیوں کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کے واقعات
ستمبر میں سامنے آنے والے دونوں خواتین کے بیانات ایسے سابقہ واقعات کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جن میں حکام نے کالعدم بی ایل اے کی جانب سے خواتین اور بچیوں کو خودکش دہشتگردی کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔
مارچ 2026 میں خضدار سے ایک ممکنہ خاتون خودکش حملہ آور کو گرفتار کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی، جبکہ اگست میں 16 اور 12 سال کی 2 بچیوں کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کیے جانے سے قبل بازیاب کرایا گیا۔
ایسے واقعات میں کسی نوجوان یا بچی کو دہشتگرد حملہ آور بننے سے روکنا خاندانوں اور معاشروں کو ایک اور ممکنہ سانحے سے محفوظ رکھنے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔
قربانی کا سوال: کمانڈروں کے اپنے بچے محاذ پر کیوں نہیں؟
خدیجہ اور صفیہ کے بیانات دہشتگرد تنظیموں کی قیادت سے ایک بنیادی سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ اگر ان کمانڈروں کے نزدیک ان کا مقصد اتنا مقدس اور قربانی اتنی ضروری ہے تو ان کے اپنے بچوں کو محاذ پر یا خودکش حملوں کے لیے کیوں نہیں بھیجا جاتا؟
عام بلوچ خاندانوں کے بیٹوں اور بیٹیوں سے ہی آخری قربانی کا مطالبہ کیوں کیا جاتا ہے؟ یہ سوال ان تنظیموں کے بھرتی کے طریقہ کار اور نوجوانوں کو استعمال کرنے کی حکمت عملی پر غور کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
خدیجہ پیر جان اور صفیہ عبد الخالق، دونوں نے کالعدم تنظیموں سے اپنی وابستگی پر افسوس کا اظہار کیا اور دیگر بلوچ نوجوانوں کو گمراہ ہونے سے بچنے کی اپیل کی۔
ان کے بیانات اس انسانی نقصان کو نمایاں کرتے ہیں جو اس وقت سامنے آتا ہے جب نوجوانوں کی زندگیوں کا رخ تعلیم، خاندان، روزگار اور بہتر مستقبل سے ہٹ کر دہشتگردی اور تباہی کی جانب موڑ دیا جاتا ہے۔
بلوچ ثقافت اور اسلامی اقدار کے منافی عمل
نوجوان خواتین کو تشدد اور خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنا بلوچ معاشرتی اقدار اور اسلامی تعلیمات سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے۔ بلوچ ثقافت میں خواتین کی عزت، وقار اور تحفظ کو اہمیت حاصل ہے، جبکہ اسلامی اقدار بھی انسانی جان کے احترام اور اس کے تحفظ پر زور دیتی ہیں۔
خواتین اور کم عمر بچیوں کو دہشتگردی کے لیے استعمال کرنے کا عمل نہ صرف ان کی زندگیوں اور خاندانوں کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ معاشرے کے بنیادی اخلاقی اور انسانی اصولوں کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔














