وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اسلام آباد کو ’سومنات‘ بنانے کا دعویٰ کرنے والا ’نام نہاد محمود غزنوی‘ 24 گھنٹے گزرنے سے پہلے ہی یہ کہہ کر بھاگ نکلا کہ اس کا یہ مطلب نہیں تھا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیانات میں وزیر دفاع نے مخالفین کے موقف پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو سومنات بنانے کا دعویٰ کرنے والا نام نہاد محمود غزنوی 24 گھنٹے گزرنے سے پہلے ہی یہ کہہ کر بھاگ نکلا کہ اس کا یہ مطلب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو چاہنے والے بھی بالکل ان جیسے ہی ملے ہیں، جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں اتنے پینترے بدلے ہیں کہ انہیں خود بھی یاد نہیں ہوں گے۔ یہ تمام لوگ ایک جیسے اور ایک دوسرے کی فوٹو کاپی ہیں۔
اسلام آباد کو سومنات بنانے والا محمود غزنوی 24گھنٹے نہیں گزرے دوڑ لگا گیا ھے۔ کہ میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ عمران خان کو چاہنے والے بھی اپنے جیسے ملے ھیں ۔ اس نے بھی سیاسی زندگی میں جتنے پینترے بدلے ھیں اسکو خود بھی یاد نہیں ھونگے۔ یہ سارے ایک جیسے ھیں ۔ ایک دوسرے کی فوٹو کاپی ھیں۔ https://t.co/V65V9VINQu
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) September 21, 2026
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ان لیڈروں کی زبان سے ان کی حب الوطنی کی اصل حقیقت واضح ہو رہی ہے اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ لوگ اقتدار کے حصول کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے نہ اسلام آباد سومنات ہے، نہ یہ شخص محمود غزنوی، یہ پاکستان مخالف زبان ہے، خواجہ آصف
انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا میں روزانہ بہنے والے خون پر ان کا دل کیوں نہیں روتا؟ کیا طالبان ان کے اتحادی ہیں جو خیبر پختونخوا پولیس اور بہادر جوانوں کی شہادتوں کا سدباب کرنے کی بجائے مزید انتشار اور نفرت پھیلا رہے ہیں؟
انہوں نے پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاجی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 27 ستمبر کے جس ‘حملے’ کی بات کی جا رہی ہے، کیا وہ طالبان کا حملہ ہے؟ اور کیا پاکستان میں مقیم افغان شہری اس لشکر کا حصہ ہوں گے؟ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ وفاق پوری قوت سے ملک اور دارالحکومت کا دفاع کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد کو سومنات بنانے کی دھمکیاں ہرگز قبول نہیں، طارق فضل چوہدری
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ عمران خان اور ان کے حواری اقتدار کے لیے کس حد تک گر سکتے ہیں، اس کا نظارہ قوم 9 مئی اور 26 نومبر کو دیکھ چکی ہے اور اب جو عزائم ظاہر کیے جا رہے ہیں، اس سے عوام پر ان کی اصلیت مکمل طور پر عیاں ہو چکی ہے۔ یہ عناصر ماضی میں بھی امن، ترقی اور پاکستان کے دشمن تھے اور آج بھی ہیں۔ لاکھ سیاسی اختلافات سہی، لیکن کوئی بھی سچا پاکستانی ایسی زبان استعمال نہیں کر سکتا، یہ صریحاً پاکستان دشمن زبان ہے اور اب اس میں کسی کو کوئی ابہام نہیں رہنا چاہیے۔
جنید اکبر نے کیا کہا تھا؟
صدر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا جنید اکبر نے مردان میں ورکرکنونشن سےخطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اسلام آباد جائیں گے اور ایک راستے سےنہیں جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم موٹروے اور جی ٹی روڈ سے بھی جائیں گے، مارگلہ کے پہاڑوں سے بھی اتریں گے اور ہم ڈی آئی خان سے بھی اتریں گے۔
اپنے خطاب میں جنید اکبر نے کہا کہ پچھلی مرتبہ ہم اپنی لاشیں اٹھا کر واپس چلے گئے تھے اور ہم اس پوزیشن میں نہیں تھےکہ احتجاج کرسکتے، اس دفعہ ایسا نہیں ہوگا کہ لاشیں دفن کرکےخاموش رہیں۔ جنید اکبر نے کہا کہ اسلام آباد کو ہم سومنات بنائیں گے۔














