ہیومنائیڈ روبوٹس کی فروخت محدود، مستقبل میں بڑے اضافے کی پیشگوئی

پیر 21 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں گزشتہ سال صنعتی اور پیشہ ورانہ خدمات کے لیے تقریباً 7 ہزار ہیومنائیڈ یعنی انسان نما روبوٹس فروخت ہوئے، تاہم ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال میں نمایاں تیزی متوقع ہے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف روبوٹکس یعنی آئی ایف آر کی جانب سے مرتب کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ہیومنائیڈ روبوٹس کی موجودہ فروخت عالمی روبوٹ مارکیٹ کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جاپان نے ہیومنائیڈ روبوٹس کے لیے بھی ایمبولینس سروس شروع کردی

آئی ایف آر کے مطابق اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی مستقبل میں بڑے پیمانے پر توسیع کی نشاندہی کرتی ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی صنعتی روبوٹ مارکیٹ چین کو ہیومنائیڈ روبوٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال میں نمایاں اہمیت حاصل ہے۔

چین نے گزشتہ ماہ منعقد ہونے والے روبوٹ گیمز میں انسان نما روبوٹس کو دوڑنے اور باکسنگ کرنے سمیت مختلف سرگرمیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔

 آئی ایف آر کے معیار کے مطابق کسی روبوٹ کو ہیومنائیڈ قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی ظاہری شکل انسان سے مشابہ ہو اور وہ انسانوں کے لیے بنائے گئے ماحول میں خودکار طور پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس تعریف کے تحت روبوٹ کا دو ٹانگوں پر چلنا لازمی نہیں۔

مزید پڑھیں: انسان یا مشین؟ چین میں جذبات سمجھنے والے حیرت انگیز حقیقی ہیومنائیڈ روبوٹس متعارف

آئی ایف آر کی سیکریٹری جنرل سوزین بیلر نے رائٹرز کو بتایا کہ دنیا بھر میں موجود مجموعی روبوٹس کے مقابلے میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی تعداد اب بھی بہت کم ہے۔

2024 میں دنیا بھر میں تقریباً 5 لاکھ 42 ہزار روایتی صنعتی روبوٹس نصب کیے گئے، جبکہ اسی سال نقل و حمل، مہمان نوازی اور صفائی جیسے شعبوں میں استعمال کے لیے تقریباً 1 لاکھ 99 ہزار سروس روبوٹس فروخت ہوئے۔

بیلر کے مطابق 2025 میں فروخت ہونے والے بہت سے ہیومنائیڈ روبوٹس براہِ راست پیداواری سرگرمیوں میں استعمال نہیں کیے گئے بلکہ انہیں تحقیقی اداروں اور ایسی کمپنیوں نے خریدا جو مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو بہتر بنانے کے لیے ڈیٹا تیار کر رہی ہیں۔

گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں ہیومنائیڈ روبوٹس کے ابتدائی صارفین میں شامل ہیں اور بعض کار ساز ادارے اپنی فیکٹریوں میں محدود پیمانے پر ان روبوٹس کے آزمائشی منصوبے چلا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس کا فٹبال میچ، انسانی ٹیموں سے زیادہ جوش و خروش پیدا کرگیا

بینک آف امریکا گلوبل ریسرچ کے اندازے کے مطابق رواں سال دنیا بھر میں 90 ہزار ہیومنائیڈ روبوٹس بھیجے جا سکتے ہیں، جبکہ 2030 تک یہ تعداد 12 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

 آئی ایف آر نے پہلی مرتبہ ہیومنائیڈ روبوٹس کے اعداد و شمار بھی باقاعدہ طور پر جمع کرنا شروع کیے ہیں۔

اس کا ڈیٹا روبوٹ تیار کرنے والی کمپنیوں اور قومی صنعتی انجمنوں سے حاصل معلومات پر مبنی ہے اور اس میں صارفین اور فوجی مقاصد کے ہیومنائیڈ روبوٹس شامل نہیں ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp