غزہ میں لاکھوں بچے تقریباً 3 سال بعد پہلی مرتبہ اسکولوں میں بالمشافہ تعلیم کے لیے واپس آگئے، تاہم بہت سے طلبہ کو تباہ شدہ یا عارضی اسکولوں، خیموں اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔ کئی خاندانوں کے لیے اسکول یونیفارم، کاپیاں اور قلم خریدنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق جنگ کے دوران غزہ کے 98 فیصد اسکول یا تو مکمل طور پر تباہ ہوگئے یا انہیں نقصان پہنچا۔
غزہ کے محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 6 لاکھ 60 ہزار طلبہ بالمشافہ تعلیم اور باقاعدہ تعلیمی سرگرمیوں سے محروم رہے ہیں۔
غزہ میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی ایک ایسے تنازع کے بعد ایک نازک سنگِ میل ہے، جس میں مشرقی خان یونس کے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر ابراہیم رمضان کے مطابق تقریباً 22 ہزار طلبہ اور 770 سے زائد تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد، جن میں 532 اساتذہ بھی شامل ہیں، جان سے جاچکے ہیں۔
’ہم خیمے میں بھی تعلیم حاصل کریں گے‘
خان یونس میں طالب علم معید ابو مصطفیٰ نے کہاکہ وہ تین سال قبل آخری مرتبہ اسکول گیا تھا اور اب نئے تعلیمی سال کے آغاز پر خوشی، مسرت اور کامیابی کا احساس ہورہا ہے۔
معید نے بتایا کہ وہ ایک ایسے خیمے میں زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرے گا جہاں ہوا کی مناسب آمدورفت نہیں، اس کے پاس اچھے جوتے، کاپی یا قلم بھی نہیں، جبکہ جنگ کے دوران اس کے دوست بھی جان سے جاچکے ہیں۔
اس نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’ان تمام مشکلات کے باوجود ہم تعلیم حاصل کریں گے، ہم خیمے میں بھی پڑھیں گے۔‘
15 سالہ بے گھر طالبہ ثمر ابو سلمیٰ بھی کلاس روم واپس آنے والے طلبہ میں شامل ہیں۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک خیمے میں رہتی ہیں۔
عارضی اسکول کے صحن میں گفتگو کرتے ہوئے ثمر نے کہا کہ اس دوران انہوں نے موبائل فونز پر تعلیم حاصل کی اور اپنے اساتذہ کو نہیں دیکھا، لیکن اب وہ اپنے خواب کی تکمیل کے لیے دوبارہ تعلیم حاصل کررہی ہیں، ’ایک خیمے سے دوسرے خیمے تک۔‘
ثمر کے خاندان کے لیے بھی تعلیمی ضروریات کی بہت سی اشیا خریدنا مشکل ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جنگ سے قبل ان کے لیے کاپیاں، قلم، اشیا، کپڑے اور تفریح سمیت بہت سی چیزیں دستیاب تھیں اور وہ انہیں کم قیمت پر خرید سکتے تھے، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔
خیموں، ترپالوں اور لکڑی سے عارضی اسکول قائم
غزہ میں ہونے والی تباہی کے باوجود محکمہ تعلیم نے مقامی اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے 27-2026 کے تعلیمی سال کا آغاز کردیا ہے۔ طلبہ کے لیے درجنوں عارضی اسکول قائم کیے گئے ہیں، جنہیں خیموں، ترپالوں، دھاتی چادروں اور لکڑی سے تیار کیا گیا ہے۔
کچھ عارضی اسکول ریتلی زمین پر قائم کیے گئے ہیں، جبکہ بعض میں صرف چند گدے اور ایک تختۂ سیاہ موجود ہے، جہاں طلبہ بڑی تعداد میں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ کچھ عمارتوں میں اب بھی درجنوں بے گھر خاندان رہائش پذیر ہیں۔
14 سالہ یامن ابو سمرہ بھی ایک عارضی اسکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے وہ خوشی خوشی اسکول جانے کے لیے اٹھتے تھے، لیکن اب اسکول آتے ہوئے انہیں آوارہ گولیوں، راکٹوں اور حملوں سمیت ہر چیز کا خوف رہتا ہے۔
یامن نے کہا، ’اب میں ایک ایسے خیمے میں بیٹھتا ہوں جہاں کچھ بھی نہیں، صرف دھوپ اور گرمی ہے۔‘
ساڑھے پانچ لاکھ طلبہ کی بالمشافہ تعلیم متوقع
محکمہ تعلیم کے حکام کے مطابق رواں سال کم از کم 5 لاکھ 40 ہزار طلبہ عارضی نجی اسکولوں، عارضی تعلیمی مراکز اور تعلیمی مقامات پر بالمشافہ کلاسز میں شرکت کریں گے۔ ان سرگرمیوں میں یونیسیف معاونت فراہم کررہا ہے۔
And they’re back, finally!
Some hope for more than 330,000 children across the #Gaza Strip on the first day of term at 200 learning centres supported by @UNICEF.
Routine, stability & social connection – being in class restores some sense of childhood.#GenerationHope pic.twitter.com/TwA0g5BvCj
— UNICEF Palestine (@UNICEFpalestine) September 19, 2026
جو طلبہ کلاسز میں شرکت نہیں کرسکتے یا جنگ کے دوران غزہ سے باہر چلے گئے ہیں، ان کے لیے آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری رہے گا۔
گزشتہ سال ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج غزہ کے 60 فیصد سے زیادہ علاقے پر کنٹرول رکھتی ہے۔ جنگ بندی سے بڑے پیمانے پر لڑائی تو رک گئی تھی، تاہم تنازع مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکا۔

فلسطینی حکام کے مطابق اکتوبر 2023 میں حماس کی قیادت میں جنگجوؤں کی جانب سے جنوبی اسرائیل میں تقریباً 1200 افراد کو ہلاک کیے جانے کے بعد غزہ پر شروع کیے گئے اسرائیلی حملوں میں 73 ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔
اسٹیشنری کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ
اسٹیشنری کے تاجر 30 سالہ خالد علیان نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے درآمدات پر عائد پابندیوں کے باعث سامان کی فراہمی کم ہوگئی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا، ’جو کاپی پہلے 3 شیکل (ایک ڈالر) میں مل جاتی تھی، اب اس کی قیمت 15 شیکل ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیشنری کی تمام اشیا مہنگی ہیں۔‘














