23 ستمبر سے دنیا بھر میں تمام ایرانی ایئرلائنز کی سرگرمیاں بند کردی جائیں گی، امریکی وزیر خزانہ

پیر 21 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے لیے پابندیوں میں مزید اضافے کے تحت بدھ سے تمام ایرانی ایئرلائنز دنیا بھر میں عملی طور پر بند ہوجائیں گی۔

اسکاٹ بیسنٹ نے امریکی ٹی وی چینل سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ 23 ستمبر سے دنیا بھر میں تمام ایرانی ایئرلائنز کی سرگرمیاں بند کردی جائیں گی۔

انہوں نے خبردار کیاکہ جو غیر ملکی ہوائی اڈے اور کمپنیاں ایرانی فضائی کمپنیوں کو خدمات فراہم کرتی رہیں گی، انہیں امریکی ڈالر کے مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کیے جانے کا خطرہ ہوگا۔

امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی طیارے کسی ملک میں اترتے ہیں تو انہیں ایندھن، لینڈنگ کی سہولت یا ٹکٹ فروخت کرنے جیسی خدمات فراہم نہیں کی جاسکیں گی، بصورت دیگر متعلقہ کمپنیوں کو ڈالر کے مالیاتی نظام سے خارج کردیا جائےگا۔

یہ بیان امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے 8 ستمبر کو ان تمام ایرانی ایئرلائنز پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جنہیں اس سے قبل نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔ محکمہ خزانہ نے ایران کے فضائی شعبے کی معاونت کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں۔

اسکاٹ بیسنٹ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ایران سے باہر موجود کمپنیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے ثانوی پابندیوں کا استعمال کررہا ہے تاکہ وہ ایرانی ایئرلائنز کو خدمات فراہم کرنا بند کردیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے 8 ستمبر کی کارروائی کے حوالے سے کہا تھا کہ پابندیوں کی زد میں آنے والی ایرانی ایئرلائنز کی معاونت کرنے والی غیر ملکی کمپنیاں اور افراد بھی سنگین نتائج کا سامنا کرسکتے ہیں۔ ان معاونتوں میں طیاروں کی منتقلی، کارگو سروسز اور عمومی سیلز ایجنٹ کی خدمات شامل ہیں۔

بیسنٹ نے یہ بھی کہاکہ واشنگٹن نے ان عناصر کی نشاندہی کرلی ہے جو تہران کی مدد کررہے ہیں۔

ان کے بقول، ’ہم نے دنیا بھر میں ان عناصر کی نشاندہی کی ہے جو ایران کی مدد کررہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں اور وہ خود بھی جانتے ہیں کہ ہم ان سے واقف ہیں۔ ہم اس سلسلے کو روک رہے ہیں۔‘

امریکی محکمہ خزانہ کی 8 ستمبر کی کارروائی میں ایران کے فضائی شعبے سے وابستہ 36 اداروں اور افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں 27 ایرانی ایئرلائنز بھی شامل تھیں، جن پر متعلقہ فضائی شعبے کے قوانین کے تحت پہلے پابندیاں عائد نہیں کی گئی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp