جنوبی کوریا نے گھریلو کھانے کے کچرے کو لینڈ فل میں دفن کرنے کے بجائے اسے ری سائیکل کرکے توانائی میں تبدیل کرنے کا ایسا نظام قائم کرلیا ہے جسے اب نیویارک بھی اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
جنوبی کوریا میں گھروں سے نکلنے والے کھانے کے کچرے کو الگ جمع کیا جاتا ہے۔ کئی رہائشی عمارتوں میں اس مقصد کے لیے جدید ’اسمارٹ بن‘ نصب ہیں جن میں کچرا ڈالنے کے لیے کارڈ اسکین کرنا پڑتا ہے۔ مشین کچرے کا وزن کرتی ہے اور اس کے مطابق رقم گھر کے کھاتے میں شامل ہوجاتی ہے۔ اس نظام نے لوگوں میں کھانا ضائع کرنے کے حوالے سے شعور بھی بڑھایا ہے۔
جنوبی کوریا نے گزشتہ 30 برس کے دوران کچرے کے انتظام کے نظام میں بڑی تبدیلیاں کیں۔ 1995 میں حجم کے حساب سے کچرے کی فیس کا نظام متعارف کرایا گیا، 1997 میں کھانے کے کچرے کو عام کچرے سے الگ کرنا لازمی قرار دیا گیا جبکہ 2005 میں کھانے کے کچرے کو لینڈ فل میں پھینکنے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی۔
.
New York has a food waste problem.
South Korea has already solved it.https://t.co/PhZZqZfgBf
.— Doris-Maria Heilmann (@111publishing) September 22, 2026
نتیجتاً 1996 میں جنوبی کوریا میں کھانے کے کچرے کی ری سائیکلنگ کی شرح صرف 2.6 فیصد تھی جو 2023 میں تقریباً 97 فیصد تک پہنچ گئی۔
کھانے کے کچرے کو مختلف مراکز میں پہنچا کر اس سے توانائی پیدا کی جاتی ہے۔ وسطی جنوبی کوریا کے شہر دائجون میں قائم بائیو انرجی مرکز کچرے سے توانائی تیار کرتا ہے اور اس سے تقریباً 6 ہزار گھروں کی روزانہ بجلی کی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے۔ ملک میں اس نوعیت کے 340 سے زائد مراکز موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سمندر کی تہہ سے کچرا صاف کرنا ممکن، جاپانی سائنسدانوں نے حیرت انگیز’ڈیپ لٹر اے آئی‘ سسٹم بنا لیا
ماہرین کے مطابق کھانے کا کچرا اگر عام لینڈ فل میں دفن کیا جائے تو اس سے میتھین گیس خارج ہوتی ہے جو ماحول کو گرم کرنے کی صلاحیت کے اعتبار سے کاربن ڈائی آکسائیڈ سے کہیں زیادہ مؤثر گرین ہاؤس گیس ہے۔ کچرے سے توانائی بنانے کے نظام میں اس گیس کو جمع کرکے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
جنوبی کوریا کے اس تجربے سے اب نیویارک بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ نیویارک میں اکتوبر 2024 سے شہریوں کے لیے کھانے کے کچرے کو عام کچرے سے الگ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ شہر میں 400 سے زائد اسمارٹ کمپوسٹنگ بن بھی نصب کیے جاچکے ہیں، جہاں شہری کھانے اور پودوں کا کچرا جمع کراسکتے ہیں۔

تاہم نیویارک کو شہریوں کی جانب سے مکمل تعاون حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ 2025 میں شہر کے محکمہ صفائی نے گھریلو نامیاتی کچرے کا تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار ٹن انتظام کیا، جو گھروں سے سالانہ پیدا ہونے والے تقریباً 15 لاکھ ٹن نامیاتی کچرے کا صرف 9 فیصد تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کی طرح کچرے کے وزن کے مطابق فیس عائد کرنے اور جدید نظام متعارف کرانے سے نیویارک میں بھی لوگوں کو خوراک ضائع کرنے اور اسے درست طریقے سے ٹھکانے لگانے پر زیادہ توجہ دینے کی ترغیب مل سکتی ہے۔














