امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے امکانات کے پیش نظر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو کاروبار کے آغاز پر خریداری کے رجحان کے باعث انڈیکس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دوپہر 12 بجے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 189.90 پوائنٹس یا 0.11 فیصد اضافے کے بعد 170,688.85 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
مارکیٹ میں اب تک 10 کروڑ 42 لاکھ شیئرز کا کاروبار ہوچکا ہے، صبح کے کاروباری سیشن میں انڈیکس 438 پوائنٹس سے زائد اضافے کے ساتھ 170,937 پوائنٹس تک پہنچ گیا تھا، تاہم بعد ازاں تیزی میں کمی دیکھی گئی۔
کاروبار کے دوران آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔
Market is up at midday 🔼
⏳ KSE 100 is positive by +189.9 points (+0.11%) at midday trading. Index is at 170,688.85 and volume so far is 104.2 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/KN7qS269Q7— Investify Pakistan (@investifypk) September 25, 2026
ماری پیٹرولیم، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور یونائیٹڈ بینک جیسے انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے نمایاں حصص مثبت زون میں کاروبار کرتے رہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی رہی تھی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے، امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات میں محدود پیش رفت اور امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ پابندی کے خدشات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، جس کے باعث مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر فروخت کا رجحان دیکھا گیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
جمعرات کو کے ایس ای 100 انڈیکس 1,733.57 پوائنٹس یعنی 1.01 فیصد کمی کے بعد 170,498.95 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹوں میں جمعہ کو ایشیائی حصص نے قدرے استحکام برقرار رکھا، تاہم بانڈز کی مسلسل فروخت کے باعث طویل مدتی امریکی بانڈز کی شرحِ منافع 2 دہائیوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔

جس سے دنیا بھر میں قرض لینے کی لاگت بڑھنے اور بلند سطح پر موجود ایکویٹی ویلیوایشنز پر دباؤ کے خدشات پیدا ہوئے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 105 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔
اس صورتحال نے افراطِ زر کے خدشات میں اضافہ کیا ہے اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافوں کے امکانات کو تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج شدید مندی سے دوچار، انڈیکس 1100 سے زائد پوائنٹس گر گیا
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس مجموعی طور پر مستحکم رہا، جبکہ بیشتر مارکیٹیں تعطیل کے باعث بند رہیں۔
جاپان کا نکی انڈیکس ایک فیصد بڑھا، آسٹریلیا کی وسائل پر مبنی مارکیٹ میں 0.6 فیصد کمی ہوئی جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس ایک فیصد کے قریب گر گیا۔














