دنیا بھر میں نگرانی کے لیے کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور کئی شہروں میں شہریوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کرنے کا نظام عام ہوچکا ہے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی شہر نیویارک میں نگرانی کا نظام اس قدر وسیع ہے کہ شہریوں کو اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ دن بھر میں کتنے کیمروں کی نظر سے گزرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیویارک پولیس کا ’ڈومین اویئرنس سسٹم‘ 80 ہزار سے زائد کیمروں کو مختلف دیگر ٹیکنالوجیز سے جوڑتا ہے۔ ان میں ڈرونز، سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والا ڈیٹا اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹ پڑھنے والے نظام بھی شامل ہیں۔
برطانوی میڈیا سے وابستہ صحافی نے نیویارک میں نگرانی کے نظام پر نظر رکھنے والی تنظیم کی سربراہ مشیل ڈاہل کے ساتھ اپنے علاقے کا دورہ کیا تو چند ہی قدم چلنے کے بعد 16 کیمرے نظر آئے۔ ان میں کاروباری عمارتوں اور نجی مقامات پر نصب کیمرے بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں:اسمارٹ چشمے، جدید سہولت یا خفیہ نگرانی کا نیا ذریعہ؟
رپورٹ کے مطابق بعض صورتوں میں پولیس تفتیش کے دوران نجی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی حاصل کرسکتی ہے، جبکہ بعض کمپنیوں نے ایسے خودکار نظام متعارف کرائے ہیں جن کے ذریعے پولیس صارفین سے ویڈیو حاصل کرنے کی درخواست کرسکتی ہے۔
برطانوی میڈیا نے امریکی کمپنی ’فلاک سیفٹی‘ کے نگرانی کے نظام کا بھی جائزہ لیا، جو امریکا کی ہزاروں کمیونٹیز میں ایک لاکھ سے زیادہ کیمروں کا نیٹ ورک چلاتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کے نظام سے جرائم کی تحقیقات اور چوری شدہ گاڑیوں کی تلاش میں مدد ملتی ہے۔
تاہم نگرانی کے نظام کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کا خطرہ موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض پولیس اہلکاروں پر نگرانی کے نظام کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق شہری اپنی رہائش کے قریب نگرانی کے کیمروں کا اندازہ لگانے کے لیے ’اٹلس آف سرویلنس‘ اور ’ڈی فلاک‘ جیسے آن لائن نقشے بھی استعمال کرسکتے ہیں، تاہم ان میں موجود معلومات مکمل نہیں اور بعض اوقات غلط بھی ہوسکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق نگرانی کی ٹیکنالوجی جرائم سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ شہریوں کی پرائیویسی، ڈیٹا کے استعمال اور غلط نگرانی کے بارے میں سوالات بھی اہم ہیں۔














