پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی تاریخ میں ایسے متعدد مواقع گزرے ہیں جب پارٹی نے احتجاج، دھرنے، لانگ مارچ یا جلسے کی تاریخ کا اعلان کیا، تاہم بعد ازاں یہ پروگرام مؤخر، منسوخ یا مقررہ منصوبے کے مطابق منعقد نہ ہو سکا۔ ایسے نمایاں واقعات کا سلسلہ خاص طور پر 2014 کے بعد زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔
تحریک انصاف کا قیام 25 اپریل 1996 کو لاہور میں ہوا تھا۔ پارٹی نے ابتدائی برسوں میں محدود سیاسی سرگرمی کے بعد 2011 کے مینارِ پاکستان جلسے سے قومی سطح پر بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھرنا شروع کیا۔
2015: ڈی چوک کا احتجاج مؤخر
2015 میں تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے ارکان سے استعفوں کا مطالبہ کرتے ہوئے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم 29 ستمبر کو پارٹی نے یہ احتجاج مؤخر کردیا۔
مقامی انتظامیہ نے ریڈ زون میں جلسے اور جلوسوں پر پابندی کی نشاندہی کی تھی، جس کے بعد پارٹی نے 9 اکتوبر کو لاہور میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا۔
2016: فیصل آباد جلسہ ملتوی
8 مئی 2016 کو فیصل آباد میں تحریک انصاف کا جلسہ ہونا تھا، لیکن پارٹی نے اسے مؤخر کردیا۔ تحریک انصاف کی جانب سے وجہ خواتین کارکنوں کے تحفظ اور لاہور کے ایک جلسے کے بعد مبینہ ہراسانی کے واقعات کو قرار دیا گیا۔ تاہم اسی وقت پارٹی کے بعض اندرونی ذرائع نے منتظمین کے درمیان اختلافات کو بھی ممکنہ وجہ بتایا تھا۔
2016: 2 نومبر کا ’اسلام آباد لاک ڈاؤن‘ مؤخر
تحریک انصاف نے 2 نومبر 2016 کو اسلام آباد کو ’لاک ڈاؤن‘ کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم یکم نومبر کو عمران خان نے احتجاجی پروگرام ختم کرکے اگلے روز ’یوم تشکر‘ منانے کا اعلان کردیا۔
فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں وزیراعظم سے جواب طلب کیے جانے کے بعد کیا گیا۔
2022: لانگ مارچ کی تاریخ کے اعلان میں تاخیر
مئی 2022 میں تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا، تاہم 20 مئی کو عمران خان نے فوری طور پر حتمی تاریخ دینے کے بجائے اعلان کو مؤخر کرتے ہوئے کہاکہ تاریخ 22 مئی کو طے کی جائے گی اور مارچ 25 سے 29 مئی کے درمیان ہوگا۔
بالآخر 25 مئی کو ’آزادی مارچ‘ شروع ہوا، مگر اسلام آباد پہنچنے کے بعد 26 مئی کو عمران خان نے ڈی چوک تک جانے کے بجائے احتجاج ختم کردیا اور حکومت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے اور انتخابات کا اعلان کرنے کے لیے 6 روز کی مہلت دی۔
اسی سال جون میں تحریک انصاف نے دوسرے لانگ مارچ کی منصوبہ بندی کی، لیکن 5 جون کو پارٹی کی کور کمیٹی نے اسے وفاقی بجٹ کے بعد تک مؤخر کردیا اور فیصلہ 15 جون کے بعد کرنے کا اعلان کیا۔
2023: لاہور انتخابی ریلی 2 مرتبہ مؤخر
مارچ 2023 میں تحریک انصاف کی لاہور میں انتخابی ریلی پہلے ہفتے کے اختتام پر طے ہوئی، مگر پنجاب حکومت کی جانب سے دفعہ 144 نافذ کیے جانے کے بعد ریلی مؤخر کردی گئی۔ عمران خان نے کارکنوں کو تصادم سے بچنے کی ہدایت کی۔
اس کے بعد ریلی کو دوبارہ منعقد کرنے کی کوشش ہوئی، لیکن حالات کے باعث پروگرام ایک مرتبہ پھر مؤخر ہوا۔ بالآخر 13 مارچ کو لاہور میں ریلی نکالی گئی اور عمران خان نے 19 مارچ کو مینارِ پاکستان پر جلسے کا اعلان کیا۔
2024: اسلام آباد کا 22 اگست کا جلسہ مؤخر، نئی تاریخ 8 ستمبر
تاہم 8 فروری کے بعد سے 5 مرتبہ مختلف تاریخوں میں اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے بڑے جلسے کا اعلان کیا گیا، لیکن جلسے کا انعقاد نہیں ہوسکا۔
22 اگست کو جلسے کا اعلان کیا گیا تھا مگر صبح سویرے پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اعظم سواتی نے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کے ہمراہ جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان کیا اور کہاکہ انہوں نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی ہے اور انہیں مذہبی جماعت کے احتجاج سے متعلق آگاہ کیا ہے، جس پر بانی پی ٹی آئی نے ہدایت کی کہ کسی بھی انتشار سے بچنے کے لیے آج ہونے والا جلسہ ملتوی کردیا جائے اور 8 ستمبر کو اسلام آباد میں جلسہ کیا جائے۔
اس فیصلے کے حوالے سے پارٹی کے اندر بھی اختلافات سامنے آئے۔ بعض رہنماؤں نے کہاکہ فیصلہ بانی چیئرمین کی ہدایت پر ہوا، جبکہ بعض پارٹی شخصیات نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا۔
بعد میں عمران خان نے بھی کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ جلسے سے ملک میں انتشار پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور اسی وجہ سے جلسہ مؤخر کیا گیا۔
2024: 13 ستمبر کا ملک گیر احتجاج منسوخ
تحریک انصاف نے پارلیمنٹ سے پارٹی ارکان کی گرفتاریوں کے خلاف 13 ستمبر 2024 کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا تھا، لیکن بعد میں یہ احتجاج منسوخ کردیا گیا۔ پارٹی قیادت کے مطابق کارکنوں اور رہنماؤں کی توجہ لاہور کے آئندہ جلسے پر مرکوز رکھنے کے لیے احتجاجی پروگرام ختم کیا گیا۔
2024: 15 اکتوبر کا ڈی چوک احتجاج مؤخر
تحریک انصاف نے 15 اکتوبر 2024 کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاج کا اعلان کیا تھا، تاہم شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر یہ احتجاج مؤخر کردیا گیا۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے فیصلے کی تصدیق کی۔
2025: ملک گیر احتجاج کم از کم دو ہفتے مؤخر
جون 2025 میں تحریک انصاف نے عیدالاضحیٰ کے بعد ملک گیر احتجاج کی تیاری شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن 18 جون کو عمران خان کی جانب سے احتجاج کم از کم دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان سامنے آیا۔ پارٹی نے اس کی وجہ مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورت حال قرار دی۔
اسی سال اگست میں تحریک انصاف نے 14 اگست کو احتجاجی ریلیوں کا اعلان کیا، مگر بعد ازاں انہیں منسوخ کردیا۔ 17 اگست کو پارٹی نے ملک میں سیلاب اور قدرتی آفات کے باعث اپنی سیاسی سرگرمیاں بھی مؤخر کرکے کارکنوں کو امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ہدایت کی۔
2026: 9 اپریل کا راولپنڈی جلسہ مؤخر
اپریل 2026 میں تحریک انصاف نے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں 9 اپریل کو جلسے کا اعلان کیا تھا، تاہم پارٹی نے اسے بھی مؤخر کردیا۔
تحریک انصاف کے مطابق فیصلہ خطے میں جنگ بندی اور امن مذاکرات کی کوششوں کے پیش نظر کیا گیا، پارٹی نے کہاکہ نئی تاریخ بعد میں دی جائے گی۔
ستمبر 2026: 27 ستمبر کا اسلام آباد لانگ مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر
حالیہ مثال ستمبر 2026 کی ہے۔ تحریک انصاف نے 27 ستمبر سے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن 25 ستمبر کو پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے مارچ ایک ہفتے کے لیے مؤخر کرتے ہوئے نئی تاریخ 4 اکتوبر مقرر کردی۔
رپورٹس کے مطابق پارٹی قیادت میں مارچ مقررہ تاریخ پر کرنے یا مؤخر کرنے پر مشاورت ہوئی اور بالآخر تاریخ تبدیل کردی گئی۔
اس ریکارڈ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تحریک انصاف کی سیاسی تاریخ میں احتجاج یا جلسے کی تاریخ مقرر ہونے کے بعد اسے تبدیل کرنے، مؤخر کرنے یا پروگرام کی نوعیت تبدیل کرنے کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔
تاہم ہر واقعے کی وجہ ایک جیسی نہیں رہی، بعض مواقع پر انتظامی پابندیاں یا سیکیورٹی حالات، بعض پر سیاسی یا عدالتی پیشرفت، اور بعض مواقع پر قومی یا بین الاقوامی حالات کو پارٹی نے وجہ قرار دیا۔
اس لیے ان تمام واقعات کو ایک ہی وجہ یا ایک ہی نوعیت کے فیصلے کے طور پر پیش کرنا تاریخی طور پر درست نہیں ہوگا۔













