بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سابق رکن قومی اسمبلی، سابق سینیٹر اور سابق رکن صوبائی اسمبلی ثنااللہ بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے زیادہ تر سردار جماعتیں تبدیل کرتے ہیں، اِس میں ان کا ذاتی مفاد بھی شامل ہوتا ہے کیونکہ وہ ایم این اے بن کر سرکاری مشینری کا استعمال کر سکتے ہیں اور ویسے بھی بلوچستان میں کرپشن زیادہ ہے، تاہم بلوچستان کے مسئلے کا حل سیاسی اور مذاکرات میں ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کا تنازع ایک دن میں کھڑا نہیں ہوا، یہ سالوں کی غلطیوں کا نتیجہ ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیے وفاق کو اپنی پالیسیوں پر نظرِثانی کرنا پڑے گی۔
انہوں نے کہاکہ بات چیت کا ماحول بنانے کے لیے عام معافی کا اعلان کرنے پڑے گا۔ طاقت سے مسائل حل نہیں ہوں گے، اس مسئلے کا حل سیاسی ہے۔
’پنجابیوں کا قتل ہم سب کے لیے تکلیف دہ ہے‘
ثنااللہ بلوچ نے کہاکہ بلوچستان میں ہنر مند افراد جیسا کہ گھروں کی تعمیر کرنے والے مستری، بھٹوں میں کام کرنے والے مزدور نہیں ہیں اور لوگ دوسرے صوبوں سے آتے ہیں۔
’عطااللہ مینگل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 1972 میں پنجابیوں کو بلوچستان سے نکل جانے کو کہا جبکہ ایسا نہیں۔ اس وقت جو ہو رہا ہے وہ ہمارے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ رنگ، نسل، زبان یا فرقے کی بنیاد پر قتل کرنے کی حمایت نہیں کر سکتے، ہم نے ہمیشہ مذمت کی ہے ، مذمت کرتے رہیں گے۔‘
انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ بات مذمت سے آگے مرمت تک آنی چاہیے۔ کچھ لوگ صرف مذمت کرکے رتبے حاصل کرتے ہیں۔ ہم سیاسی لوگ اِن قتلوں کی حمایت نہیں کرتے۔ اکبر بُگٹی کے قتل کے ردعمل میں یہ قتل عام شروع ہوا جو بالکل درست نہیں۔
اُنہوں نے کہاکہ بلوچستان کو ایک صوبہ نہ سمجھا جائے یہ ایک خطہ ہے جس پر ایران مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعے کے اثرات بھی پڑتے ہیں۔
ثنااللہ بلوچ نے کہاکہ مسئلہ وسائل کی تقسیم کا ہے جس کی بنیاد آبادی ہے یہی وجہ ہے کہ وسائل پنجاب میں مرکوز ہیں جہاں ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس اچھا ہے جب کہ پنجاب کے جنوبی اضلاع کا ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس بلوچستان کے برابر ہے۔
’این ایف سی میں بلوچستان کو مطلوبہ حصہ نہیں ملتا‘
ثنااللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ این ایف سی کی بُنیاد آبادی کی بجائے ضرورت، رقبے، پسماندگی کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ وسائل کی تقسیم کا فارمولا دنیا کے بیشتر ملکوں میں ایسا نہیں، یہ تاثر درست نہیں کہ این ایف سی میں بلوچستان کو اپنے حصے سے زیادہ پیسے ملتے ہیں۔
’نئے صوبے بنانے کا کوئی فائدہ نہیں‘
انہوں نے کہاکہ نے کہاکہ ہمارے ملک کی اشرافیہ چار صوبوں کو سنبھال نہیں سکتی، نئے صوبے بنا کر اِس ملک کو اور بگاڑ دیں گے۔ اگر بلوچستان کے 10 صوبے بھی بنا دیں تو وسائل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہی ہو گی۔ صوبوں کی بحث بہت ہی غیرمنطقی ہے۔ لوگوں کو سروس ڈیلیوری اور اِنصاف کی فراہمی کا مسئلہ ہے۔
’بلوچستان تنازعے کا پانچواں مرحلہ جنرل مشرف کے دور میں شروع ہوا‘
ثنااللہ بلوچ نے کہاکہ تنازع جنرل مشرف کے دور میں 2002 میں شروع ہوا۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان تنازعے کے بہت سے بینیفشریز ہیں۔ اس وقت جو دہشتگرد گروہ ہیں ان کے پاس جو جدید ہتھیار نظر آتے ہیں وہ فنڈنگ کی بنیاد پر ہیں لیکن اصل بینیفشریز اور ہیں۔













