نورستان میں طالبان اور افغان فریڈم فرنٹ کے درمیان جھڑپیں، متعدد چیک پوسٹیں قبضے میں لینے کا دعویٰ

اتوار 27 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

افغانستان فریڈم فرنٹ کا کہنا ہے کہ طالبان فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران اس کے جنگجوؤں نے کامدیش کے علاقے میں متعدد چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا، تاہم طالبان نے واقعے پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ نورستان کے ضلع کامدیش کے مختلف علاقوں میں طالبان فورسز کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں، جو کئی گھنٹوں تک جاری رہیں۔ علاقے کے ایک رہائشی نے بھی فائرنگ اور لڑائی کی آوازیں سنائی دینے کی تصدیق کی۔ طالبان سے وابستہ ایک میڈیا ادارے نے بھی علاقے میں جھڑپوں کی اطلاع دی ہے۔

اے ایف ایف کے مطابق طالبان فورسز نے ہفتے کی صبح اس کے ٹھکانوں پر ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا، جس کے جواب میں فرنٹ کے کمانڈوز نے متعدد طالبان ڈرونز کو نشانہ بنایا اور بعد ازاں جوابی کارروائی شروع کی۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اس دوران اس کے جنگجوؤں نے طالبان کی کئی چیک پوسٹوں پر قبضہ کرلیا، جبکہ طالبان جنگجو ارندو کے علاقے اور کامدیش کے بعض حصوں سے پڑوسی صوبے کنڑ کے ضلع ناری کی جانب پسپا ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیے قندھار سے پنجشیر تک طالبان کے خلاف حملے، مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی

دوسری جانب طالبان سے وابستہ میڈیا ادارے ’حجاز فارسی‘ نے دعویٰ کیا کہ نورستان کے ضلع کامدیش میں ایک منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ ادارے نے جھڑپوں میں ملوث مسلح گروہ کا نام بتائے بغیر کہا کہ لڑائی کے دوران اس کے درجنوں ارکان ہلاک، زخمی یا گرفتار ہوئے۔ طالبان حکومت نے تاحال جھڑپوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، جبکہ ہلاکتوں یا علاقے پر قبضے سے متعلق دونوں فریقوں کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

امراﷲ صالح کا افغانستان میں خانہ جنگی کا دعویٰ

افغانستان کے سابق نائب صدر امرﷲ صالح نے کہا ہے کہ افغانستان خانہ جنگی میں داخل ہوچکا ہے، تاہم ان کے بقول یہ تنازع فی الحال محدود سطح پر ہے اور مستقبل میں زیادہ پرتشدد اور تباہ کن شکل اختیار کرسکتا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے طالبان کی حکومت کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان مخالف مزاحمت مختلف شکلوں میں سامنے آرہی ہے، جن میں مسلح حملے سب سے نمایاں ہیں۔

صالح کے مطابق طالبان کے دور میں افغانستان قومی خودمختاری اور ایک جائز ریاستی نظام سے محروم ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے شمالی علاقوں، کابل اور دیگر بڑے شہروں میں سنگین مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے طالبان مخالف قوتوں کے چیلنج کو حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے حملے ابھی اتنے وسیع، شدید یا نمایاں نہیں ہوئے کہ انہیں فیصلہ کن مزاحمت قرار دیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیے احمد شاہ مسعود کی 25ویں برسی: سابق جہادی کمانڈر اسماعیل خان کا طالبان کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے پر زور

سابق نائب صدر نے افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان کسی بڑے اختلاف کی اطلاعات کو بھی مسترد کیا۔ ان کے بقول افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے درمیان تعلقات باہمی ضرورت پر مبنی ہیں۔ صالح نے دوحہ معاہدے کی خفیہ شقیں منظر عام پر لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان شقوں کے سامنے آنے سے طالبان کے طرز عمل کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

صالح نے طالبان کے حوالے سے ان تجزیوں کو بھی مسترد کیا کہ تنظیم نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی یا اصلاح کی ہے۔ ان کے مطابق طالبان کی بنیادی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ اسے قومی، تہذیبی اور شمولیتی اقدار کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے قندھار اور کابل میں طالبان قیادت کے درمیان اختلافات کی اطلاعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کو اس وقت ظلم، اخراج اور جبر کا سامنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp