پی آئی اے اور امریکی ایگزم بینک سے متعلق گردش کرنے والی آرا میں غلط فہمیاں ہیں، مشیر خزانہ خرم شہزاد

اتوار 27 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشیر خزانہ خرم شہزاد نے پی آئی اے اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (یو ایس ایگزم) سے متعلق گردش کرنے والی بعض آرا کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نجکاری کے بعد پی آئی اے کے لیے طیارے خرید نہیں رہی اور نہ ہی ایسا کرنے کے لیے کسی خودمختار ضمانت یا ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے قرض کا اعلان کیا گیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ بعض تبصروں میں نجکاری اور برآمدی قرض فراہم کرنے والے ادارے کے کردار کو غلط طور پر سمجھا جا رہا ہے۔

مشیر خزانہ کے مطابق یو ایس ایگزم کا کردار دیگر ممالک کے برآمدی قرض فراہم کرنے والے اداروں کی طرح اپنے ملک کی برآمدات اور روزگار کو سہارا دینا ہے۔

ان کے مطابق بوئنگ کے طیارے امریکی برآمدات ہیں اور یو ایس ایگزم پہلے سے موجود مالیاتی طریقہ کار کے تحت امریکی ساختہ طیارے خریدنے والے غیر ملکی خریداروں، جن میں ایئر لائنز بھی شامل ہیں، کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔

خرم شہزاد نے بتایا کہ یو ایس ایگزم کے اپنے طریقہ کار میں اثاثہ جاتی ضمانت پر طیاروں کی مالی معاونت کی گنجائش موجود ہے، جس میں خود طیارے کو قرض کے لیے ضمانت کے طور پر رکھا جاسکتا ہے، جبکہ کریڈٹ کا جائزہ ایئر لائن، لیز لینے والے ادارے اور اگر کوئی ضامن موجود ہو تو اس کی بنیاد پر کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے خودمختار ضمانت لازمی شرط نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت دراصل وہی کام کررہی ہے جو دنیا بھر میں حکومتوں سے اپنے کاروباری شعبے کے لیے کرنے کی توقع کی جاتی ہے، یعنی مواقع پیدا کرنا، بین الاقوامی مالی معاونت، ٹیکنالوجی اور سپلائرز تک رسائی میں سہولت فراہم کرنا اور سرمایہ کاری و کاروباری مواقع کو فروغ دینا۔

مشیر خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ کی یو ایس ایگزم کے ساتھ بات چیت صرف پی آئی اے تک محدود نہیں تھی بلکہ پاکستان اور امریکا کے درمیان وسیع تر معاشی روابط کے تحت ہوا بازی، ریفائنریوں کی بہتری اور ریکوڈک کان کنی سمیت مختلف شعبوں میں ممکنہ مالی معاونت پر بھی گفتگو ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ یہ تمام اقدامات پاکستان کی معاشی سمت سے مطابقت رکھتے ہیں۔ حکومت تجارتی سرگرمیوں میں ریاست کے کردار کو دانستہ طور پر کم کررہی ہے، نجکاری کا عمل آگے بڑھا رہی ہے اور نجی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ گنجائش پیدا کر رہی ہے۔

خرم شہزاد نے کہاکہ نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت نجی شعبے سے دستبردار ہوجائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت خود کاروبار چلانے کے بجائے نجی شعبے کو سہولت فراہم کرے۔

انہوں نے کہاکہ عوامی قرض، پوشیدہ سبسڈی، ریاستی پشت پناہی یا ٹیکس دہندگان کی جانب سے پی آئی اے کے تجارتی خطرات برداشت کرنے سے متعلق دعوؤں کو حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس نوعیت کے کسی انتظام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

مشیر خزانہ کے مطابق سرکاری بیان میں یو ایس ایگزم کی ممکنہ مالی معاونت کا ذکر ہے، تاہم پی آئی اے کے لیے حکومت کی جانب سے قرض لینے یا خودمختار ضمانت دینے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

انہوں نے واضح کیاکہ نجکاری سے ملکیت اور تجارتی انتظام منتقل ہوتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت پاکستان پاکستانی کمپنیوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر مواقع پیدا کرنے اور سہولت فراہم کرنے سے بھی دستبردار ہوجائے۔

خرم شہزاد نے کہاکہ اس معاملے میں فرق واضح ہے: حکومت سہولت فراہم کرتی ہے، کاروباری ادارے سرمایہ کاری اور کاروبار چلاتے ہیں جبکہ مالی معاونت اپنی تجارتی شرائط کے تحت ترتیب دی جاتی ہے۔

ان کے مطابق یہ طریقہ کار کامیاب نجکاری اور پائیدار، جامع اور ذمہ دارانہ معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کی قیادت میں معیشت کے وسیع تر ایجنڈے سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp