40 لاکھ کارکنوں کے دعوے کے ساتھ پی ٹی آئی کا اسلام آباد مارچ مؤخر کیوں؟، تیاری نہیں تھی یا لوگ تیار نہیں تھے؟

اتوار 27 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ تاہم مقررہ تاریخ سے ایک روز قبل پارٹی نے مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے باعث پارٹی ورکرز میں مایوسی پھیل گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گزشتہ ماہ اسلام آباد مارچ کے لیے 20 لاکھ کارکنوں کا ہدف بڑھا کر 40 لاکھ کارکن لانے کا دعویٰ کیا تھا۔ 23 اگست کو انہوں نے 27 ستمبر کی تاریخ کو ’حتمی اور ناقابلِ تبدیل‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس بار واپسی نہیں ہوگی۔

تاہم، 25 ستمبر کو پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ مارچ اب 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا اور 5 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گا۔ پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مارچ کو مؤخر کرنا سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

مارچ مؤخر کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟

مارچ کی نئی تاریخ دینے کے فیصلے کے پسِ پردہ متعدد عوامل سامنے آئے ہیں۔ اس حوالے سے وی نیوز نے پارٹی کے اہم رہنماؤں اور ورکرز سے بات چیت کی۔

یہ بھی پڑھیں:شفیع جان کی ویڈیو وائرل، شہدا کی توہین سے پی ٹی آئی یوٹیوبرز کے کمائے ڈالرز لانگ مارچ کے لیے استعمال کرنے کا انکشاف

پی ٹی آئی کے ایک باخبر رکنِ اسمبلی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مارچ کو اچانک ملتوی نہیں کیا گیا، بلکہ پارٹی میں ایک، 2 ہفتے قبل ہی سے اس پر بات ہو رہی تھی۔

ان کے مطابق پشاور میں پارٹی کے ایک اجلاس کے دوران اراکین کی سہیل آفریدی کے ساتھ کافی بحث بھی ہوئی تھی۔ اراکین نے یہ مؤقف اپنایا تھا کہ فیصلے مشاورت سے نہیں ہو رہے اور آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا، اس حوالے سے کسی کو کچھ معلوم نہیں۔

’جس سے بھی پوچھو، وہ کہتا ہے کہ سہیل آفریدی سے پوچھیں اور سہیل آفریدی ملتے ہی نہیں، نہ ہی کسی سے مشاورت کی زحمت کرتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ تیاری مکمل نہیں تھی اور اراکین نے بھی صاف بتا دیا تھا کہ زیادہ لوگ نہیں نکل سکیں گے۔ اسی باعث حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مارچ مؤخر کر دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی جانب سے انتظامات کا فقدان تھا۔ ٹرانسپورٹ کا کوئی بندوبست نہیں تھا اور موٹروے سے رکاوٹیں ہٹانے کے لیے بھاری مشینری بھی دستیاب نہیں تھی۔آخری شام تک پتا نہیں تھا کہ کتنی گاڑیاں ہیں اور کہاں سے جائیں گے؟۔

تاہم، پی ٹی آئی کے رہنما اور ترجمان حکومتِ خیبر پختونخوا شفیع جان کا مؤقف ہے کہ مارچ مؤخر کرنا ایک سیاسی حکمتِ عملی ہے اور 4 اکتوبر کو بڑی تعداد میں کارکنان سڑکوں پر نکلیں گے۔

40 لاکھ کارکنوں کے دعوے کے بعد تاریخ کی تبدیلی کیوں اہم ہے؟

اسلام آباد مارچ کے لیے پہلے 20 لاکھ اور بعد ازاں 40 لاکھ کارکن لانے کا دعویٰ کیا گیا، لیکن عین وقت پر مارچ مؤخر کرنے سے سہیل آفریدی کی تیاریوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

پارٹی کارکنان یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا پارٹی نے مطلوبہ تعداد میں لوگوں کو متحرک کرنے کے لیے خاطر خواہ تیاری کی تھی یا وفاقی حکومت کے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات کے باعث مقررہ تاریخ پر پیش قدمی ممکن نہیں رہی۔

مزید پڑھیں:عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ یا دھرنا بھی دے سکتے ہیں، پی ٹی آئی کا اعلان

پی ٹی آئی کے ایک صوبائی رہنما نے بتایا کہ 27 ستمبر کے احتجاج کے فیصلے پر پارٹی کے اندر مکمل اتفاقِ رائے نہیں تھا اور اکثر رہنماؤں کو اس پر تحفظات تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فنڈنگ کی اپیل کے باوجود پارٹی کو بدستور فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔

پی ٹی آئی کے ایک کارکن فیض جان نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نکلنے کے لیے مکمل تیار تھے، لیکن سہیل آفریدی نے دھوکہ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بڑے رہنما گرفتاریوں سے ڈر گئے ہیں، اسی لیے اب مفاہمت کی باتیں کر رہے ہیں۔مجھے نہیں لگتا کہ یہ منتخب اراکین نکلیں گے، یہ سب ڈرے ہوئے ہیں۔

پی ٹی آئی کو سیاسی نقصان کہاں ہوسکتا ہے؟

27 ستمبر کے بجائے 4 اکتوبر کی نئی تاریخ دینے کے بعد پی ٹی آئی کے لیے اصل سیاسی امتحان کارکنوں کو دوبارہ متحرک کرنا ہے۔

صوبائی و مرکزی قیادت کے درمیان مؤثر رابطہ اور اعلان کردہ بڑی تعداد میں کارکنوں کو عملی طور پر سڑکوں پر لانا سہیل آفریدی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

پشاور کے نوجوان صحافی اور سیاسی تجزیہ کار کامران علی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مارچ مؤخر ہونے کے سیاسی اثرات پر روشنی ڈالی۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر پی ٹی آئی کا مارچ کا کوئی ارادہ نہیں تھا، کیونکہ وفاقی حکومت کی جانب سے کیے گئے سخت انتظامات کے باعث ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ اس صورتحال میں شیلنگ، لاٹھی چارج یا دیگر تادیبی کارروائیوں کا قوی امکان تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت بخوبی آگاہ ہے کہ جب تک کوئی ڈیل نہیں ہوتی، عمران خان کی رہائی ممکن نہیں۔ ایسے میں اگر وہ اسلام آباد پہنچ بھی جاتے، تو ان کے پاس وہاں کا کوئی واضح پلان موجود نہیں تھا۔

’پی ٹی آئی میں اصل لیڈر کا ہی معلوم نہیں اور نہ یہ پتا ہے کہ کس نے کس سے بات کرنی ہے۔ ایسی صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پارٹی میں دھڑے بندیاں ہو چکی ہیں اور ہر گروپ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہا ہے تاکہ دوسرے کو ناکام بنا سکے۔ لہٰذا ایسے کسی مارچ کو کامیاب بنانا کسی صورت ممکن نظر نہیں آ رہا۔‘

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی اپنی نالائقی چھپانے کے لیے لانگ مارچ کا سہارا لے رہی ہے، وفاقی وزیر امیر مقام

کامران علی نے ایک اور اہم نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی لیڈرشپ کی ممکنہ گرفتاریوں سے خیبر پختونخوا حکومت کے خاتمے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا تھا۔

اس وجہ سے پارٹی پر دباؤ بڑھا اور لانگ مارچ مؤخر کر دیا گیا، جس سے پی ٹی آئی یہ سمجھتی ہے کہ انہیں کچھ اضافی وقت مل گیا ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافی عارف حیات بھی کچھ حد تک کامران علی کے تجزیے سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، تحریک انصاف کی کوئی تیاری نہیں تھی اور یہ اعلان وزیراعلیٰ نے از خود کیا تھا، جبکہ ’تحریک تحفظِ آئین پاکستان‘ میں شامل دیگر جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

عارف حیات کا ماننا ہے کہ لانگ مارچ مؤخر کرنے سے حکومت پر کوئی دباؤ نہیں پڑے گا کیونکہ جس طرح اسلام آباد کو بند کیا گیا تھا، پی ٹی آئی نے اس انداز سے وہاں جانا ہی نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ مارچ کو ملتوی کرنے پر پی ٹی آئی کو اس وقت کڑی تنقید اور مذاق کا سامنا ہے۔ مقتدر قوتیں سنجیدہ تھیں، جبکہ حالات سے واضح ہو رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی نہ تو کوئی تیاری تھی اور نہ ہی وہ اس حوالے سے سنجیدہ تھی۔

’تحریک انصاف کے پاس اس وقت احتجاج، جلسے، لانگ مارچ اور سوشل میڈیا ٹرینڈز چلانے کے علاوہ کوئی ایسا راستہ نہیں ہے جس سے وہ اپنے ورکرز کو مصروف رکھ سکے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp