وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کا بنیادی مسئلہ دہشتگردی ہے، لیکن صوبائی حکومت اس کے بجائے مارچ اور اسلام آباد پر یلغار کی بات کررہی ہے۔ تاہم وفاقی حکومت کے لیے لانگ مارچ کا معاملہ اب غیر متعلقہ ہو چکا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہاکہ بیس لاکھ افراد لانے کے دعوے کے باوجود لانگ مارچ میں لوگوں کی عدم دلچسپی سامنے آ گئی ہے۔ خیبرپختونخوا میں عوامی مسائل حل نہ ہونے کے باعث صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور پاک فوج کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کسی شہید کے جنازے میں شریک ہوئے اور نہ ہی شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کے لیے گئے۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق خیبرپختونخوا میں 2024 کے دوران دہشتگردی کے قریب 470 واقعات پیش آئے اور دہشتگردی کے تقریباً 99 فیصد واقعات اسی صوبے میں ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کسی بھی حصے میں دہشتگردی ہو، وفاقی حکومت اس کا مقابلہ کرے گی اور عزمِ استحکام کے تحت آخری دہشتگرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں دہشتگردی کے باوجود وزیراعلیٰ ہر جگہ پہنچ کر حالات کا مقابلہ کررہے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ دہشتگردی روکنے کے بجائے مارچ اور اسلام آباد پر یلغار کی بات کرتے ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں سیاست، کرپشن، جرائم اور دہشتگردی کے درمیان گٹھ جوڑ سامنے آ رہا ہے۔
ان کے بقول کمزور انتظامی نظام اور امن و امان برقرار نہ رکھنا دہشتگردی کی بالواسطہ سہولت کاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا امن و امان کسی ہجوم کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ اگر پرتشدد مظاہرین اسلام آباد آئے تو حکومت نے اس حوالے سے مکمل تیاریاں کر رکھی ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے طارق فضل چوہدری نے کہاکہ وزیراعظم اپوزیشن لیڈر کو دو سے زیادہ مرتبہ مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، جبکہ حکومتی وزرا نے بھی قائد حزب اختلاف کو بات چیت کے لیے بیٹھنے کی دعوت دی ہے۔
انہوں نے کہاکہ محمود خان اچکزئی مذاکرات کی کوشش کررہے ہیں، لیکن پی ٹی آئی کی حمایت کے بغیر وہ اکیلے مذاکرات نہیں کر سکتے۔ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ اب پی ٹی آئی کو کرنا ہے۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق تجربہ کار سیاسی رہنما معاملات کو سیاسی طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں، تاہم اسلام آباد پر چڑھائی اور نظام کو سبوتاژ کرنے کی باتیں مذاکرات کے ماحول کو نقصان پہنچاتی ہیں۔














