وفاقی وزیر برائے کشمیر و گلگت بلتستان امور انجینئر امیر مقام نے واضح کیا ہے کہ وفاقی حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن عدالتوں سے سزا یافتہ شخص کی رہائی پر کوئی بات نہیں ہوگی۔
پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی اور ان کی جماعت کو عوامی حمایت حاصل نہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر کرپشن اور عوام کو گمراہ کرنے کے الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی نے صوبے میں کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے اور بہت جلد جیل کے اندر ہوں گے۔
مزید پڑھیں: 27ستمبر کی کال سہیل آفریدی کے گلے کی ہڈی، کے پی میں گورنر راج؟ فیصلہ ہوگیا
’عمران خان کی رہائی کا کوئی اختیار نہیں، اس پر بات نہیں ہوگی‘۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن ساتھ ہی دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ عمران خان کی رہائی پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ ’عمران خان سزا یافتہ ہیں، سزا عدالتوں سے ہوئی ہے اور رہائی ہمارے بس میں نہیں ہے‘۔
امیر مقام نے کہا کہ مذاکرات ہوں گے لیکن اس کا طریقہ کار ہے، یہ نہیں ہوتا کہ آپ کی سوئی صرف ایک قیدی پر اٹکی ہو۔ ’عمران خان کو سزا عدالتوں نے دی ہے تو رہائی ہم کیسے دے سکتے ہیں۔ رہائی عدالتوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، ہمارے بس میں نہیں ہے‘۔
’پی ٹی آئی اور طالبان میں گٹھ جوڑ ہے‘۔
امیر مقام نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دہشتگردوں کی آباد کاری میں سہولتکار رہی ہے اور اب بھی دہشتگردوں کی واپسی اور آباد کاری کی خواہش مند ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت پورے ملک میں آزاد گھوم رہی ہے، سیاسی مہم چلا رہی ہے اور انہیں دہشتگردی اور دہشتگرد حملوں کا کوئی خوف نہیں۔ پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کے رہنماؤں پر حملے ہوئے اور ہو رہے ہیں، لیکن حیران کن بات ہے کہ پی ٹی آئی کو ذرا بھی خوف نہیں ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی اور دہشتگردوں میں گٹھ جوڑ ہے اور اندرونی رابطے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں کوئی خوف نہیں، اور اب بھی دہشتگردوں سے مذاکرات اور آبادکاری کی باتیں کر رہی ہے۔
امیر مقام نے کہا کہ صوبے کو دہشتگردی کا سامنا ہے، عام لوگ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قربانیاں دے رہے ہیں۔
’صوبے میں کرپشن کا بازار گرم ہے، سہیل آفریدی جلد جیل کے اندر ہوں گے‘۔
ن لیگ کے رہنما اور وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ سہیل آفریدی کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ عوامی فلاح و بہبود پر ان کی کوئی توجہ نہیں اور کرپشن کا بازار گرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں سے لے کر اسکولوں تک صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ سہیل آفریدی کرپشن کی وجہ سے جیل جانے والے ہیں۔
انہوں نے صوبے کے عوام پر زور دیا کہ اپنے حقوق کے لیے صوبائی حکومت سے سوال کریں۔ بلدیاتی اداروں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی صبح و شام سیاسی معمولات میں مصروف ہیں اور صوبے کو وقت نہیں دیتے۔ اب ان کا وقت ختم ہو رہا ہے۔ سہیل آفریدی اسلام آباد کے بجائے بہت جلد جیل میں ہوں گے۔
’عوامی حمایت نہیں، مارچ ملتوی کیا‘۔
امیر مقام نے کہا کہ سہیل آفریدی کو عوامی حمایت حاصل نہیں اور عوام نے انہیں مسترد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 40 لاکھ لوگ نکالنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن عین وقت پر مارچ ہی مؤخر کردیا۔
انہوں نے کہا کہ 40 لاکھ تو بہت دور کی بات ہے، یہ ہزار لوگ بھی نہیں نکال سکتے اور فضول میں عام لوگوں کو تکلیف دے رہے ہیں۔ 9 مئی اور 26 نومبر کو جو ہوا، سب کے سامنے ہے اور اب بھی ایسا ہی منصوبہ ہے۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں نامزدگی: اُس دن ہوا کیا تھا؟
گورنر راج کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون میں گنجائش ہے اور تمام آئینی و قانونی تقاضے بھی پورے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال اس پر بات نہیں ہوئی ہے اور گورنر کو ہٹانے یا بحال رکھنے کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔













