خیبرپختونخوا کے سیاسی اور پارلیمانی حلقوں میں یہ بات زبان زدِ عام ہو چکی ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بہت جلد نااہل ہوں گے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکینِ صوبائی و قومی اسمبلی سمیت پارٹی کی صوبائی قیادت اس بات کو ہوا دے رہی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اتوار کے روز ‘بلف’ کھیلتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان کے دورے کے دوران اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور، سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ علی امین گنڈاپور کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ مختصر ملاقات کے دوران علی امین نے سہیل آفریدی کو سرخ جھنڈی دکھاتے ہوئے ان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں نامزدگی: اُس دن ہوا کیا تھا؟
اس وقت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کئی انتظامی اور عدالتی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے مسلسل ان کے خلاف سرخ دائرے کھینچے جا رہے ہیں۔ مختلف عدالتوں میں ان کے خلاف 4 بڑے کیسز زیرِ سماعت ہیں۔
2025 میں ہری پور انتخابات کے دوران سرکاری عملے کو دھمکانے کا کیس اس وقت الیکشن کمیشن کے پاس آخری مراحل میں ہے۔ دوسرا بڑا کیس 26 نومبر 2024 کے اسلام آباد مارچ کا ہے۔ تیسرا بڑا کیس شیر افضل مروت کا کیس ہے، جس میں انہوں نے وفاقی آئینی عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان نااہل ہو چکے ہیں اور ایک نااہل شخص کسی بھی طور پر نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب نہیں کر سکتا۔ چوتھا بڑا کیس ریڈیو پاکستان پر حملے کا ہے، جس میں سہیل آفریدی کی فرانزک رپورٹ کے بعد نامزدگی بھی ہو چکی ہے۔
یہ وہ تمام کیسز ہیں جو سہیل آفریدی کے سر پر لٹک رہے ہیں اور مستقبل قریب میں ان کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 27ستمبر کی کال سہیل آفریدی کے گلے کی ہڈی، کے پی میں گورنر راج؟ فیصلہ ہوگیا
خیبرپختونخوا اسمبلی میں اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے اراکینِ اسمبلی 3 دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں: سہیل آفریدی گروپ، علی امین گروپ اور سہیل آفریدی مخالف گروپ۔
سہیل آفریدی کے قریبی ساتھیوں نے پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں ایک خبر پھیلائی ہوئی ہے کہ اگر سہیل آفریدی کے خلاف گورنر راج یا تحریکِ عدم اعتماد سمیت کوئی دوسرا قدم اٹھایا جاتا ہے تو سہیل آفریدی خیبرپختونخوا اسمبلی کو تحلیل کر سکتے ہیں۔ سہیل آفریدی کے حوالے سے پھیلائی گئی اس خبر کے جواب میں متعدد اراکینِ اسمبلی نے سہیل آفریدی کی سخت گرفت کی ہے۔
سہیل آفریدی کے لیے پارٹی سطح پر بھی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت خیبرپختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ کی مسند سہیل آفریدی کے لیے پھولوں کا بستر نہیں بلکہ کانٹوں کی سیج بنی ہوئی ہے۔













