خیبرپختونخوا میں بدانتظامی، دہشتگردی، منشیات اور اسمگلنگ، سہیل آفریدی حکومت کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری

پیر 28 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا میں گزشتہ ایک سال کے دوران دہشتگردی، منشیات، اسمگلنگ اور حکومتی معاملات سے متعلق وائٹ پیپر جاری کردیا گیا ہے، جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تفصیلی سوالات اٹھاتے ہوئے پولیس کی ہلاکتوں، انسداد دہشتگردی محکمہ کی استعداد، ایپکس کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد، منشیات کی روک تھام، اسمگلنگ اور پولیس کے معاملات میں سیاسی اختیار بڑھانے کے اقدامات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا سہیل آفریدی کو گھر بھیجنے کی تیاری مکمل کرلی گئی؟

وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی اختیار ولی اور مسلم لیگ ن کی رہنما ثمر بلور نے پریس کانفرنس میں  جاری کیے گئے وائٹ پیپر کا عنوان ‘خیبرپختونخوا کو محفوظ بنانے میں ناکامی، سہیل آفریدی اور خیبرپختونخوا کو محفوظ بنانے میں ناکامی’ ہے، جس میں دہشتگردی، منشیات اور اسمگلنگ کو صوبائی حکومت کی کارکردگی کے تناظر میں زیر بحث لایا گیا ہے۔

وائٹ پیپر کا بنیادی مؤقف

وائٹ پیپر میں صوبائی قیادت کی کارکردگی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کی حکومت کے دور میں تقابلی مدت کے دوران پولیس کے نقصانات بڑھے، انسداد دہشتگردی محکمہ میں بھرتیاں منظوری کے کئی ماہ بعد بھی مکمل نہ ہوسکیں اور اہم سیکیورٹی تنصیبات حملوں کی زد میں آتی رہیں۔

 

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کو پولیس کو ضروری سازوسامان فراہم کرنے، خصوصی بھرتیاں مکمل کرنے، سیکیورٹی سے متعلق فیصلوں پر عملدرآمد اور خیبرپختونخوا میں موجود غیر قانونی نیٹ ورکس کی تحقیقات کے حوالے سے جواب دینا چاہیے۔

وائٹ پیپر کے مطابق پولیس کمان کے اختیارات کو سیاسی ہاتھوں میں مزید مرکوز کرنے کی حکومت کی کوشش بھی اس کی ترجیحات کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کرتی ہے۔

پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں اور زخمیوں میں اضافہ

وائٹ پیپر میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات کو صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال میں خرابی کا واضح تقابلی پیمانہ قرار دیا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق 2025 کی پہلی ششماہی میں 63 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے، جبکہ 2026 کی پہلی ششماہی میں یہ تعداد بڑھ کر 122 ہوگئی، جو 93.7 فیصد اضافہ بنتا ہے۔

اسی طرح 2025 کی پہلی ششماہی میں 84 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ 2026 کی پہلی ششماہی میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کی تعداد 175 تک پہنچ گئی، جسے وائٹ پیپر میں 108.3 فیصد اضافہ قرار دیا گیا ہے۔

دہشتگرد حملوں میں اضافہ

وائٹ پیپر کے مطابق جنوری سے ستمبر 2025 کے دوران خیبرپختونخوا میں 508 دہشتگرد حملے ہوئے جبکہ جنوری سے ستمبر 2026 میں یہ تعداد 680 ہوگئی، جو 33.9 فیصد اضافہ ہے۔

دستاویز میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگرد حملوں کی تعداد 2023 میں 174، 2024 میں 295 اور 2025 میں 413 رہی۔

یہ بھی پڑھیں: 27ستمبر کی کال سہیل آفریدی کے گلے کی ہڈی، کے پی میں گورنر راج؟ فیصلہ ہوگیا

وائٹ پیپر کے مطابق 2025 میں حملوں کی تعداد 2024 کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ تھی، اس لیے صوبائی حکومت کے قیام کے وقت ادارہ جاتی تیاری ایک فوری ضرورت تھی اور دہشتگردی کا خطرہ غیر متوقع نہیں تھا۔

کوہاٹ پولیس کمپلیکس پر 20 گھنٹے کا حملہ

دستاویز میں ستمبر میں کوہاٹ پولیس کمپلیکس پر ہونے والے حملے کو خاص طور پر سنگین قرار دیا گیا ہے۔

وائٹ پیپر کے مطابق کمپلیکس میں انسداد دہشتگردی محکمہ، اسپیشل برانچ کے دفاتر اور پولیس اہلکاروں کی رہائش گاہیں موجود تھیں، تاہم یہ تنصیب تقریباً 20 گھنٹے جاری رہنے والے حملے کا سامنا کرتی رہی۔

دستاویز میں وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حملے سے پہلے اس مقام کے سیکیورٹی جائزوں اور اس کے بعد کیے گئے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔

انسداد دہشتگردی محکمہ کی استعداد اور فنڈز

وائٹ پیپر میں انسداد دہشتگردی محکمہ کی استعداد بڑھانے میں مبینہ تاخیر کو مرکزی مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق دسمبر 2025 میں انسداد دہشتگردی محکمہ کے آلات کی کمی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ صوبائی حکومت نے 7.77 ارب روپے کے آلات کی منظوری دی جبکہ پہلے منجمد 4.30 ارب روپے کے منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کی منظوری بھی دی گئی، جس کے تحت 21 اضلاع میں دفاتر قائم کیے جانے تھے۔

وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ فنڈز جاری ہونے کے باوجود محکمہ کی استعداد میں مطلوبہ بہتری نہیں آسکی۔

انسداد دہشتگردی محکمہ میں 19 فیصد اسامیاں خالی

دستاویز کے مطابق انسداد دہشتگردی محکمہ میں 3,113 اہلکار خدمات انجام دے رہے تھے جبکہ منظور شدہ اسامیاں 3,844 تھیں۔

اس حساب سے محکمہ میں تقریباً 19 فیصد اسامیاں خالی تھیں۔

وائٹ پیپر کے مطابق محکمہ میں مستقل ملازمین کی تعداد صرف 25 تھی اور بڑی تعداد میں اہلکار عام پولیس سے لیے گئے تھے۔

بلٹ پروف گاڑیوں اور اسلحے کی کمی

وائٹ پیپر میں محکمہ کے حفاظتی سامان کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔

دستاویز کے مطابق خیبرپختونخوا میں انسداد دہشتگردی محکمہ کے پاس صرف 17 بلٹ پروف گاڑیاں تھیں، جبکہ پنجاب میں 76 اور بلوچستان میں 42 گاڑیاں موجود تھیں۔

اسی طرح خیبرپختونخوا کے لیے 200 ایم فور رائفلیں درکار تھیں، تاہم صرف 9 دستیاب تھیں۔

نائٹ وژن آلات کے حوالے سے بھی بتایا گیا کہ 35 مطلوبہ آلات کے مقابلے میں صرف 11 دستیاب تھے۔

638 فیلڈ آپریٹرز کی بھرتیاں مکمل نہ ہوسکی

وائٹ پیپر کے مطابق جون 2026 تک انسداد دہشتگردی محکمہ کے 638 فیلڈ آپریٹرز کی بھرتیاں مکمل نہیں ہوئی تھی۔

دستاویز میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ جب دہشتگردی کا خطرہ مسلسل موجود تھا تو حساس یونٹس کو مطلوبہ تربیت یافتہ اہلکار اور سازوسامان بروقت کیوں فراہم نہیں کیے گئے۔

وائٹ پیپر میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہر انسداد دہشتگردی منصوبے کی منظوری، فنڈز کے اجرا، خریداری، سامان کی فراہمی اور عملی تعیناتی کا ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جائے۔

ایپکس کمیٹی کے فیصلے اور عملی اقدامات میں فرق

وائٹ پیپر کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عہدہ سنبھالنے کے 112 روز بعد پہلی بار صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔

دستاویز کے مطابق اجلاسوں میں وسائل متحرک کرنے، حکمرانی بہتر بنانے اور سیکیورٹی سے متعلق اقدامات کے وعدے کیے گئے، تاہم بعد میں بنوں، ٹانک اور ہنگو میں مہلک حملے ہوئے جبکہ کوہاٹ پولیس کمپلیکس بھی حملے کی زد میں آیا۔

وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ اجلاس اس وقت اہم ہوتے ہیں جب ان کے فیصلوں سے عملی نتائج سامنے آئیں۔

دستاویز میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہر فیصلے کے حوالے سے ذمہ دار محکمہ، مختص وسائل، تکمیل کی تاریخ اور عملی نتائج کا ریکارڈ جاری کیا جائے۔

پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کا تفصیلی ریکارڈ

وائٹ پیپر میں مختلف واقعات کا حوالہ دے کر پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو درپیش خطرات کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔

4 نومبر 2025 کو پولیس چیف کی جانب سے اہلکاروں، گاڑیوں اور انسداد دہشتگردی محکمہ کی استعداد میں کمی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق 20 سے 30 فیصد پولیس اہلکار وی آئی پی سیکیورٹی پر تعینات تھے۔

10 نومبر 2025 کو وانا میں عسکریت پسندوں نے فوجی اسکول پر حملہ کیا، جس میں 3 افراد جاں بحق ہوئے۔

24 نومبر 2025 کو پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر مربوط حملے میں 3 افسران جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

12 جنوری 2026 کو ٹانک میں بم حملے میں پولیس کی بکتر بند گاڑی تباہ ہوئی اور 7 اہلکار جاں بحق ہوئے۔

23 جنوری کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک شادی کی تقریب پر خودکش دھماکے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق اور 25 زخمی ہوئے۔

16 فروری کو باجوڑ میں بارودی مواد سے لدی گاڑی کے حملے میں 11 سیکیورٹی اہلکار اور ایک بچہ جاں بحق ہوا۔

24 فروری کو کوہاٹ میں پولیس گشت پر حملے میں 5 اہلکار جاں بحق ہوئے اور ان کی گاڑی جلا دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: کیا سہیل آفریدی کو وزارت اعلیٰ سے فارغ کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا؟

جنوری سے مارچ 2026 کے دوران خیبرپختونخوا پولیس کے مطابق 194 دہشتگرد حملے ہوئے جبکہ 106 حملے پسپا کیے گئے اور 1,087 انٹیلی جنس آپریشن کیے گئے۔

وائٹ پیپر کے مطابق جنوری سے مارچ 2025 کے دوران 37 پولیس اہلکار جاں بحق اور 46 زخمی ہوئے تھے، جبکہ 2026 کے اسی عرصے میں 59 اہلکار جاں بحق اور 88 زخمی ہوئے۔

9 مئی کو بنوں میں بم دھماکے اور بعد ازاں حملے میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد 15 تک پہنچنے کا حوالہ دیا گیا ہے۔

12 مئی کو لکی مروت کے نَورنگ بازار میں بم دھماکے میں 8 شہریوں اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد جاں بحق اور تقریباً 30 زخمی ہوئے۔

18 مئی کو باجوڑ میں پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور 2 اہلکار الگ الگ حملوں میں جاں بحق ہوئے۔

15 جولائی کو اپر دیر میں قافلے پر حملے میں 3 پولیس اہلکار جاں بحق اور 15 زخمی ہوئے جبکہ بنوں میں پولیس اسٹیشن پر حملے میں کم از کم 5 اہلکار زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں نامزدگی: اُس دن ہوا کیا تھا؟

23 جولائی کو ٹانک چیک پوسٹ پر حملے میں 12 فوجیوں، 2 پولیس اہلکاروں اور ایک سابق محکمہ جنگلات کے اہلکار سمیت 15 افراد جاں بحق ہوئے۔

29 جولائی کو ہنگو کے خزینہ چیک پوسٹ پر حملے میں 11 اہلکار جاں بحق ہوئے۔

2 اگست کو سوات میں جلسے کے دوران بم دھماکے میں 17 افراد جاں بحق اور 34 زخمی ہوئے۔

وائٹ پیپر کے مطابق جولائی میں خیبرپختونخوا میں 59 حملے ہوئے جبکہ اگست میں یہ تعداد 106 ہوگئی، یعنی ایک ماہ میں 79.7 فیصد اضافہ ہوا۔ ضم شدہ اضلاع میں حملے 23 سے بڑھ کر 52 ہوگئے، جو 126.1 فیصد اضافہ ہے۔

منشیات کا پھیلاؤ اور کارروائیاں

وائٹ پیپر میں منشیات کے کاروبار کو بھی صوبائی حکومت کے لیے بڑا انتظامی مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔

دستاویز میں بین الاقوامی نارکوٹکس کنٹرول بورڈ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں میتھ ایمفیٹامین کی برآمدگی 2022 میں 4.4 ٹن سے بڑھ کر 2023 میں 11.4 ٹن اور 2024 میں 15.1 ٹن ہوگئی۔

12 نومبر 2025 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں بس کے انورٹرز میں چھپائی گئی 15.2 کلوگرام مشتبہ آئس برآمد ہوئی، جس کے بعد برآمد شدہ منشیات لے جانے والی گاڑیوں پر مسلح افراد نے حملہ بھی کیا۔

15 نومبر کو پشاور کے ایک گیسٹ ہاؤس اور ڈائپر کی دکان سے میتھ ایمفیٹامین برآمد ہوئی۔

12 جنوری 2026 کو پشاور موٹروے سروس روڈ پر گاڑی سے 100.8 کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔

22 جنوری کو صوبائی وزیر ایکسائز نے بتایا کہ 4 نومبر سے 15 جنوری تک 91 کارروائیوں میں 1,762 کلوگرام منشیات برآمد کی گئی، جس میں 47 کلوگرام میتھ ایمفیٹامین شامل تھی۔

4 مارچ کو پشاور میں کارروائیوں کے دوران 3 کلوگرام سے زیادہ آئس برآمد کرکے 4 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

مئی میں ڈیرہ اسماعیل خان سے 6.5 کلوگرام آئس برآمد ہوئی جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ اسلام آباد اور لاہور منتقل کی جانی تھی۔

28 مئی کو نگمان کے قریب ایک گاڑی سے 72 کلوگرام چرس اور 5 کلوگرام آئس برآمد ہوئی۔

منشیات کے خلاف ہدف مکمل نہ ہونے کا دعویٰ

وائٹ پیپر کے مطابق جون 2026 کے بجٹ میں منشیات کی فصلوں کے خاتمے کا سالانہ ہدف 250 کنال رکھا گیا تھا، تاہم اپریل تک صرف 130 کنال پر کارروائی کی گئی، جو ہدف کا 52 فیصد بنتا ہے۔

دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ منشیات کے عادی افراد میں کمی کے حوالے سے کوئی عددی ہدف مقرر نہیں کیا گیا تھا، جبکہ کارکردگی میں زیادہ تر سرگرمیوں کی تفصیلات دی گئیں، منشیات کے نقصانات میں کمی کا قابل تقابل نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

22 جولائی کو صوبائی وزیر ایکسائز نے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر 2 پولیس اور 2 ایکسائز اسکواڈز بنانے کا اعلان کیا اور ایک ماہ میں نمایاں بہتری کا وعدہ کیا۔

14 ستمبر کو موٹروے پولیس نے پنجاب میں 243 کلوگرام منشیات پکڑنے کی اطلاع دی، جس میں 155 کلوگرام افیون اور 88 کلوگرام چرس شامل تھی۔ رپورٹ کے مطابق یہ منشیات خیبرپختونخوا سے منتقل کی جارہی تھی۔

21 ستمبر کو پشاور میں 720 کلوگرام چرس اور 240 کلوگرام افیون سمیت 960 کلوگرام منشیات کی بڑی کھیپ پکڑی گئی۔

اسی عرصے میں پشاور میں مبینہ مصنوعی منشیات بنانے والی 2 جگہوں پر کارروائی کا بھی ذکر کیا گیا، جہاں 4,500 گولیاں، کیمیکلز اور مشینری برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروباری نیٹ ورکس

وائٹ پیپر میں قومی سطح پر اسمگلنگ سے ہونے والے ممکنہ ٹیکس نقصانات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق تمباکو سے 300 ارب روپے، پٹرولیم سے 270 ارب روپے، ٹائروں اور لبریکنٹس سے 106 ارب روپے، ادویات سے 60 سے 65 ارب روپے اور چائے سے 10 ارب روپے سالانہ نقصان کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔

18 نومبر 2025 کو کسٹمز نے سگریٹ بنانے کے خام مال اور دیگر اشیا لے جانے والی گاڑیوں سے متعلق 27.4 ملین روپے کا کیس رپورٹ کیا۔

19 نومبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی گاڑی سے 51 ملین روپے سے زائد مالیت کے غیر قانونی سگریٹ، کپڑا اور چھالیہ پکڑی گئی۔

30 نومبر کو نظام پور کے قریب 50 ملین روپے مالیت کا اسمگل شدہ سامان پکڑا گیا، جس میں 2,200 کلوگرام چھالیہ اور غیر ملکی سگریٹ شامل تھے۔

7 دسمبر کو خیبرپختونخوا میں مختلف کارروائیوں کے دوران 74.4 ملین روپے مالیت کا سامان پکڑا گیا، جس میں 12,200 کلوگرام چھالیہ، 4,021 سگریٹ سلیوز اور 170 ٹائر شامل تھے۔

23 دسمبر کو تقریباً 197 ملین روپے مالیت کی اشیا اور 19 نان ڈیوٹی پیڈ گاڑیاں پکڑی گئیں۔

4 جنوری 2026 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں 51.8 ملین روپے کے کیسز سامنے آئے، جن میں ٹائر، ادویات، سگریٹ اور گاڑیاں شامل تھیں۔

7 جنوری کو پشاور کسٹمز نے ایک ٹرک سے 79.5 ملین روپے مالیت کا سامان پکڑا، جس میں 11,100 سگریٹ سلیوز اور 60,000 ہُکّہ فلیور کے ڈبے شامل تھے۔

14 جنوری کو ایک ہفتے کے دوران 101.91 ملین روپے مالیت کی اشیا اور گاڑیاں پکڑی گئیں۔

21 جنوری کو 3 کارروائیوں میں 170 ملین روپے مالیت کی اشیا اور گاڑیاں پکڑے جانے کی اطلاع دی گئی۔

لکڑی کی غیر قانونی کٹائی اور اسمگلنگ

وائٹ پیپر میں محکمہ جنگلات سے متعلق کارروائیوں کو بھی صوبائی نگرانی کے امتحان سے جوڑا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق 1 سے 19 مئی 2026 تک 233 کارروائیوں میں 6,770 مکعب فٹ لکڑی اور 73,105 کلوگرام ایندھن کی لکڑی برآمد کی گئی جبکہ 59 گاڑیوں اور 31 غیر قانونی آرا مشینوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔

15 جون کو مہوڈنڈ وادی میں مبینہ غیر قانونی کٹائی اور لکڑی کی اسمگلنگ کے الزام میں 2 جنگلاتی محافظوں کو معطل کرکے تحقیقات کا حکم دیا گیا۔

2 جولائی کو کسٹمز نے 2 ہفتوں کے دوران 1.163 ارب روپے مالیت کی اسمگل شدہ اشیا اور نان ڈیوٹی پیڈ گاڑیاں پکڑنے کی اطلاع دی۔

پولیس کے اختیارات میں سیاسی کردار پر سوال

وائٹ پیپر میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی حکومت کی جانب سے پولیس افسران کی تعیناتیوں میں سیاسی اختیار بڑھانے کی کوشش پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

دستاویز کے مطابق فروری میں حکومت نے اعلیٰ پولیس افسران کی تعیناتیوں میں وزیراعلیٰ کی منظوری کے اختیارات سے متعلق عدالتی فیصلے کو چیلنج کیا۔

ستمبر میں صوبائی کابینہ نے پولیس کے اعلیٰ افسران کی تعیناتی اور پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی سے متعلق اختیارات وزیراعلیٰ کے دفتر کے ذریعے بڑھانے والے مسودے کی منظوری دی۔

وائٹ پیپر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی بحران کے دوران پولیس کمان میں سیاسی اختیار بڑھانے سے پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

سیکیورٹی بحران کے دوران سہیل آفریدی کی ترجیع عمران خان کی رہائی

وائٹ پیپر میں 18 ستمبر کے کوہاٹ حملے کے 3 روز بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پریس کانفرنس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق اس پریس کانفرنس میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد مارچ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ وائٹ پیپر میں اس موقع کو صوبے کے سیکیورٹی بحران کے دوران وزیراعلیٰ کی ترجیحات کا جائزہ لینے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

جنازوں میں عدم شرکت سے متعلق متضاد دعوے

وائٹ پیپر میں بنوں کے شہری متاثرین کے جنازوں میں وزیراعلیٰ کی عدم شرکت کی ایک رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

تاہم اسی دستاویز میں کوہاٹ حملے کے متاثرین کے جنازے سے متعلق ایک سیاسی الزام کو حتمی حقیقت تسلیم نہیں کیا گیا اور واضح کیا گیا ہے کہ بعض الگ رپورٹس میں وزیراعلیٰ کی جانب سے زخمیوں اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کا ذکر موجود ہے۔

صوبائی حکومت سے فوری طور پر کیا اقدامات کرنے کا مطالبہ؟

وائٹ پیپر میں صوبائی حکومت کے لیے 30 روز اور 60 روز کی مدت کے ساتھ متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

30 روز کے اندر انسداد دہشتگردی محکمہ کے لیے منظور اور جاری کیے گئے فنڈز، خریدے گئے اور فراہم کیے گئے آلات اور ان کے استعمال کی تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اسی مدت میں ایپکس کمیٹی کے زیر التوا فیصلوں، ان پر عملدرآمد اور ذمہ دار محکموں کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

60 روز کے اندر پولیس اور انسداد دہشتگردی محکمہ کی تیاری کا جائزہ لینے، حساس یونٹس میں حفاظتی خامیوں کی تحقیقات اور سیکیورٹی انتظامات کا معائنہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وائٹ پیپر میں ہر سہ ماہی ضلعی سیکیورٹی نتائج شائع کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے، جس میں جانی نقصانات، جرائم سے حاصل ہونے والی رقم کی ضبطگی اور متاثرین کو دی جانے والی امداد کی تفصیلات شامل ہوں۔

مجموعی نتیجہ

دستاویز کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ دہشتگردی میں اضافے، سیکیورٹی اقدامات کی عدم تکمیل اور پولیس کے معاملات میں سیاسی اختیار بڑھانے کی کوششوں کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

وائٹ پیپر میں خیبرپختونخوا حکومت سے سیکیورٹی اور اخراجات سے متعلق فیصلوں کی آزادانہ جانچ، ذمہ داری متعلقہ عہدیداروں کے تعین اور نتائج عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp