چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک شکایت ارسال کر دی گئی ہے۔ یہ درخواست عشبہ کامران نامی شہری کی جانب سے سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو موصول ہوئی، جس میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کی عدم تعمیل اور آئینی حدود سے تجاوز کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
درخواست کے متن کے مطابق، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلے کی تعمیل نہیں کی جس کے تحت سرکاری منصوبوں میں ذاتی تشہیر پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین و قانون کی نظر میں کوئی بھی عہدہ دار یا ادارہ بالاتر نہیں ہے، اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد سب کے لیے لازم ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کی استدعا لے کر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا تھا، تاہم عدالت عالیہ نے حکم پر عمل کرانے کے بجائے الٹا درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا۔
سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اس تمام معاملے کی آئینی و قانونی شقوں کے تحت شفاف جانچ پڑتال کرے۔ مزید برآں، آئین پاکستان کے آرٹیکل 189، 190 اور 209 کے تحت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
درخواست میں کونسل سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاملے کی حقیقت کا تعین کرنے کے لیے 16، 23 اور 24 ستمبر کی عدالتی کارروائی کی سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج کو محفوظ بنانے کا فوری حکم جاری کیا جائے۔














