چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس کیوں دائر ہوا؟

منگل 29 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک شکایت ارسال کر دی گئی ہے۔ یہ درخواست عشبہ کامران نامی شہری کی جانب سے سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو موصول ہوئی، جس میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کی عدم تعمیل اور آئینی حدود سے تجاوز کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

درخواست کے متن کے مطابق، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلے کی تعمیل نہیں کی جس کے تحت سرکاری منصوبوں میں ذاتی تشہیر پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین و قانون کی نظر میں کوئی بھی عہدہ دار یا ادارہ بالاتر نہیں ہے، اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد سب کے لیے لازم ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کی استدعا لے کر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا تھا، تاہم عدالت عالیہ نے حکم پر عمل کرانے کے بجائے الٹا درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اس تمام معاملے کی آئینی و قانونی شقوں کے تحت شفاف جانچ پڑتال کرے۔ مزید برآں، آئین پاکستان کے آرٹیکل 189، 190 اور 209 کے تحت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

درخواست میں کونسل سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاملے کی حقیقت کا تعین کرنے کے لیے 16، 23 اور 24 ستمبر کی عدالتی کارروائی کی سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج کو محفوظ بنانے کا فوری حکم جاری کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی وزیر داخلہ کا اسلام آباد پولیس لائنز اور پاکستان مونومنٹ کا دورہ، پاکستانی پرچم کو بوسہ بھی دیا

بحیرۂ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملے، بلغاریہ کا روسی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ

صارفین کو 1.2 ارب روپے کا ریلیف، بینکنگ محتسب نے 29 ہزار سے زائد شکایات نمٹا دیں

پاکستان سے یورپ کی جانب غیر قانونی نقل مکانی میں 64 فیصد کمی

’آج بھی خود کو بس کنڈکٹر سمجھتا ہوں‘، رجنی کانت نے بس کنڈکٹر کی ملازمت کو اداکاری سے بہتر کیوں قرار دیا؟

ویڈیو

دہشتگردی کے خلاف ایک ملک میں 2 پالیسیاں نہیں چل سکتیں، اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ کی مشترکہ بریفنگ

3 مرتبہ حکومت کے باوجود پی ٹی آئی دیر، پشاور موٹروے بنانے میں ناکام، عوام کا احتجاج

میری بیٹی ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسی سائنسدان بننا چاہتی تھی، کاش! میں نے ایجنٹ کی تصدیق کر لی ہوتی، لائبہ کے والد کی دردناک روداد

کالم / تجزیہ

پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے؟

میری موت، میری مرضی

کیا پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمان سے کچھ سیکھ پائے گی؟