ٹیکنالوجی اپنانا کافی نہیں، اسے تخلیق کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی، بلال بن ثاقب

منگل 29 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ ہارورڈ اسلامک فنانس کانفرنس میں خصوصی گفتگو میں شرکت کی، جہاں اسلامی مالیات، بلاک چین، ڈیجیٹل اثاثوں اور نئی ٹیکنالوجی کے مستقبل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

’بلاک چین اور اسلامی مالیات کا مستقبل‘ کے عنوان سے ہونے والی اس نشست میں بلال بن ثاقب کے ساتھ ایم آئی ٹی سلون اسکول آف مینجمنٹ کے سینئر لیکچرر عمران سعید بھی شریک تھے۔ گفتگو میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے جدید ضابطہ جاتی نظام اور شریعت کے مطابق مالیاتی ڈھانچے کی تشکیل سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

اسلامی سنہری دور سے جدید ٹیکنالوجی تک

بلال بن ثاقب نے اسلامی دنیا کے سنہری علمی دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں اس ورثے کو آگے بڑھانے کے لیے صرف نئی ٹیکنالوجی اپنانا کافی نہیں، بلکہ تحقیق، مہارت، علم اور ایسے اداروں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو ٹیکنالوجی کو خود تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

انہوں نے کہاکہ ماضی کا احترام صرف اسے یاد کرنے سے نہیں بلکہ نئی چیزیں تخلیق کرنے سے کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق نیا سنہری دور ماضی میں واپس جانے کا نام نہیں بلکہ دوبارہ علم پیدا کرنے، صلاحیتیں تعمیر کرنے اور انسانی مسائل کے حل تلاش کرنے کا عمل ہے۔

مالیاتی ٹیکنالوجی میں جامعات اور ماہرین کا کردار

کانفرنس میں اس امر پر بھی گفتگو کی گئی کہ جامعات، مالیاتی ادارے، کاروباری افراد اور مستند شریعہ ماہرین ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کے لیے باہمی تعاون کیسے بڑھا سکتے ہیں۔

شرکا نے سرحد پار رقوم کی منتقلی، کاروباری شعبے کے لیے مالی معاونت اور مالی اثاثوں کو ڈیجیٹل شکل دینے سمیت مختلف ممکنہ شعبوں پر تبادلہ خیال کیا۔

اس دوران اس بات کو اہم قرار دیا گیا کہ نئی ٹیکنالوجی کا مقصد محض جدت نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے ذریعے مالی خدمات کو عام لوگوں کے لیے کم خرچ، آسان اور قابل اعتماد بنانا بھی ضروری ہے۔

پاکستان کے ورچوئل اثاثہ جات کے نظام پر روشنی

پاکستان میں اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بلال بن ثاقب نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے نئے امکانات سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ مالیاتی نظام سے وابستہ ذمہ داریوں، نگرانی اور عوام کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026، پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو اس شعبے میں لائسنس جاری کرنے اور نگرانی کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

ان کے مطابق اتھارٹی کی جانب سے نئی مالیاتی ٹیکنالوجی کی آزمائش کے لیے ضابطہ جاتی طریقہ کار، عدم اعتراض سرٹیفکیٹ اور باقاعدہ لائسنس کے حصول کے راستے بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔

بلال بن ثاقب نے واضح کیا کہ قوانین اور ضابطہ جاتی فریم ورک بنانا صرف پہلا مرحلہ ہے، اصل ضرورت ان پر موثر عمل درآمد، صارفین کے تحفظ اور متعلقہ اداروں کی صلاحیت بڑھانے کی ہے۔

’قواعد بنانا آغاز، عوام کا تجربہ اصل امتحان‘

بلال بن ثاقب نے کہاکہ قواعد بنانا صرف آغاز ہے، اصل امتحان عوام کا تجربہ ہے۔ ان کے مطابق کسی ٹیکنالوجی کے کام کرنے کا جائزہ صرف اس بنیاد پر نہیں لیا جانا چاہیے کہ وہ تکنیکی طور پر کامیاب ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ لوگ اسے اپنے حقوق اور ممکنہ خطرات کو سمجھتے ہوئے استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہاکہ صارفین کے لیے کسی مسئلے کی صورت میں مدد حاصل کرنے کا واضح راستہ بھی موجود ہونا چاہیے۔

شریعت کے مطابق مالیاتی مصنوعات کی تیاری

اسلامی مالیات کے تناظر میں گفتگو کے دوران ریگولیٹری اداروں اور شریعہ ماہرین کے کردار پر بھی بات ہوئی۔

شرکا نے اس بات کا جائزہ لیا کہ دونوں فریق اپنی الگ الگ ذمہ داریاں برقرار رکھتے ہوئے نئی مالیاتی مصنوعات کی تیاری میں کس طرح معاونت کرسکتے ہیں۔ اس موقع پر ورچوئل اثاثہ جات کے لیے شریعت کے مطابق مالیاتی نظام تشکیل دینے کے مواقع اور درپیش چیلنجز بھی زیر بحث آئے۔

نوجوانوں کے لیے مشترکہ تحقیق پر زور

طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد سے گفتگو کرتے ہوئے بلال بن ثاقب نے مسلم ممالک کے درمیان عملی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے مشترکہ تحقیق، مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ٹیموں کی تشکیل اور نگرانی کے تحت نئی مالیاتی ٹیکنالوجی کی آزمائش کو تعاون کے اہم راستوں میں شمار کیا۔

بلال بن ثاقب نے کہاکہ مشترکہ ماضی لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے، لیکن مشترکہ کام انہیں سمت فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق اتحاد صرف تقریروں میں بیان ہونے والی چیز نہیں ہونا چاہیے بلکہ نوجوان محققین کو بھی عملی طور پر اس کا تجربہ ہونا چاہیے۔

ہارورڈ اسلامک فنانس کانفرنس کے 29ویں سال کے موقع پر اس سال کانفرنس کا موضوع عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلی، استحکام، تنوع اور اسلامی مالیات کے کردار پر مرکوز تھا۔

کانفرنس کا انعقاد ہارورڈ یونیورسٹی مسلم ایلومنائی اور ہارورڈ اسلامک سوسائٹی کی جانب سے کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp