نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومت کے تمام اداروں کی مشترکہ کوششوں اور ’پورے حکومتی نظام‘ کے مربوط انداز میں کام کرنے کی عکاس ہے۔
موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے فیول ریلیف اسکیم کا ملک بھر میں 17 ستمبر سے آغاز کیا گیا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے نتیجے میں عوام پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو کم کرنے کے لیے سبسڈی کا اعلان کیا تھا۔
فیول سبسڈی اسکیم پر جائزہ اجلاس
اسحاق ڈار کی زیر صدارت منگل کو قومی اسٹیئرنگ کمیٹی برائے فیول سبسڈی کا اجلاس ہوا، جس میں اسکیم پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔
Upon his return from New York today, Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 chaired a meeting of the National Steering Committee on Fuel Subsidy to review the implementation of the Prime Minister’s Special Fuel Relief Scheme.
The Committee… pic.twitter.com/sbVwyacQVy
— Office of the Deputy Prime Minister (@DPM_PK) September 29, 2026
نائب وزیراعظم نے کہاکہ وزارت اطلاعات و ٹیکنالوجی، وزارت پیٹرولیم، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور تمام صوبوں نے اسکیم پر عملدرآمد کے لیے مربوط اور مشترکہ کوششیں کی ہیں۔
انہوں نے مستحق افراد کو سہولت فراہم کرنے اور ملک بھر میں خدمات کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اداروں کے درمیان مسلسل رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اب تک تقریباً 76 لاکھ رجسٹریشنز کامیابی سے مکمل کی جاچکی ہیں، جبکہ ٹوکن استعمال کرنے کا عمل دوسرے ہفتے میں داخل ہوگیا ہے۔ اب تک 77 لاکھ 10 ہزار ٹوکنز استعمال کیے جاچکے ہیں۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے اطلاعات و ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نائب وزیراعظم آفس طارق باجوہ، وفاقی و صوبائی سیکریٹریز جبکہ اسٹیٹ بینک، اوگرا، نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے حکام نے شرکت کی۔
کس گاڑی کے لیے کتنی سبسڈی؟
فیول ریلیف اسکیم کے تحت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 20 لیٹر کے کوٹے پر فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جارہی ہے، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر کے کوٹے پر فی لیٹر 100 روپے سبسڈی فراہم کی جاتی ہے۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور ایندھن کی قیمتیں
مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر شروع ہونے والی لڑائی کے باعث تیل کی ترسیل کے اہم راستوں میں خلل پیدا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ دو ماہ کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے کہا ہے کہ رواں سال عالمی سطح پر تیل کی رسد اور طلب میں پہلے کے اندازوں سے بھی زیادہ کمی آئے گی۔
ایجنسی کے مطابق ایران جنگ کے خاتمے میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی معمول کی ترسیل 2027 تک بحال ہونے میں تاخیر ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
ایندھن کی قیمتوں کا روزانہ تعین
حکومت پاکستان نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث اب ایندھن کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
اس سے قبل حکومت مارچ کے آغاز سے ایندھن کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کا اعلان کرتی رہی تھی، جس کے ساتھ ایندھن کے استعمال میں کمی لانے کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے گئے۔
وفاقی حکومت نے اپریل میں بھی عوام کو سبسڈی والے ایندھن کی فراہمی کے لیے ٹارگٹڈ ریلیف اقدامات کا اعلان کیا تھا۔














