صبح کے سحر انگیز اُجالے سے قبل جب اسلام آباد کی فضائیں ہنستے جاگتے دن کی آمد سے بے خبر خوابیدہ ہوتی ہیں، تو ایک گھر کے اندر عزم اور تیاری کا ایک باوقار منظر گھڑی کی چال کے ساتھ ہم آہنگ ہوا۔ آئینے کے سامنے کھڑی وہ استری کیے ہوئے اُجلے، بے داغ اور صاف شفاف سفید کپڑوں میں زیب تن ہوئی؛ بالوں کا نفاست سے باندھا ہوا جوڑا، کلائی پر ہلکی سی ٹِک ٹِک کرتی گھڑی اور چہرے پر تھکن کے باوجود ایک پرسکون، اٹل مسکراہٹ۔ ۔ ۔ یہ صرف ایک عام لباس نہیں، بلکہ زندگی اور موت کے نازک کینوس پر اُمید کے رنگ بھرنے کا پروانہ ہے۔
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اِس سفید یونیفارم میں ملبوس ایک نرس کی اصل زندگی کیسی ہوتی ہے؟ کیا ہم نے کبھی اِن گمنام فرشتوں کی جاگتی راتوں، کٹھن فیصلوں اور اندرونی طوفانوں کے بارے میں سوچا ہے جو ہر روز اسپتال کے کوریڈورز میں خاموشی سے لڑی جاتی ہیں؟
اسلام آباد کے معروف پمز (PIMS) اسپتال میں بطور نرسنگ سپروائزر پچھلے 32 سالوں سے انسانیت کی خدمت کرنے والی ثمینہ یعقوب کے ساتھ جب بات کی گئی، تو اُن کی آواز میں چھپا درد، خلوص اور عزم اس پیشے کی اصل روح کو بے نقاب کر گیا۔ ان سے کی گئیں کچھ باتیں اور کچھ یادیں پیش ہیں۔
جب ثمینہ سے یہ پوچھا گیا کہ انہوں نے اس کٹھن اور جان جوکھوں والے پیشے کا انتخاب کیوں کیا، تو اُن کی آنکھوں میں ماضی کے جھروکوں سے پرانی یادیں تازہ ہو گئیں؛ وہ بتاتی ہیں :
“میں نے اپنے والد کو اسپتال کے اس بیڈ پر دیکھا تھا۔ وہاں جب نرسز ٹریٹمنٹ کے لیے آتی تھیں، تو میں ان سے بہت زیادہ امپریس ہوئی۔ میں نے اس پیشے کو اسی جذبے کے تحت چنا۔ میرا یہ تجربہ بہت شاندار رہا ہے، اور مجھے فخر ہے کہ میں ایک نرس ہوں۔ جب انسان اپنے آپ کو یا اپنے پیاروں کو اس جگہ پر رکھ کر دیکھتا ہے، یہ سوچ کر کہ یہاں میرا اپنا بھائی، میری ماں یا میرے والد بھی ہو سکتے ہیں، تو اس کے احساسات بالکل بدل جاتے۔ بس میرا ارادہ مجھے یہاں لے آ یا۔”
32 سال کا طویل سفر اور فرنٹ لائن کی حقیقتیں:
تین دہائیوں پر محیط اس طویل سفر میں اچھے اور برے ادوار ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے ثمینہ کہتی ہیں کہ
“یہ 32 سال کا طویل تجربہ ہے، زندگی میں اتار چڑھاؤ تو آتے رہتے ہیں اور ہر طرح کے لوگ ملتے ہیں۔ اتنی مشکلات اور مناظر دیکھنے کے بعد ہم یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارا پروفیشن بہت مقدس ہے اور ہمیں اسے مکمل رسپیکٹ دینی ہے۔ ڈیوٹی تو آخر ڈیوٹی ہے اور سرکاری ڈیوٹیز میں ہمیں ہر سطح پر جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔ چاہے تھکن کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو، ہمیں ہر مریض کو صرف ‘مریض’ سمجھ کر دیکھنا ہوتا ہے، کیونکہ یہی ہماری ڈیوٹی کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔”
زخم جو گھر تک ساتھ جاتے ہیں:
اسپتال کی چار دیواری کے اندر ہونے والے دلخراش واقعات اور جذباتی بوجھ گھر کی دہلیز تک پیچھا کرتے ہیں۔ ایک انتہائی دردناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں:
“ابھی سانحہ پمز کے وقت ہم پورا ایک ہفتہ شدید ذہنی دباؤ اور ڈسٹربنس میں رہے۔ گھر میں ہمارے اپنے چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں، جنہیں سنبھالنا ہماری ذمہ داری ہے، لیکن اسپتال کا فوکس بھی چھوڑا نہیں جا سکتا۔ یہ جذباتی بوجھ گھر جا کر بھی کم نہیں ہوتا؛ ہمیں اگلے دن کی پلاننگ گھر میں بیٹھ کر کرنی پڑتی ہے کہ کس مریض کو کیا چیز درکار ہے اور اسے کیسے ہینڈل کرنا ہے۔ ہمارا فون چوبیس گھنٹے آن رہتا ہے، اس لیے ہم گھر جا کر بھی مکمل طور پر ذہنی سکون یا اسٹیبلٹی حاصل نہیں کر پاتے۔ البتہ بچوں اور اپنےشوہر یا جو ہمارے قریبی لوگ ہوتے ہیں ان کے ساتھ بیٹھ کر کچھ باتیں شیئر کر کے دل کا بوجھ ہلکا کر لیا جاتا ہے۔”
وہ یادگار مریض جو دل میں بس گیا:
16 سال پرانا ایک ایسا واقعہ جو آج بھی ان کے دل کی گہرائیوں میں زندہ ہے، وہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں:
“میرا ایک کارڈیک کا مریض تھا، جس کا نام وقاص تھا، اُس نے سی اے کیا ہوا تھا۔ وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا اور علاج کے لیے ہم پر بہت زیادہ ڈیپینڈ کرتا تھا، مجھ سے اس کی کافی اٹیچمنٹ ہو گئی تھی۔ جب وہ اس مرض کے خلاف جنگ ہارنے لگا اور دنیا سے جانے کا وقت آیا، تو اس کی آخری آواز اور مناظر آج بھی میرے دل پر نقش ہیں۔ میں نہ اس کو بھول سکتی ہوں اور نہ اس کا گاؤں۔ آج بھی جب میں گھر میں کوئی دعا کرواتی ہوں، تو اس کا نام لازمی شامل کرتی ہوں۔”
دعاؤں کا صلہ لاذمی ملتا ہے، اس کی وضاحت انھوں نے کی کہ
“قدرت کا نظام دیکھیے؛ اسی مخلص خدمت اور دعاؤں کا صلہ مجھے یوں ملا کہ ایک دن ایک مریض نے مجھے دل سے دعا دی، اور اس کے اگلے ہی روز میرا حج مشن کا سرکاری لیٹر آگیا ! سعودیہ میں آرمی کمانڈ کے تحت جو ہمارا ہسپتال سیٹ اپ ہوتا ہے، وہاں جا کر بھی مجھے حجاجِ کرام اور مریضوں کی خدمت ہی نصیب ہوئی۔ اور یہ تمام دعائیں پھر ہمارے اپنے بچوں کی زندگی میں لوٹ کر آتی ہیں، جب وہ تعلیم اور زندگی کے ہر میدان میں کامیاب ہوتے ہیں۔”
ٹیم ورک اور زبان کا تنوع:
ہسپتال کے ماحول اور مریضوں کو ڈیل کرنے کے بارے میں وہ بتاتی ہیں:
“جب کنڈیشن اس طرح کی ریورس ہو جاتی ہے تو ہمارے سینئر ہمارے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ ہم خود سے کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے، سینئر کو آن بورڈ لے کر چلنا ہوتا ہے، کیونکہ تھرو پروپر چینل سب ہوتا ہے۔ جہاں تک مریضوں کی بات ہے، تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ان کی اپنی لینگویج میں ان سے بات کریں۔ نرس کے اندر یہ کوالٹی ہونی چاہیے کہ وہ زبانوں سے آگاہ ہو۔ ہمارے پاس پنجابی اور پشتو بولنے والے مریض زیادہ آتے ہیں، تو ہم اپنے پٹھان یا پنجابی عملے کو آگے کرتے ہیں تاکہ مریض اور اس کے اٹینڈنٹس مطمئن ہو سکیں۔”
معاشرے اور حکومتی نظام سے ایک عاجزانہ اپیل:
بات جب معاشرتی رویوں اور فرنٹ لائن ورکرز کو درپیش چیلنجز کی آئی، تو ثمینہ نے بڑے پتے کی بات کی، وہ کہتی ہیں:
“عام لوگوں سے بس یہی گزارش ہے کہ جب آپ اسپتال آئیں، تو ڈاکٹر، نرس، اور یہاں تک کہ صفائی کرنے والے عملے (سویپر) کے ساتھ بھی اپنا رویہ اچھا رکھیں۔ آپ کا تعاون آپ کے اپنے مریض کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ کبھی کبھار دل کے مریض یا فالج کے شکار افراد کو علاج کے دوران دوسری کمپلیکیشنز خود بخود لاحق ہو جاتی ہیں، اس میں نرس یا ڈاکٹر کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔”
“حکومت کی سطح پر ہمارے لیے سیمینارز یا ورکشاپس ہونی چاہئیں تاکہ نرسز اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں۔ نرسنگ اب ایم فل کی سطح تک جا چکی ہے، لیکن دوسری طرف سب سے بڑا دباؤ اس وقت آتا ہے، جب حکومتی سطح پر یا کسی سیاسی شخصیت کا فون آ جاتا ہے، جس سے سارا ماحول اسٹرس فل ہو جاتا ہے اور ہمیں باقی تمام مریضوں کو چھوڑ کر ایک ہی طرف توجہ دینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ معاشرے کو سمجھنا ہوگا کہ ہمیں ایک پرسکون ماحول کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا سکیں۔”
انٹرویو ختم ہوتے ہی ثمینہ یعقوب کے قدم دوبارہ اسی اسپتال کے طویل گنجان کوریڈور کی طرف اٹھ گئے۔ باہر دنیا اپنے معمولات میں مصروف تھی، سیاست، شور اور ہنگاموں سے بھری دنیا، لیکن اس چار دیواری کے اندر ایک ایسی دنیا بھی آباد تھی جہاں ہر سیکنڈ ایک نئی جنگ لڑی جا رہی تھی۔
ایک نرس کی زندگی صرف ڈیوٹی کے گھنٹوں کا حساب نہیں ہے؛ یہ ان گنت سسکیوں، ٹوٹتے دلوں اور پھر جوڑ دیے جانے والے حوصلوں کی ایک لازوال داستان ہے۔ جب تک یہ سفید پوش فرشتے اسپتال کے وارڈز میں موجود ہیں، تب تک ہر اندھیری رات کے بعد ایک نئی صبح کی امید زندہ رہے گی۔ اور شاید یہی اس کٹھن مگر مقدس پیشے کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














