ایشین گیمز کے منتظمین نے منگل کو پاکستان اور جنوبی کوریا کی مردوں کی والی بال ٹیموں کو پیش آنے والی سفری غلطی پر معذرت کی ہے، جس کے باعث ایک روز قبل پاکستان اور ازبکستان کے درمیان میچ 45 منٹ تاخیر کا شکار ہوا جبکہ جنوبی کوریا کی ٹیم کا تربیتی سیشن منسوخ کرنا پڑا۔
آئیچی ناگویا میں جاری ایشین گیمز پہلے ہی انتظامی مسائل کی زد میں ہیں، جن میں 17 ہزار سے زیادہ کھلاڑیوں اور عہدیداروں کے لیے رہائش اور سفری سہولیات کی فراہمی اہم مسائل میں شامل ہیں۔
جنوبی کوریا کے والی بال کھلاڑیوں کو پیر کی صبح تائیوان کے خلاف گروپ میچ سے قبل اپنا تربیتی سیشن منسوخ کرنا پڑا۔ یہ میچ بعد ازاں اسی روز کھیلا گیا۔
دوسری جانب پیر کو پاکستان کی مردوں کی والی بال ٹیم کو ازبکستان کے خلاف میچ کے لیے غلط میدان میں لے جایا گیا، جس کے باعث مقابلہ 45 منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔
مقامی منتظمین کی کمیٹی کی ترجمان نے منگل کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان اور جنوبی کوریا کی مردوں کی والی بال ٹیمیں ایک ہی رہائش گاہ میں قیام پذیر تھیں اور دونوں ٹیمیں غلط منزل کی جانب جانے والی بسوں میں سوار ہوگئیں۔
انہوں نے کہا، ’ہم اس تکلیف پر دونوں ٹیموں سے دلی معذرت خواہ ہیں۔‘
پاکستانی ٹیم کے کپتان مراد جہاں نے غلط مقام پر پہنچنے کے بعد انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے اس صورتحال کو ’ایک اور بدانتظامی‘ قرار دیا۔
پاکستانی ٹیم نے اس خلل کو نظر انداز کرتے ہوئے پول اے کے میچ میں ازبکستان کو 0-3 سے شکست دے کر مسلسل دوسری کامیابی حاصل کی۔
دوسری جانب جنوبی کوریا نے تائیوان کو 1-3 سے شکست دی۔
منتظمین اس سے قبل بھی ایشین گیمز کے دوران پیش آنے والے سفری اور انتظامی مسائل پر معذرت کرچکے ہیں۔














