طالبان رجیم کی بہتری اسی میں ہے کہ دہشتگردی ختم کریں، میجر جنرل (ر) طارق رشید

بدھ 30 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاک فوج میں خدمات انجام دینے والے میجر جنرل (ریٹائرڈ) طارق رشید خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان رجیم عوامی حمایت کے بغیر زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی، اور ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ دہشتگردی کا خاتمہ کرکے حکومت میں تمام طبقات کو شامل کریں۔

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان نے افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کے کیمپوں، مواصلاتی رابطوں، گرفتار افراد اور پکڑے جانے والے اسلحے کے شواہد افغان حکام کے سامنے رکھے ہیں، جبکہ گرفتار دہشتگرد بھی ننگرہار، پکتیا اور زابل سمیت مختلف افغان علاقوں میں تربیت حاصل کرنے کے بیانات دیتے ہیں۔

’طالبان حکومت کے قیام کے بعد دہشتگردی میں اضافہ ہوا‘

جنرل طارق رشید نے کہاکہ کوئی بھی حکومت عوام کی حمایت کے بغیر طویل عرصے تک قائم نہیں رہ سکتی۔ فروری 2020 میں دوحہ معاہدے کے تحت ایک ہموار سیاسی منتقلی کی توقع تھی، لیکن اس کے بجائے طالبان نے مسلح طاقت کے ذریعے کابل پر قبضہ کیا اور امریکی افواج کو رات کے اندھیرے میں افغانستان سے نکلنا پڑا۔

انہوں نے کہاکہ طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جبکہ پاکستان بارہا افغان حکومت کو دہشتگردوں کی موجودگی کے شواہد فراہم کر چکا ہے۔

جنرل طارق رشید نے کہاکہ افغانستان کی اندرونی صورتحال سے پاکستان کو براہ راست کوئی سروکار نہیں ہے، پاکستان کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

ان کے مطابق پاکستان نے دہشتگردی روکنے کے لیے افغانستان کو انتباہ بھی کیا، ضرورت پڑنے پر افغانستان کے اندر کارروائیاں بھی کیں، لیکن اس کے باوجود دہشتگرد گروہوں کی پاکستان آمد کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ براہ راست رابطہ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ایران اور چین سمیت خطے کے دیگر ممالک کو بھی شامل کرکے کابل پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ تمام فریقوں کو حکومت میں شامل کرے اور دہشتگرد تنظیموں کو اپنی سرزمین سے ختم کرے۔

جنرل طارق رشید نے کہاکہ افغانستان میں مختلف دھڑے طالبان حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اگر طالبان نے عوامی مطالبات کو نظرانداز کیا تو ان کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ براہ راست رابطہ برقرار رکھنا چاہیے اور ایران، چین اور دیگر ممالک کو ساتھ ملا کر افغان حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اپنے عوام کی آواز سنے۔

’افغانستان کو بیرونی ممالک سے اربوں ڈالر ملنے پر سوال اٹھنا چاہیے‘

جنرل طارق رشید کے مطابق افغانستان کو اب بھی بیرون ملک سے سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر مل رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 2021 میں افغانستان کو قریباً 2.3 ارب ڈالر جبکہ 2022 میں تقریباً 4 ارب ڈالر ملے، جبکہ اس وقت بھی امریکا، برطانیہ، جرمنی، یورپی یونین اور جاپان سمیت مختلف ادارے افغانستان کو تقریباً 2 ارب ڈالر فراہم کررہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر طالبان تمام طبقات پر مشتمل حکومت نہیں بنا رہے، خواتین کی تعلیم کے حوالے سے پابندیاں برقرار ہیں اور اقلیتوں کے ساتھ بھی امتیازی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے تو عالمی طاقتیں انہیں کس بنیاد پر مسلسل مالی معاونت فراہم کررہی ہیں۔

’پاکستان کے معاشی وسائل اور دہشتگردی کا تعلق‘

جنرل طارق رشید نے کہاکہ پاکستان کے پاس قدرتی وسائل اور معاشی ترقی کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے مطابق اسٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ میں پاکستان میں تقریباً 6 سے 7 ٹریلین ڈالر کے قدرتی معدنی ذخائر کی نشاندہی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان کو 2 سے 3 سال بھی مستحکم اور پرامن ماحول مل جائے تو ملک معاشی طور پر تیزی سے ترقی کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی جوہری صلاحیت اور قدرتی وسائل اسے خطے میں اہم مقام دیتے ہیں، اسی لیے ملک کے معاشی امکانات کو روایتی اور غیر روایتی طریقوں سے متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر نشاندہی کی کہ جہاں پاکستان کا معاشی پوٹینشل اور قدرتی وسائل موجود ہیں، وہاں دہشتگردی کے واقعات بھی زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جن میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقے شامل ہیں۔

بلوچستان کا وسیع رقبہ، چھوٹے انتظامی یونٹس کی ضرورت

جنرل طارق رشید نے کہاکہ بلوچستان پاکستان کے کل رقبے کا تقریباً 44 فیصد ہے اور وہاں آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے، جس کے مقابلے میں صوبے کا رقبہ انتہائی وسیع ہے۔

ان کے مطابق اتنے بڑے رقبے کو ایک انتظامی یونٹ کے طور پر مؤثر انداز میں چلانا مشکل ہے۔

انہوں نے کہاکہ چمن سے افغانستان کی سرحد تک پختون بیلٹ کے بعض علاقوں کے علاوہ بلوچستان کے وسیع علاقوں میں آبادی بہت کم ہے، جبکہ مستونگ، نوشکی، خضدار، کوئٹہ، خاران، تربت اور گوادر سمیت وہ علاقے جہاں معاشی امکانات اور وسائل موجود ہیں، وہاں دہشتگردی کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ریکوڈک جیسے وسائل نوشکی کے علاقے میں ہیں اور ان علاقوں میں دہشتگردی کی کارروائیاں ملک کے معاشی امکانات کو متاثر کرتی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مقامی نمائندے، پولیس، پٹواری اور تحصیلدار کو اپنے علاقوں اور وہاں کے لوگوں کا علم ہوتا ہے اور وہ دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں اور مددگاروں کے خاتمے میں معاون ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اگر نوشکی، آواران یا گوادر میں کوئی واقعہ ہوتا ہے تو کوئٹہ میں بیٹھے انتظامی حکام کے لیے فوری طور پر وہاں پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ لسبیلہ اور تربت جیسے علاقوں کا کوئٹہ سے فاصلہ سینکڑوں کلومیٹر ہے، اس لیے موجودہ انتظامی ڈھانچہ عملی طور پر مشکلات کا شکار ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ ابتدا میں پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر ایک یا دو چھوٹے انتظامی یونٹس بنائے جائیں، انہیں ایک سال چلایا جائے، کمزوریوں کو دور کیا جائے اور کامیاب تجربے کو دیگر علاقوں تک بڑھایا جائے۔

اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہ ہونا بڑا مسئلہ ہے

میجر جنرل طارق رشید نے کہاکہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں نے وفاق سے اختیارات تو حاصل کرلیے لیکن ان اختیارات کو مقامی حکومتوں تک منتقل نہیں کیا گیا، حالانکہ قانون کے مطابق انہیں ایسا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے تاکہ صوبوں کے ساتھ ساتھ ڈویژن اور اضلاع بھی زیادہ خودمختار ہوں۔

ان کے مطابق چین سمیت کئی ممالک میں شہری کو تعلیم، صحت، روزگار، عدالتی نظام، سروس ڈیلیوری اور کاروباری سہولیات اپنے ہی شہر یا ضلع میں دستیاب ہوتی ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسا نظام ہونا چاہیے کہ تربت، لاڑکانہ، بہاولپور یا اٹک میں رہنے والے شہری کو بنیادی معاملات کے لیے دور دراز صوبائی دارالحکومت کا رخ نہ کرنا پڑے۔

خیبر پختونخوا میں بدانتظامی بھی دہشتگردی کے پھیلاؤ کی ایک وجہ قرار

جنرل طارق رشید نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھنے کے معاملے میں بدانتظامی بھی ایک اہم عنصر ہے۔

ان کے مطابق اگر اچھی حکمرانی ہو، عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں، بنیادی سہولیات میسر ہوں، عدالتی نظام مؤثر ہو، پولیس میں قانون کی یکساں عملداری ہو، شہری کو تھانے اور عدالت میں انصاف ملنے کا یقین ہو، تعلیم، انفراسٹرکچر اور سروس ڈیلیوری بہتر ہو تو دہشتگردوں کے لیے پیدا ہونے والے خلا کو کم کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کے دشمن اچھی اور بری حکمرانی کے درمیان موجود خلا کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

جنرل طارق رشید نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کو ایک صفحے پر ہونا چاہیے۔ جہاں بھی پاکستان کا معاشی پوٹینشل موجود ہے وہاں مؤثر حکمرانی اور امن قائم کرنا ضروری ہے۔

ان کے مطابق دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آئینی اور قانونی طریقے سے کارروائی ہونی چاہیے، جبکہ ایم پی اے، ایم این اے، کونسلر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت تمام ذمہ دار عہدیداروں کو اپنی کارکردگی پر جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔

مکہ معاہدہ اہم پیشرفت

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جنرل طارق رشید نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس مقام ہے اور خطے میں بڑھتے ہوئے تنازعات کے تناظر میں مسلم ممالک کو اپنے مسائل خود حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

سعودی عرب کے خلاف جارحیت سے اسرائیل کو فائدہ

جنرل طارق رشید نے کہا کہ یمن کے تنازع میں مختلف گروہوں کی کارروائیوں اور سعودی عرب پر حملوں سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، جس کا فائدہ اسرائیل کو پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کو پھیلانے کے بجائے اسے محدود کرنا ضروری ہے تاکہ مسلم ممالک باہمی تنازعات میں نہ الجھیں۔

ان کے مطابق سعودی عرب نے موجودہ صورتحال میں تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور مسلم ممالک کے درمیان اتحاد برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان کی امریکا اور ایران مذاکرات کے لیے کوششیں جاری

جنرل طارق رشید نے کہا کہ ایران، امریکا اور خطے کے دیگر فریقوں کے درمیان مذاکرات میں پاکستان اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور قطر اس حوالے سے سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مذاکراتی عمل میں تمام فریقوں کو میز پر لانا خطے اور دنیا کے مفاد میں ہے اور ان ممالک کے لیے بھی بہتر ہے جو براہ راست تنازعات کا حصہ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp