وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی وطن واپسی پر خیبر پختونخوا کی صورتحال پر اہم اجلاس ہوگا، ایمرجنسی سے متعلق مشاورت مکمل ہے، حتمی فیصلہ وزیراعظم کو بریفنگ کے بعد ہوگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہاکہ صدر مملکت سے وزیراعظم کی ملاقات کے بارے میں فی الحال تصدیق نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا کی حساس صورتحال کے باوجود صوبائی حکومت زمینی حقائق سے لاتعلق ہے، صوبائی حکومت کا طرز حکمرانی محمد شاہ رنگیلا جیسا ہے۔ وزیراعلیٰ کو اپنے منصب کی ذمہ داری اور صوبے کی صورتحال کی حساسیت کا احساس ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا دہشتگردی کی مذمت میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ شہدا کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن وزیراعلیٰ اور صوبائی وزرا شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ نظر نہیں آتے۔
طارق فضل چوہدری نے کہاکہ خیبر پختونخوا حکومت زمینی حقائق اور عوام کی توقعات سے کٹی ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ کے منصب کا احترام ہے، تنقید صرف ان کے طرز حکمرانی پر کی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے کام کر رہی ہے، خیبر پختونخوا کے عوام بھی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے عوام جتنے اہم پاکستانی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام کی جانوں کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت تعاون کیوں نہیں کر رہی؟














